تحریر : عاقب ارشدپاکستان میں جب خوبصورتی کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے گلگت بلتستان کے علاقے سرفہرست آتے ہیں سب سے خوبصورتی قدرتی حسن سے مالا مال ضلع استور کے مضافاتی یونین کونسل قمری منی مرگ میں ایک خطہ و سیاحتی مقام ایسا ہے جو سیوزرلینڈ سے بھی حد درجہ قدرتی خوبصورت ہے۔دومیل منی مرگ یونین میں واقعی ایک قدرتی سیاحتی ،تفریح کے لیے مناسب جگہ ہے ، دو میل کا مطلب ہی دو راستے دو طرح سے ملنا یا ملاپ ہے ، دومیل میں حسن و جمیل قدرتی مناظر ، پہاڑوں کا سینہ چیرتی جھیلیں ، لہلہاتے پھول ، چمکتے آبشاروں ، و ساتھ رنگی جھیل سیاحوں کو قدرت کے کرشموں کی طرف راغب کرتے ہیں ، دومیل میں رہنے کے لیے ریسٹ ہاوس ، کھانے کے لیے بہترین سسٹم ، گھوڑ سواری کے لیے گھوڑے ، جھیل کی سواری کے لیے بوٹ و دیگر سہولیات میسر ہیں۔دومیل کے لئے ابتدائی سفر استور سے باندھنا پڑتا ہے ، چیلم چوکی سے برزل ٹاپ کی طرف سے گریز یعنی منی مرگ کے لیے سفر باندھنا پڑتا ہے۔منی مرگ پہنچنے کے بعد ہیڈکوارٹر سے دائیں جانب وادی دومیل کی طرف واقعی ہے ۔انکی سواری کے لئے مقامی لوگوں نے اپنی گاڑیاں بھی رکھی ہے جو دور سے آنے والوں کے لیے گائیڈ کا کام بھی کرتے ہیںدومیل کی دائیں جانب سے آپ شابان ٹاپ سے ہوتے ہوئے دیوسائی باآسانی پہنچ سکتے ہیں اور دومیل ہی کی شمال کی طرف سے سکردو آوارد ممکن ہے ۔بائیں جانب سے قمری پرانا کشمیر روڈ سے متصل وادیاں پڑتی ہےدومیل ٹاپ کی دائیں جانب سے سرحدی علاقے منسلک ہیںدومیل سرحدی حصہ ہے یہاں آرمی کی سہولیات لازمی ہے آرمی کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتے، پاک آرمی سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرتی ہیں اور انکے لیے بہترین گیسٹ ہاوس و انفرادی کمرے مہایا کرتی ہےدومیل کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے گلگت کا ضلع استور ایک بار ضرور آ ئیے اور اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوجائے
تحریر: نبیل احمد
پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان صدیوں
سے ثقافتوں، مذاہب اور تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ اس خطے میں اسلام کے آمد سے پہلے لوگ
بدھ مت کے پیروکار تھے۔گلگت اور اردگرد کے علاقوں میں ثقافتی ورثے کا تعارف اور
بدھ مت کا پھیلاؤ قدیم سلک روٹ اور تاریخ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔تاریخی حقائق
سے پتا چلتا ہے کہمذہب بدھ مت کے قافلے گلگت سے گزرتے ہوئے کسی خانقاہ میں قیام
کرتے تھے۔ کارگاہ بدہ جسے مقامی زبان میں 'یشانی' کہتے ہیں، ساتویں صدی کے ایک
منفرد آثارِ قدیمہ کے حامل بدھ فاسفی شخصیات نے تقریباً 9 کلومیٹر کے فاصلے پر گلگت
شہر کے چٹان میں گہری کھدی ہوئی تھی۔ مہاتما بدھ کارگاہ نالے میں نقش تصیر کے ساتھ
ملحقہ قصبے بسین، کھر اور برمس میں واقع ہے۔تیسری صدی سے گیارہویں صدی تک شہر گلگت
بدھ مت کا مرکز تھا، ایک اندازے کے مطابق نقش و نگار ساتویں صدی میں مکمل ہوئی۔
مہاتما بدھ کو 1931 میں سٹوپا کی دریافت
کے بعد 1938 مہاتما بدھ سے ہی بدھ مت کی ایک خانقاہ اور تین سٹوپا کے بارے میں
400 میٹر کے کھنڈرات کے ساتھ دریافت کیا گیا تھا۔ ہر سال جاپان، کوریا اور دنیا
بھر کے ہزاروں بدھ مت کارگاہ بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لیے شہر گلگت آتے ہیں۔محکمہ
سیاحت گلگت کے اس سال 50000 سے زائد سیاحوں نے یشانی' دیکھنے کے لیے گلگت کا دورہ
کیا۔ چونکہ یشانی آثارِ قدیمہ ہےاس لیے اس کو آئندہ بر قرار رکھنے کے لیے بہتر
اقدامات کی ضرورت ہے۔ کارگاہ بدھا کو تحفظ کے لیے گلگت بلتستان کے سیاحت اور آثارِ
قدیمہ کے شعبہ جات کی توجہ کی ضرورت ہے۔ورثہ کے مقامات خاص طور پر کارگاہ بدھا غیر
ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور
قومی معیشت کے لیے آمدنی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گلگت شہر سے بدھا
جانے وال سڑک خستہ حالت میں ہے اور پر فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ تاریخی مقام سیاحوں
کے لیے آسانی سے قابل رسائی بن سکے۔۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ آثارِ قدیمہ ل
تحفظ کے لیے سکیورٹی اہلکار تعینات ہونی چائیے تاکہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کی
عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
ختم شد
\
ضلع غذر کی تاریخ اور جغرافیہ
غذر ضلع پاکستان کے گلگت بلتستان خطے کا سب سے مغربی حصہ ہے۔ اس کا دارالحکومت گاہک ہے۔ غذر گلگت اور چترال کے درمیان ایک سنگم ہے اور چین، تاجکستان کو قرمبر پاس کے ذریعے اشکومان/درقوت یاسین (جو شندور درہ کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں) سے گزرتا ہے۔ غذر ایک کثیر النسل ضلع ہے اور تین بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شینا، کھوار اور بروشاسکی. اشکومان میں وخی بولنے والے اور کچھ تاجک بھی ہیں۔ واخان راہداری کے ذریعے افغانستان سے ملتا ہے، مشرق میں ضلع ہنزہ نگر،ضلع گلگت اور ضلع دیامر سے ملتا ہے جبکہ جنوب اور مغرب میں صوبہ پختونخوا کے کوہستان،سوات اور ضلع چترال سے ملتا ہے۔ یہاں کے باشندے شینا،کھوار اور بروشسکی زبان بولتے ہیں، جغرافیائی طور پر یہ خطہ پہاڑوں میں واقع ہے اور سردی کے موسم پر یہاں برفباری بھی ہوتی ہے۔ گاہکوچ غذر کا ضلعی دار الحکومت ہے۔ غذر میں سب سے بلند ترین پہاڑی چوٹی کویو زوم ہے جس کی بلندی 6871 میٹر ہے
