Wednesday, November 30, 2016







ترقیاتی بجٹ کے لئے مختص رقم جون کے آخر میں وفاق کے اکاونٹ میں منتقل ہونے کا خدشہ پید اہوگیا
2015.16بجٹ میں گلگت بلتستان کے کسی بھی ممبر کو ان کے ترقیاتی منصوبوں کی سیکمیوں کی منظوری نہ مل سکی
غذر)صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان کے ممبران کو 2015.16کے ترقیاتی بجٹ سے رقم کی فراہمی نہ ہونے کے باعث ان ممبران نے جو ترقیاتی سیکمیں رکھی تھی ایک سال گزرنے کے باوجود بھی ترقیاتی بجٹ کی ریلز نہ ملنے کے باعث ان سیکیموں پر تاحال کام شروع نہیں ہوسکا جس باعث ترقیاتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ کے لئے مختص رقم جون کے اخر میں وفاق کے اکاونٹ میں منتقل ہونے کا خدشہ پید اہوگیا ہے گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کی صوبائی حکومت کو ایک سال پورے ہوگئے ہیں مگر اس ایک سال میں ممبران قانون ساز اسمبلی کے لئے ترقیاتی کاموں کی مد میں مختص رقم کی عدم فراہمی اور ممبران نے جو سیکمیں دی تھی ان کی منظوری نہ ملنے کے باعث ان ممبران کو حلقے کے عوام کی طرف سے سخت دباﺅ کاسامناہے حلقے کے عوام کی مشاورت سے ہر ممبر قانون ساز اسمبلی نے کروڑوں کے ترقیاتی منصوبوں کے کاغذات جمع کرادیئے تھے مگر تاحال نہ تو ان سیکمیوں کا کوئی پتہ نہیں چلا جس باعث اب ان ممبران کو حلقے کے عوام کے سامنے سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے 2015.16بجٹ میں گلگت بلتستان کے کسی بھی ممبر کو ان کے ترقیاتی منصوبوں کی سیکمیوں کی منظوری نہ مل سکی جس سے ایک طرف ان ممبران کو اپنے ووٹروں کے سامنے سخت پریشانی کا سامنا ہے تو دوسری طرف ترقیاتی کام شروع نہ ہونے سے خطے کے عوام کے ،مسائل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق حکومت کے ممبران نے بھی کروڑوں روپے کی سیکیں رکھی تھی ان کے رکھے گئے سیکموں کا بھی کوئی پتہ نہ چل سکا جس باعث گلگت بلتستان کے تمام ڈسٹرکٹ میں ممبران صوبائی اسمبلی کے رکھے گئے منصوبے التوا کا شکار ہوگئے ہیں اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کا کام بند ہونے سے ہزاروں مزدور بیروز گار ہوگئے ہیں اور دوسری طرف ممبران کے رکھے گئے کروڑوں کی سیکمیوں کی منظوری نہ ملنے کے باعث کئی ٹھیکدار بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں اگر ان منصوبوں کی منظوری ملتی تو ایک طرف صوبے میں کروڑوں روپے ترقیاتی بجٹ میں خرچ ہوتے تو دوسری طرف بیروزگاری میں بھی بڑی حدتک کمی اتی گزشتہ ایک سال میں ممبران کے لئے مختص رقم کی فراہمی نہ ہونے سے خطے میں ترقیاتی کام اور نئے منصوبے جمود کا شکار ہیں ۔۔۔۔۔

No comments:

Portable Hand Held Hanging Steam

مشہور اشاعتیں