جو ضلع غذر اور ضلع چترال کے درمیان واقع ہے۔غذر نام ''گہرز'' کی ایک مسخ شدہ شکل ہے جس کا مطلب کھوار میں ''مہاجرین'' ہے۔ ''گھرز'' وادی گولاگمولی کا ایک گاؤں ہے جو اب گولاگمولی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب بھی چترال کے مہتر نے چترال میں اپنے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا اور انہیں گوپیوں کی طرف ہجرت پر مجبور کیا۔ وہ چترال اور گوپیوں کے درمیان کے علاقے میں آباد تھے اور اس علاقے کو غرزر کہتے تھے اور لوگ گرزک کہلاتے تھے۔ جب پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے دور اور راجگی نظام کو ختم کر کے تحصیلوں (سیاسی اضلاع) پر مشتمل ایک اور انتظامی ضلع بنایا تو اس کا نام غذر کا نام اتفاق رائے سے رکھا گیا۔ تحصیل گوپس ضلع غذر کا مرکزی حصہ ہے۔ بہت سارے گاؤں کے سرسبز و شاداب اور بہت ہی خوشگوار مقامات ہیں، جیسے شندور، پھندڑ جھیل، کھلتی جھیل؛ خلتی کی سب سے بڑی جھیل ٹراؤٹ مچھلیوں کے لیے بہت مشہور ہے۔ گاہک میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل بھی دستیاب ہے اور کچھ نجی ہوٹل بھی۔دیامر ضلع اس کے جنوب میں ہے جو دوبارہ شمالی علاقوں کا حصہ ہے۔ گاکوچ ضلع غذر کا دارالحکومت ہے۔ گوپس یاسین اور پھنڈر وادی کے درمیان سنگم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ یہ تمام وادیوں جیسے پھنڈر، یاسین، پونیالٹیک سے مرکزی جگہ ہے۔ یہ وادی دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلوں یعنی ہندوکش اور قراقرم کے درمیان واقع ہے۔غذر ضلع کی سب سے اونچی چوٹی کویو زوم (6,871 میٹر) (ہندو کش سلسلہ) ہے جو ضلع غذر اور چترال کی حدود میں واقع ہیضلع کے کچھ اہم مقامات کوہ غذر، وادی گولغمولی، اشکومان اور یاسین کی وادیاں ہیں۔ دیگر مقامات پر گوپی اور چتورکھنڈ شامل ہیں۔ضلع غذر پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ مسافت پر گلگت چترال روڈ پر واقع ہے۔ جھیل کا وجود سنہ 1980 کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والی ایک قدرتی آفت کے سبب ہونے والی تباہی کا نتیجہ تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق خلتی گاؤں کے کئی رہائشی مکانات، درخت اور ہزاروں کنال اراضی جھیل کی نذر ہو گئے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ خلتی جھیل سطح سمندر سے 7273 فٹ بلندی پر واقع ہے اور اس کی گہرائی اندازاً 80 فٹ ہے۔ یہاں سردیوں میں درج? حرارت منفی 15 درجے تک گر جاتا ہے۔ اس قدر شدید سردی کے باعث دسمبر کے آغاز سے جھیل یخ بستہ ہو جاتی ہے۔ برف سردی کی شدت اضافے کے ساتھ ساتھ سخت اور مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ مقامی لوگ منجمد جھیل کی مضبوطی کا اندازہ لگاتے ہی اسے کھیل کے میدان میں بدل دیتے ہیں۔ پہلے پہل اس جھیل پر منعقدہ کھیلوں سے مقامی لوگ ہی مستفید ہوتے تھے، مگر سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ منجمد جھیل پر میلہ دیکھنے آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں نے خلتی گاؤں کا رُخ کرنا شروع کر دیا ہے۔اس سال یہاں باقاعدہ سرمائی کھیل میلہ منعقد کیا گیا۔ جنوری کی 28 سے 30 تاریخی تک چلنے والے اس سہ روزہ فیسٹیول میں آئس ہاکی، فٹ بال اور دیگر کھیلوں سمیت میوزیکل پروگرام ترتیب دیے گئے تھے۔ کھیلوں کے مقابلوں میں ضلع غذر کے علاوہ ہنزہ سے بھی مختلف ٹیموں نے حصہ لیا اور میلے کا فائنل میچ بھی ہنزہ کی ایک ٹیم نے ہی اپنے نام کر لیا۔ خلتی جھیل سردیوں کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ گرمیوں میں جھیل ٹراؤٹ مچھلی کا مسکن ہوتی ہے۔ جہاں پر مچھلیوں کے شکار اور سیر و تفریح کے لیے سیاحوں کی خاصی تعداد موجود رہتی ہے۔ چنانچہ آفت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یہ جھیل اب عوام کے لیے رحمت کا باعث بن رہی ہے۔خلتی جھیل ضلع غذر کی تفریحی مقامات کی محض ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ پھنڈر، گوپس، یاسین، پونیال اور اشکومن میں کئی ایسے مقامات ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ مرکوز کرنے سے یہ ضلع سیاحتی اعتبار سے خوب ترقی کر سکتا ہے۔ اس علاقے کے سیاحت کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجوہات میں گلگت سے غذر کے مابین مرکزی شاہراہ کی خستہ حالی، مقامی سطح پر قیام و طعام کے انتظامات کا فقدان، سیاحتی مقامات کی عدم تشہیر، بین الاقوامی سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے ناکافی اقدامات اور سیاحتی مقامات و تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش کے لیے وسائل کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ان تمام مسائل کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق مقامی منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت سے ہے جن سے ان سب کی کوتاہی اور عوامی معاملات میں عدم دلچسپی کی عکاس ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت غذر سمیت گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات کی قومی و بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ہوٹل انڈسٹری، کمیونیکیشن اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مقامی لوگوں کی مشاورت اور مفاد عامہ کے منصوبوں کے اجرا کے لیے اقدامات کرے، تاکہ اس سے علاقے میں سیاحتی شعبے کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ غربت و بیروزگاری کے خاتمے میں بھی مدد مل سکے۔
تحریر: نبیل احمد
پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان صدیوں سے ثقافتوں، مذاہب اور تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ اس خطے میں اسلام کے آمد سے پہلے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے۔گلگت اور اردگرد کے علاقوں میں ثقافتی ورثے کا تعارف اور بدھ مت کا پھیلاؤ قدیم سلک روٹ اور تاریخ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔تاریخی حقائق سے پتا چلتا ہے کہمذہب بدھ مت کے قافلے گلگت سے گزرتے ہوئے کسی خانقاہ میں قیام کرتے تھے۔ کارگاہ بدہ جسے مقامی زبان میں 'یشانی' کہتے ہیں، ساتویں صدی کے ایک منفرد آثارِ قدیمہ کے حامل بدھ فاسفی شخصیات نے تقریباً 9 کلومیٹر کے فاصلے پر گلگت شہر کے چٹان میں گہری کھدی ہوئی تھی۔ مہاتما بدھ کارگاہ نالے میں نقش تصیر کے ساتھ ملحقہ قصبے بسین، کھر اور برمس میں واقع ہے۔تیسری صدی سے گیارہویں صدی تک شہر گلگت بدھ مت کا مرکز تھا، ایک اندازے کے مطابق نقش و نگار ساتویں صدی میں مکمل ہوئی۔ مہاتما بدھ کو 1931 میں سٹوپا کی دریافت کے بعد 1938 مہاتما بدھ سے ہی بدھ مت کی ایک خانقاہ اور تین سٹوپا کے بارے میں 400 میٹر کے کھنڈرات کے ساتھ دریافت کیا گیا تھا۔ ہر سال جاپان، کوریا اور دنیا بھر کے ہزاروں بدھ مت کارگاہ بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لیے شہر گلگت آتے ہیں۔محکمہ سیاحت گلگت کے اس سال 50000 سے زائد سیاحوں نے یشانی' دیکھنے کے لیے گلگت کا دورہ کیا۔ چونکہ یشانی آثارِ قدیمہ ہےاس لیے اس کو آئندہ بر قرار رکھنے کے لیے بہتر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کارگاہ بدھا کو تحفظ کے لیے گلگت بلتستان کے سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے شعبہ جات کی توجہ کی ضرورت ہے۔ورثہ کے مقامات خاص طور پر کارگاہ بدھا غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور قومی معیشت کے لیے آمدنی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گلگت شہر سے بدھا جانے وال سڑک خستہ حالت میں ہے اور پر فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ تاریخی مقام سیاحوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی بن سکے۔۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ آثارِ قدیمہ ل تحفظ کے لیے سکیورٹی اہلکار تعینات ہونی چائیے تاکہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
ختم شد
ضلع غذر کی تاریخ اور جغرافیہ
غذر ضلع پاکستان کے گلگت بلتستان خطے کا سب سے مغربی حصہ ہے۔ اس کا دارالحکومت گاہک ہے۔ غذر گلگت اور چترال کے درمیان ایک سنگم ہے اور چین، تاجکستان کو قرمبر پاس کے ذریعے اشکومان/درقوت یاسین (جو شندور درہ کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں) سے گزرتا ہے۔ غذر ایک کثیر النسل ضلع ہے اور تین بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شینا، کھوار اور بروشاسکی. اشکومان میں وخی بولنے والے اور کچھ تاجک بھی ہیں۔ واخان راہداری کے ذریعے افغانستان سے ملتا ہے، مشرق میں ضلع ہنزہ نگر،ضلع گلگت اور ضلع دیامر سے ملتا ہے جبکہ جنوب اور مغرب میں صوبہ پختونخوا کے کوہستان،سوات اور ضلع چترال سے ملتا ہے۔ یہاں کے باشندے شینا،کھوار اور بروشسکی زبان بولتے ہیں، جغرافیائی طور پر یہ خطہ پہاڑوں میں واقع ہے اور سردی کے موسم پر یہاں برفباری بھی ہوتی ہے۔ گاہکوچ غذر کا ضلعی دار الحکومت ہے۔ غذر میں سب سے بلند ترین پہاڑی چوٹی کویو زوم ہے جس کی بلندی 6871 میٹر ہے
جو ضلع غذر اور ضلع چترال کے درمیان واقع ہے۔غذر نام ''گہرز'' کی ایک مسخ شدہ شکل ہے جس کا مطلب کھوار میں ''مہاجرین'' ہے۔ ''گھرز'' وادی گولاگمولی کا ایک گاؤں ہے جو اب گولاگمولی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب بھی چترال کے مہتر نے چترال میں اپنے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا اور انہیں گوپیوں کی طرف ہجرت پر مجبور کیا۔ وہ چترال اور گوپیوں کے درمیان کے علاقے میں آباد تھے اور اس علاقے کو غرزر کہتے تھے اور لوگ گرزک کہلاتے تھے۔ جب پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے دور اور راجگی نظام کو ختم کر کے تحصیلوں (سیاسی اضلاع) پر مشتمل ایک اور انتظامی ضلع بنایا تو اس کا نام غذر کا نام اتفاق رائے سے رکھا گیا۔ تحصیل گوپس ضلع غذر کا مرکزی حصہ ہے۔ بہت سارے گاؤں کے سرسبز و شاداب اور بہت ہی خوشگوار مقامات ہیں، جیسے شندور، پھندڑ جھیل، کھلتی جھیل؛ خلتی کی سب سے بڑی جھیل ٹراؤٹ مچھلیوں کے لیے بہت مشہور ہے۔ گاہک میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل بھی دستیاب ہے اور کچھ نجی ہوٹل بھی۔دیامر ضلع اس کے جنوب میں ہے جو دوبارہ شمالی علاقوں کا حصہ ہے۔ گاکوچ ضلع غذر کا دارالحکومت ہے۔ گوپس یاسین اور پھنڈر وادی کے درمیان سنگم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ یہ تمام وادیوں جیسے پھنڈر، یاسین، پونیالٹیک سے مرکزی جگہ ہے۔ یہ وادی دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلوں یعنی ہندوکش اور قراقرم کے درمیان واقع ہے۔غذر ضلع کی سب سے اونچی چوٹی کویو زوم (6,871 میٹر) (ہندو کش سلسلہ) ہے جو ضلع غذر اور چترال کی حدود میں واقع ہیضلع کے کچھ اہم مقامات کوہ غذر، وادی گولغمولی، اشکومان اور یاسین کی وادیاں ہیں۔ دیگر مقامات پر گوپی اور چتورکھنڈ شامل ہیں۔ضلع غذر پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ مسافت پر گلگت چترال روڈ پر واقع ہے۔ جھیل کا وجود سنہ 1980 کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والی ایک قدرتی آفت کے سبب ہونے والی تباہی کا نتیجہ تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق خلتی گاؤں کے کئی رہائشی مکانات، درخت اور ہزاروں کنال اراضی جھیل کی نذر ہو گئے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ خلتی جھیل سطح سمندر سے 7273 فٹ بلندی پر واقع ہے اور اس کی گہرائی اندازاً 80 فٹ ہے۔ یہاں سردیوں میں درج? حرارت منفی 15 درجے تک گر جاتا ہے۔ اس قدر شدید سردی کے باعث دسمبر کے آغاز سے جھیل یخ بستہ ہو جاتی ہے۔ برف سردی کی شدت اضافے کے ساتھ ساتھ سخت اور مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ مقامی لوگ منجمد جھیل کی مضبوطی کا اندازہ لگاتے ہی اسے کھیل کے میدان میں بدل دیتے ہیں۔ پہلے پہل اس جھیل پر منعقدہ کھیلوں سے مقامی لوگ ہی مستفید ہوتے تھے، مگر سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ منجمد جھیل پر میلہ دیکھنے آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں نے خلتی گاؤں کا رُخ کرنا شروع کر دیا ہے۔اس سال یہاں باقاعدہ سرمائی کھیل میلہ منعقد کیا گیا۔ جنوری کی 28 سے 30 تاریخی تک چلنے والے اس سہ روزہ فیسٹیول میں آئس ہاکی، فٹ بال اور دیگر کھیلوں سمیت میوزیکل پروگرام ترتیب دیے گئے تھے۔ کھیلوں کے مقابلوں میں ضلع غذر کے علاوہ ہنزہ سے بھی مختلف ٹیموں نے حصہ لیا اور میلے کا فائنل میچ بھی ہنزہ کی ایک ٹیم نے ہی اپنے نام کر لیا۔ خلتی جھیل سردیوں کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ گرمیوں میں جھیل ٹراؤٹ مچھلی کا مسکن ہوتی ہے۔ جہاں پر مچھلیوں کے شکار اور سیر و تفریح کے لیے سیاحوں کی خاصی تعداد موجود رہتی ہے۔ چنانچہ آفت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یہ جھیل اب عوام کے لیے رحمت کا باعث بن رہی ہے۔خلتی جھیل ضلع غذر کی تفریحی مقامات کی محض ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ پھنڈر، گوپس، یاسین، پونیال اور اشکومن میں کئی ایسے مقامات ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ مرکوز کرنے سے یہ ضلع سیاحتی اعتبار سے خوب ترقی کر سکتا ہے۔ اس علاقے کے سیاحت کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجوہات میں گلگت سے غذر کے مابین مرکزی شاہراہ کی خستہ حالی، مقامی سطح پر قیام و طعام کے انتظامات کا فقدان، سیاحتی مقامات کی عدم تشہیر، بین الاقوامی سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے ناکافی اقدامات اور سیاحتی مقامات و تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش کے لیے وسائل کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ان تمام مسائل کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق مقامی منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت سے ہے جن سے ان سب کی کوتاہی اور عوامی معاملات میں عدم دلچسپی کی عکاس ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت غذر سمیت گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات کی قومی و بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ہوٹل انڈسٹری، کمیونیکیشن اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مقامی لوگوں کی مشاورت اور مفاد عامہ کے منصوبوں کے اجرا کے لیے اقدامات کرے، تاکہ اس سے علاقے میں سیاحتی شعبے کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ غربت و بیروزگاری کے خاتمے میں بھی مدد مل سکے۔
جو ضلع غذر اور ضلع چترال کے درمیان واقع ہے۔
بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر
”روداد محفلِ مسالمہ و یومِ انگور“
تحریر: جمشیدخان دُکھی ؔ
گلگت بلتستان انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی تعلیم اوراس کا فروغ
”شنا کے نامور شعرا ء غلام نبی وفا اور عبداللہ ملنگ کے ساتھ ایک محفل شعر
و سخن“
حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے زیراہتمام ماہانہ مشاعرہ 31مارچ 2019کو اتوار کے دن 2بجے ریویریاہوٹل گلگت میں انعقاد کیاگیا۔ جس میں مہمان خصوصی اور میر محفل کے علاوہ صدر حاذ پرو فیسر محمد امین ضیاء، سینئر نائب صدر عبد الخالق تاج ، نائب صدر خوشی محمدطارق،محمدنظیم دیا،غلام عباس نسیم،،یونس سروش، فاروق قیصر، آصف علی آصف، عزیز احمد، حور شاہ حر، شاہ جہان مضطر، ناصر نصیر، رضا عباس تابش، نزیر حسین نزیر، اور جمشیدخان دُکھی کے نام شامل ہیں۔ نظامت کے فرائض حاذ کے سیکریٹری مالیات غلام عباس نسیم نے انجام دیئے۔ الحاج حواس خان، جناب احمد سلیم سلیمی، جناب جہانگیر، لکچرر کریم مدد کے علا وہ پرنٹ میڈیا کے احباب جناب شبیر میر،تنویر احمد، طاہر رانا، عبدالستار،فرمان کریم اور میڈیا تھاٹس ریکارڈر کے احباب نے شرکت کی۔ اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شینا کے معروف شعراء ماسٹر غلام نبی وفا اور جناب عبداللہ ملنگ با لترتیب مہمان خصوصی اور میر محفل تھے۔ مہمان خصوصی اور میر محفل کی آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور صد ر حاذ اور سینئر نائب صدر نے معزز مہمانوں کو ہار پہنایا۔1970کی دہائی کے شینا شاعروں میں ان شعراء کی ممتاز حیثیت رہی ہے۔جناب غلام نبی وفا مجھ سمیت حاذ کے صدر، سینئر نائب صدر اور غلام عباس نسیم کے تاریخی ہائی سکول گلگت میں استاد رہے ہیں۔ آپ کے مطابق 29جنوری1933کو پیدا ہوئے۔ بی اے۔ بی ایڈ تک تعلیم حاصل کی۔ ہیڈماسٹر کی حیثیت سے محکمہ تعلیم جی بی سے آپ 1993میں ریٹائر ہوئے۔آپ کا آبائی تعلق بگروٹ سے ہے اور آج کل جلال آباد میں رہا ئش پزیر ہیں۔1956-57یعنی تقریبا 24سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ آپ کے مطابق آپ کی شینا شاعری کا مسودہ 1988کے فرقہ ورانہ فسادات کے دوران نذر آتش کیا گیا جس سے میر ا شعری میلان بے حد متاثر ہوا۔ اس موقع پر معروف شاعر جناب عبدالخالق تاج نے غلام نبی وفا کا شینا کلام گا کر خوب داد حاصل کی۔ ماہرین کے مطابق جو خصوصیت کلام اسے دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے وہ محبت کا اظہار عورت کی زبان سے ہے جس میں وہ محبوب کے ہجر میں اپنے دلی جذبات کو بیان کرتی ہے۔ شینا شاعری میں فارسی اور عربی شاعری کے بر عکس اظہار محبت مرد اور عورت دونوں کی زبان سے کرایا جاتا ہے۔ وفا نے اپنے علاقے یعنی گلگت سے محبت اور عقیدت کا اظہار شینا شاعری میں خوب کیا ہے۔ ان کی ایک شینا رباعی کا ترجمہ کچھ
یو ں ہے
” اے میرے پیارے وطن تیرے گلشن کے کانٹے بھی مجھے پھول لگتے ہیں اور تیری ندی کا پانی میرے لیئے زم زم کی طرح متبرک ہے۔ میرا گلگت تو بے مثال ہے ہی میرے ہرالی کے پہاڑی ڈھلوان بھی لندن اور پیرس سے کسی طرح کم نہیں“
اس موقع پر مہمان خصوصی جناب غلام نبی وفا نے اپنا منتخب شینا کلام سنایا اور اپنے نثری خطاب میں حاذ کا اس محفل کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ خوبصورت محفل بہت پسند آئی۔ انشاء اللہ اگلے مشاعرے میں تازہ کلام لے کر حاضر ہو جاوٗں گا۔
تقریب کے میر محفل جناب عبداللہ کا تعلق حراموش سے ہے اور جن کا تخلص ملنگ ہے۔ ملنگ کے مطابق آپ 1935میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ باقا عدگی سے کہیں سے تعلیم حاصل نہیں کی البتہ ابتدائی طور پر اسلامی تعلیم حاصل کرنے کی ضرور کو شش کی جس کے نتیجے میں اب بھی تھوڑا بہت لکھ پڑھ سکتا ہوں۔ ملنگ کی اپنی مخصوص آہنگ ہے اور آپ اسی میں شینا شاعری کر تے ہیں۔ آپ نے اس موقع پر امن اور محبت پر مبنی پیغام شینا کلام کی صورت سنا کر سامعین کو محظوظ کیا۔انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے اس محفل میں شرکت کر کے بہت خوشی ہوئی۔معاشرے میں ہمارے شعراء کی آواز مقبول عام ہے اور عزم وزن دار ہے اس لیئے میری دعا ہے کہ یہ پر عزم قافلہ رواں دواں رہے۔ اس بات کی انتہائی خوشی ہوئی کہ شعراء نے شینا کو نہیں چھوڑا ہے اور تمام شعراء نے معیاری شینا کلام سنایا۔ انشاء اللہ آئندہ بھی حاذ کی محفلوں میں شر کت کی کو شش کرینگے۔
آخر میں حاذ کے صدر پرو فیسر محمد امین ضیاء نے اپنے خطاب میں مہمان خصوصی اور میر محفل کا اس پروگرام میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غلام نبی وفا ان شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے شینا زبان کو جدید شعری حسن اور غزل کا روپ بخشا۔ آپ نے کہا کہ عبد اللہ ملنگ کسی خصوصی بحر میں شاعری نہیں کرتے بلکہ ان کی اپنی منفرد دھن اور آہنگ ہے۔ ان کا مخصوص شعری مزاج ہے۔آپ اپنی شاعری میں ٹھیٹھ شینا الفاظ آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ان کا یہ عمل نئی نسل کے لئے مردہ الفاظ کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شینا کے ان عظیم شعراء کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پرقائم رہے۔ نزیر حسین نزیر،رضا عباس تابش،حور شاہ حر، عزیز احمد اورفاروق قیصر نے اپنا غیر طرحی کلام سنا کر خوب داد حاصل کی۔ اس مو قع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کی ان شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ان میں ہنزہ کی انیتہ کریم جس نے مکس مارشل آرٹس میں عالمی ٹائٹل جیت لیا،اوشی کھنڈ داس کی خاتون سلیمہ بیگم نے بین الاقوامی مقابلے میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ حاصل کیا، خصوصی افراد کے لئے منعقد ہو نے والے اولمپکس میں جی بی کے کئی افراد نے مختلف اعزازات حاصل کئے، انٹرنیشنل گلوبل ولیج آرگنائزیشن کی جانب سے مزاح کے شعبے میں خومر گلگت کی معروف شخصیت جناب محمد انور خان کو ایوارڈ ملا، مرحوم اشرف علی لائبر یرین اور ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کو خصوصی ایوارڈ دیئے گئے، شامل ہیں۔ بعد ازاں بلتستان یونیورسٹی کے پرو فیسر ڈاکٹر ارشاد کی علمی خدمات کو سراہا گیا اور ان کی اچانک موت پر دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ اس کے علاوہ معروف عالم دین مولانا حبیب اللہ اور نگرل کے محمد امین کی وفات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کی ارواح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ گزشتہ مشاعرہ میں درج ذیل مصرع بطور طرح دیا گیا تھا:
پروفیسرمحمدامین ضیاء
پیارے اللہ کو ہونے سے پہلے بہتر تھا
ہم گنہگار بھی اللہ کو پیارے ہو تے
۔۔۔
عبدالخالق تاج
جہاں کے واسطے جنت سے نکالا ہے ہمیں
یہی ہو نا تھا ہمیں،خاک ستارے ہوتے
خوشی محمدطارق
یہ جو بیٹھے ہیں ابھی ساتھ ہمارے یہ لوگ
یہ کہیں اور جو ہوتے تو ستارے ہوتے
محمد نظیم دیا
تیرے کو چے میں مرا، یار اگر گھر ہوتا
کتنا اچھا تھا سدا وارے نیارے ہوتے
بات بنتی جو ہمارے ہوتے
مندروں میں رام اب بکنے لگے
غلام عباس نسیم
باب رحمت پہ جبیں رکھ کے میں اتنا روتا
دل مضطر سے بھی اشکوں کے فوارے ہوتے
یونس سروش
بیج تفریق و تعصب کے نہ بوتے تو سروش
کتنے دلکش مری دھرتی کے نظارے ہوتے
آصف علی آصف
ہوتا حا صل جو کبھی تیری زیارت کا شرف
پھر مرے سامنے جنت کے نظارے ہوتے
عرفان اللہ عرفان
ناتواں دوش پہ یہ بار گراں کیا معنی
کاش ہم خلدبریں سے نہ اتارے ہوتے
شاہ جہان مضطر
کوچہ یار سے اک بار ہمیں بھی مضطر
یوسف مصر کی مانند گزارے ہوتے
جمشیدخان دکھیؔ
کیا نہ بہتر تھا کہ ہو جانے سے مرکر پیارا
زندگی میں ہی جو اللہ کو پیارے ہوتے
”اتنی خوشیاں کہاں سے لاتے ہو“
تالیاں بجاتی لڑکیاں
2012ء میں ایک وڈیو کلپ منظر عام پر آیا، یہ وڈیو کوہستان کے ایک دور افتادہ گاؤں سرتائی میں ہونے والی کسی شادی کی تقریب کی تھی، اس کلپ میں پانچ لڑکیاں نظر آرہی تھیں جنہوں نے سروں پر چادریں اوڑھ رکھی تھیں جبکہ دو لڑکے روایتی موسیقی پر رقص کر رہے تھے اور یہ لڑکیاں انہیں دیکھ کر تالیاں بجا رہی تھیں۔ آٹھواں شخص ایک لڑکا تھا جس نے یہ وڈیو بنائی۔ سرتائی گاؤں قراقرم ہائی وے سے دو دن کی ’’واک‘‘ پر واقع ہے اور شادی کی ’’تقریب‘‘ کی وڈیو دیکھ کر اس کی پسماندگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ کلپ اُس گاؤں میں پھیل گیا جس کے فوری بعد جرگہ بلایا گیا جس میں چالیس سے پچاس افراد شریک ہوئے، قبیلے کی غیرت پر ماتم وغیرہ کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ لڑکیوں کو تالیاں بجانے کی بے غیرتی کی سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ 30مئی 2012ء کو پانچوں لڑکیوں کو قتل کرکے دفنا دیا گیا۔ یہ بات مزید پھیل کر میڈیا میں آ گئی، اُس وقت کی عدالت عظمیٰ نے اِس واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور کے پی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی، جواب میں پوری صوبائی انتظامیہ بشمول چیف سیکریٹری، ڈی آئی جی، کمشنر سب طرم خان، عدالت میں پیش ہوئے اور یک زبان ہوکر بیان دیا کہ انہیں لڑکیوں کے قتل ہونے کے کوئی ’’شواہد نہیں ملے‘‘۔ معزز ججوں نے بار بار اُن سے پوچھا کہ کیا اُن کی لڑکیوں سے بات ہوئی، کیا اِس بات کا ثبوت موجود ہے کہ لڑکیاں زندہ ہیں مگر جواب میں سب خاموش کھڑے رہے، ڈی آئی جی صاحب نے ایک بیورو کریٹک قسم کا جواب دیا کہ ہم نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کیں، مقامی افراد سے ملاقات کی، قبرستان بھی گئے مگر کوئی بندہ بھی سامنے نہیں آیا جو یہ کہہ سکے کہ قتل کا کوئی واقعہ ہوا ہے، ہم اُس مذہبی عالم سے بھی ملے جس نے مبینہ طور پر لڑکیوں کے قتل کا فتویٰ دیا مگر اُس نے ایسے کسی بھی فتوے کی تردید کی۔ ایسے میں جب یہ تمام پھنے خان افسر عدالت میں کھڑے ہو کر ہومیو پیتھک بیان دے رہے تھے، قتل ہونے والے لڑکوں میں سے ایک کا بھائی افضل کوہستانی سامنے آیا اور عدالت کو بتایا کہ پانچوں لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں، اُس نے تمام کے نام بھی بتائے اور یہ بھی بتایا کہ کن چار گواہوں کی موجودگی میں انہیں قتل کیا گیا۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے افضل کوہستانی نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ اور جرگے کے لوگ اس معاملے پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں، اُن کے خاندان کے سو کے قریب لوگ اپنی زمین چھوڑ کر جا چکے ہیں کیونکہ اُن کی جان کو خطرہ ہے اور خود وہ بھی اسلام آباد اسی لئے آئے ہیں کہ جرگے کے لوگ اُنہیں بھی قتل کرنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد کیس داخل دفتر کر دیا۔ افضل کوہستانی نے مگر ہمت نہیں ہاری، اُس نے جرگے کے بے رحم فیصلے اور قبیلے کی فرسودہ روایات کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی اور https://gbnewsupdates.blogspot.com/جنوری 2013میں سپریم کورٹ میں ایک تازہ درخواست ڈال دی کہ کیس کو دوبارہ کھولا جائے، اس جرم کی پاداش میں اُس کے تین بھائیوں کو، جن میں سے دو اُس وڈیو میں شامل تھے، قتل کر دیا گیا۔ اس پورے عرصے میں پولیس یہی موقف اختیار کرتی رہی کہ لڑکیاں زندہ ہیں مگر اپنی روایات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں، ایک موقع پر دو لڑکیوں کو پیش بھی کیا گیا مگر پتا چلا کہ یہ اور ہیں، وہ نہیں جو وڈیو میں تھیں، خیر یہ ڈرامہ یونہی چلتا رہا اور بالآخر اگست 2018میں کوہستانی پولیس نے رو پیٹ کر اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی، تین ملزمان کو اس بہیمانہ قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا جنہوں نے اقرارِ جرم بھی کر لیا۔ افضل کوہستانی کو تمام عرصے میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں، اُس نے پولیس اور انتظامیہ کو اس سے آگاہ بھی کیا مگر اپنی جدوجہد نہ چھوڑی، اُس کا عزم تھا کہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، کوہستانی نے یہ بھی کہا کہ اگر اُس کی جان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار ہزاہ پولیس ہو گی، اس بیچارے کا خیال تھا کہ اکیس کروڑ کے ملک میں جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، اُس کی فریاد شاید کوئی اللہ لوک افسر سُن لے، مگر اس غریب کو شاید علم نہ تھا کہ افسر لوگ صرف ریٹائرمنٹ کے بعد ہی اللہ لوک بنتے ہیں اُس سے پہلے وہ صرف افسر ہوتے ہیں۔ سو، گزشتہ جمعرات 7مارچ 2019ء کو افضل کوہستانی کو ایبٹ آباد میں ’’نامعلوم افراد‘‘ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
یہ ہم لوگ جو ایک دوسرے سے اٹھے بیٹھے پوچھتے رہتے ہیں کہ اس ملک کا مسئلہ کیا ہے تو آج ایسے تمام لوگ نوٹ فرما لیں کہ اس ملک کا مسئلہ آئین میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں ناکامی ہے، یہ آئین ہی ہے جو تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابر کہتا ہے، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرنے کا یقین دلاتا ہے، آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، اپنے مذہب اور مسلک کے مطابق زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کی آزادی دیتا ہے، انصاف کی فراہمی کا وعدہ کرتا ہے اور اس ملک میں بسنے والی عورتوں کو بھی اتنے ہی حقوق دیتا ہے جتنے کسی مرد کو۔ آئین تو یہ تمام حقوق دیتا ہے مگر ہم ایک دوسرے کو یہ حقوق دینے کے لئے تیار نہیں، کچھ مرد عورت کو آج بھی ناقص العقل سمجھتے ہیں جبکہ بعض مردوں کے خیال میں عورت محض گھر گرہستی کرے تو ٹھیک، اس سے زیادہ اُس کا کوئی مصرف نہیں۔ جس روز افضل کوہستانی قتل ہوا اُس سے اگلے روز قوم نے ٹویٹر پر عورتوں کا عالمی دن منایا، کیا ہی اچھا ہو اگر کے پی حکومت قتل ہونے والی پانچ لڑکیوں، تین لڑکوں اور افضل کوہستانی کے نام ایک ایک سکول کر دے، انہیں انصاف تو ہم نہیں دلا سکے، کم ازکم یہ کام تو کر ہی سکتے ہیں۔
بشکریہ جنگ۔۔۔۔۔)
پہلی قسط میں ایک جامعہ یا اعلیٰ تعلیمی ادارے کے کسی معاشرے میں عمومی کردار کی تشریح پرقلم آزمائی کی تھی۔ اس قسط میں ”جامعہ قراقرم“ کے حوالے سے اس کے خصوصی کردار، درپیش مسائل و چیلنجز اور ان کا ممکنہ حل کے حوالے سے تحریر کا قصد کیا ہے۔ اس ضمن میں شیخ الجامعہ کی ترجیحات کا اجمالی جائزہ حاضر خدمت ہے۔ کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کیلئے کوالٹی یا معیارکا ہونا اس کے وجود کی ضامن ہے۔ چنانچہ اعلیٰ تعلیم و تربیت کے بغیر کسی تعلیمی ادارے کا قیام و بقا ناممکن ہے۔ بحیثیت وائس چانسلرراقم کی پہلی اور اولین ترجیح یقیناًیونیورسٹی کے اندر تمام تعلیم و تدریس کے عمل اور متعلقہ امور کے اندر ایک واضح معیارلانا مقصود ہے۔ تحصیل علم محض کاغذ کے ایک ٹکڑے یعنی ڈگری کے حصول کا نام نہیں بلکہ اس سے وابستہ ان تمام درکار علم و ہنر اور انسانی رویوں کا نام بھی ہے جو اس ڈگری سے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ڈگری کے حصول کے ساتھ معاشرے کے توقعات بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سول انجینئر نگ کے فارغ التحصیل طالب علم سے سول انجینئرنگ کی بنیادی علوم، ہنر اور اس شعبہ سے وابستہ اہم مسائل کے حل سے متعلق آگاہی اور ادراک کاتوقع رکھنا ایک فطری تقاضا ہے۔
انسان کی شخصیت کے عمومی طور پر تین پہلو ہیں۔ علم، ہنراور رویے (اقدار)۔ کسی بھی کامیاب انسان کیلئے ان تینوں لازمی عناصر میں کامیابی درکار ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ایک طلائی تمغے کے حصول کے باوجود ایک طالب علم بات کرنے اور ٹیم ورک کی بنیادی صلاحیتوں سے عاری ہے تو عملی زندگی میں اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ٹوٹل کوالٹی مینجمنٹ (انصرام کلی معیار) بنیادی طور پر معیار یعنی کوالٹی کو تمام امور کے اندر تفویض کرنے کا عمل ہے۔ جامعات کی عالمی درجہ بندی کے حوالے سے دنیا میں مختلف نظام کار فرما ہیں۔ جن میں اکیڈیمک رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹی (ARWU) جس کو شنگھائی رینکنگ بھی کہا جا تا ہے، QSورلڈ یونیورسٹی رینکنگ اور U-Multi Rankخصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ جامعات کی اس عالمی درجہ بندی میں معیاری تعلیم، تحقیق، ادارے کی بین الاقوامی ساکھ اور فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی عالمی منڈی میں علمی، تحقیقی اور کاروباری کردار وغیرہ پر منحصر ہوتی ہے۔ پاکستان میں ملکی سطح پر بھی جامعات کی قومی درجہ بندی کا سلسلہ رائج تھا لیکن کم و بیش 2سال قبل HECکی جانب سے اس کو موخر کر دیا گیا۔ جس کی بنیادی وجہ HECکے ارباب اختیار سے ہی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کے اندر کچھ خامیاں ضرور تھیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ جامعات کے معیار کی خود پیمائی اور مسلسل بہتری کیلئے ایک مناسب نظام ضرور تھا۔ بد قسمتی سے اس کو مزید بہتر بنانے کی بجائے اس کو اچانک معدوم کیا گیا۔ اس قومی رینکنگ نظام کا دارومدار بھی معیار تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹی کے گورننس پہ تھا۔ اس کے ساتھ HECکے زیر نگرانی کوالٹی ایشورنس ایجنسی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جس کی مدد سے کم و بیش تمام جامعات میں QECکوالٹی انہاسمنٹ سیل قائم کئے گئے۔ جن کے ذریعے جامعات میں تعلیم و تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ QAAاور QECنے کوالٹی اور ریسرچ کے ضمن میں قابل قدر خدمات بھی انجام دیں۔ تاہم HECکیلئے ایک ریگولیٹری باڈی کی حیثیت سے جامعات میں مائیکرو لیول پر معیار کو بہتر بنانا ہرگز ممکن نہیں کیونکہ اس وقت وطن عزیز میں تقریباً 200جامعات ظہور پذیر ہوچکی ہیں اور اگر اوسطاً فی یونیورسٹی 100پروگرام پیش کریں تو کم وبیش 20ہزار پروگرامز بن جاتے ہیں۔ چنانچہ HECکیلئے ان تمام پروگرامز کی جانچ پڑتال کرانا ہرگز ممکن نہیں۔ بلکہ یہ شاید ان جامعات کی خود مختاری کے بھی خلاف ہے۔ اس ضمن میں HECنے بنیادی قوائد و ضوابط، نصاب مقرر کرنے کے ساتھ کم وبیش 15ادارے ایسے تشکیل دیئے ہیں جو ان پروگرامز کی باقاعدہ ریویو کراکے ان کی درجہ بندی یا منظوری دیتے ہیں۔ جن میں پاکستان انجینئرنگ کونسل، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پاکستان فارمیسی کونسل، کمپیوٹر ایجوکیشن کونسل، آرکیٹکچر اینڈ ٹاؤن پلاننگ کونسل، بزنس کونسل، ٹیچر ایجوکیشن کونسل وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام کونسلز عمومی طور پر جامعات کے اندر انڈر گریجویٹ (BS) پروگرامز کو معیاری بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کونسلز میں ماہرین نصاب، ٹیچنگ فیکلٹی،سہولیات، بجٹ، تحقیقاتی اور ہم نصابی سرگرمیاں، ریسرچ مقالہ جات و کتب کی اشاعت، لائبریری اور لیبارٹریز وغیرہ کی بنیاد پر پروگرامز کی منظوری دیتے ہیں۔ جن کو عمومی طور پر ایکریڈٹیشن کیا جا تا ہے۔ ان تمام کاوشوں کے باوجود جامعات میں جدید معیاری تعلیم و تحقیق کیلئے مطلوبہ معیار کا حصول ایک صبر آزما امر رہا۔
گریجویٹ پروگرامز (ایم فل /ایم ایس یا پی ایچ ڈی) کے حوالے سے 2014/2013میں HECکی جانب سے باقاعدہ NOCکے حصول کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے تحت ہر پروگرام کے لئے درکار PhDفیکلٹی کی موجودگی، داخلے کے ٹیسٹ کا طریقہ کار، ریسرچ، طلبہ و طالبات کیلئے درکار وسائل وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد NOCکااجراء کیا جاتا ہے۔ جو یقیناًایک خوش آئند امر ہے۔ ان اصولوں کی بنیا د پر HECنے مختلف جامعات میں کم و بیش ایک ہزار ایم ایس، پی ایچ ڈی پروگرامزبھی بند کرائے جہاں مطلوبہ سہولیات موجود نہیں تھیں۔ اس سے ہزاروں طلبہ وطالبات کے وقت اورو سائل کا ضیاع بھی ہوگیا تاہم اس میں HECکے ساتھ ان جامعات کی غیر معیاریت کو بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
معیاری تعلیم و تدریس کا حصول محض HECکی کاوشوں سے ہر گز ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے ایک اندرونی مربوط نظام برائے اصلاح معیار (Integrated Quality Improvement System) کی ہمیشہ سے ضرورت ہے۔ اس ضمن میں کوالٹی انہاسمنٹ سیل کا تمام جامعات میں قیام یقیناًایک احسن قدم ہے۔ KIUمیں کوالٹی تعلیم و تدریس کیلئے ایک مضبوط اور مربوط QECکا قیام ناگزیر ہے۔ چنانچہ ان اہداف کے حصول کیلئے QECکی تنظیم نو اور تقویت شیخ الجامعہ کی حیثیت سے میری اولین ترجیح ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل اہم امور کے ذریعے تعلیم و تدریس کے معیارکو بلند کیا جائے گا۔
۱) معیار یعنی کوالٹی کو یونیورسٹی کلچر کا لازمی جزو بنایا جائے گا جس کیلئے ضروری ہے کہ فیکلٹی اور سٹاف کو زیادہ سے زیادہ تربیت دی جائے اس کیلئے فیکلٹی اینڈ سٹاف ڈیویلپمنٹ سنٹر کو از سر نو ترتیب دیا گیا ہے اور تمام فیکلٹی سٹاف کیلئے لازمی کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں ہونے والی تربیتی کورسز میں باقاعدہ شمولیت اختیار کریں۔ اس ضمن میں تمام فیکلٹی اور سٹاف کیلئے ایک تربیتی کیلنڈر بھی مرتب کر دیا گیا ہے تاکہ تمام سٹاف یونیورسٹی کے اندر اور ملکی / بین الاقوامی سطح پر میسر ماہرین سے استفادہ کر سکے۔ حقیقی معنوں میں KIUکے اندر سیکھنے اور سکھانے کا ایک ایسا ماحول پیدا کرنا مقصود ہے جو یونیورسٹی کے اندر تمام طلبہ و طالبات، فیکلٹی اور سٹاف کو اپنی استعداد بڑھانے کی طرف مائل کریں۔
۲) دوسرا اہم کام اس ضمن میں کوالٹی ایشورنس کیلئے بنیادی نظام کا وضع کر نا ہے۔ جس کے ذریعے مختلف تعلیمی و تدریسی عوامل کا تقابلی جائزہ لیا جاسکے اور نہ صرف یہ کہ غیر معیاری اجزاء کا روک تھام کیا جا سکے بلکہ فوری طور پر تصحیح کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکے اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے تو کوالٹی اور معیار کے بنیادی اصول اور معیاری نظام کی بنیاد ڈالی جائے اور اس کے بعد ان بنیادی اصولوں پر کار بند رہنے کیلئے معیار کی ضمانت دی جاسکے جس کو بسا اوقات ”کوالٹی ایشورنس“ کا نام بھی دیا جا ہے اور جہاں ضروری ہو اس عمل کو مزید بہتر بنایا جائے جس کو کوالٹی کنٹرول بھی کیا جاتا ہے۔ ان تمام امور کیلئے مسلسل بہتری معیار (Continuous Quality Improvement)یعنی(CQI) کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معیارکا حصول کسی منزل کانام نہیں بلکہ حقیقتاً یہ عظمت و بلندی کی طرف ایک مسلسل اور صبر آزما سفر ہے۔جس کے لئے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
۳) طلبہ و طالبات کی استعداد و صلاحیت بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی مشاورت کے عمل کو بھی مستحکم کیا جائے۔ اس ضمن میں مربوط نظامِ مشاورت برائے طلبہ (Integrated Students Counselling System)یعنی ISCSکا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ جس کے ذریعے طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں اور نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں اور پیشرفت کا مسلسل جائزہ لیا جائے گااور طلبہ کی مشاورت کے مرکز کے ذریعے آن لائن ریویو سسٹم کا اجراء کیا جائے گا۔ اس نظام کو آئی ٹی اور ایم آئی ایس کے ذریعے طلبہ کے پراگریس کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیمی و تدریسی پراگریس کا بروقت جائزہ لیتے ہوئے ان کیلئے درکار مشاورت اور تعلیم و تدریس کاانتظام کیا جائے۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے طلبہ و طالبات کے والدین اور دیگر متعلقہ اہل خانہ کو اس نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تدریس اور ان کی ذہنی و اخلاقی بالیدگی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ (جاری ہے)
ہم واقعی حیران ہیں
گلگت بلتستان میں آج کل جس تیزی سے منصوبوں کا افتتاح ہورہا ہے اس سے میرے جیسے کافی لوگوں کو حیرت ہو رہی ہے۔ یعنی پہلے امراض کلب کے ہسپتال کا افتتاح اور بھر نلتر ہائی وے کا۔ دونوں جی بی کے تناظر میں بہت پڑے اور اہم منصوبے ہیں۔ اگر میں اس کو کرکٹ کی زبان میں بیا ن کروں تو کچھ یوں ہوگا کہ ساڑھے تین سال حکومت چلانے کے بعد حفیظ الرحمان ایک مستند بلے باز کی طرح پیچ پر موجود ہیں اور چاروں طرف شاندار سٹروکس کھیل کر اپنی اننگز کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ لگتا ہے وہ مقررہ اوورز میں اپنی سنچری مکمل کرلیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حفیظ الرحمن نے عمران خان کی پچ پر ہی میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ خود عمران خان تماشائیوں کے بیچ کہیں بیٹھ کے کسی اور میچ کی حکمت عملی طے کر نے میں مصروف ہیں جبکہ ان کے کھلاڑی گراؤنڈ کے اندر پورا زور لگانے کے باوجود بھی کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ اور امپائرز بھی معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔ یقیناًمخالف ٹیم کے لیے مشکلات ہیں بلکہ مشکلات اور بڑھ رہی ہے کیونکہ جس طرح وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن چھکے چوکے لگا رہے ہیں اس سے ان کے لئے ٹارگٹ کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ بہ الفاظ دیگر کل الیکشن تک نون لیگ اتنا کام کرواچکی ہوگی کہ مخالفین کے لئے ان کے ووٹر کو توڑنا یا روکنا مشکل ہو جائگا۔ خیر جی بی کی سیاست میں ترقیاتی کام ہی ووٹ کا واحد معیا ر نہیں اور بھی ہیں۔
خیر کرکٹ کی ٹرمینالوجی اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت یہ ہے ان تمام بڑے منصوبوں کا سہرا حفیظ الرحمن حکومت کے سر جاتا ہے۔ نلتر روڈ منصوبے اور عارضہ قلب کے ہسپتال جیسے منصوبوں کے بعد میرے اپنے کئی اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں میرا خیال تھا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو کام کرنے نہیں دیا جائے گا اس لئے وزیراعلی کو جتنا کام کرنا تھا وہ وفاق میں نون لیگ کی حکومت کے ختم ہونے تک ہو چکا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا عمران خان حکومت کچھ اور طرح کے مسائل میں گھری ہوئی ہے جس کے سبب ان کو گلگت بلتستان کی طرف بھرپور توجہ دینے کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہ ہوئی۔حتی کہ تحریک انصاف کی مقامی قیادت شدید مایوسی کا شکار ہے کیونکہ وزیر اعظم نے حفیظالرحمان سے دو دفعہ ملاقات کی لیکن اپنے لوگوں سے ایک بار بھی نہیں۔ حتیٰ کہ راجہ جلال کے گورنر بننے کے بعد سے اب تک گلگت بلتستان کے لئے کنوینر کا نام تک فائنل نہیں ہو سکا۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر اعلی نے شاہدآفریدی کی بیٹنگ کی طرح دھڑادھڑ منصوبوں کا آغاز کیا۔ کوئی شک نہیں حفیظ الرحمان نے حکومت سنبھالنے کے بعد بہت بڑا رسک لیا تھا۔ اور وہ رسک یہ تھا کہ بڑے منصوبوں کو آخری سالوں کے لئے چھوڑنا۔ وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ تاہم ان منصوبوں کو اگر ہم ایک اور زاویہ سے دیکھیں تو یقیناًاین ایل سی کو دینے سے یہ منصوبے بروقت بھی مکمل ہونگے اور شا ید کام کا معیار بھی بہتر ہو گا جس کا سیاسی فائدہ نون کو ہوگا لیکن دوسری طرف اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوگا کہ مقامی ٹھیکدار برادری متاثر ہوگی۔ ایک سبق ہمارے مقامی ٹھیکداروں کے لئے بھی ہے کہ اگر وہ بھی اپنے کئے ہوئے کاموں میں معیار کا خیال رکھتے تو آج ان کا کام ان کی وکالت کرتا۔ گلگت شہر کے اندر کی سڑکیں خود چیخ چیخ کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا واویلا کرتی ہیں۔
کراچی میں مجھے جو چیز سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے وہ ہے وہاں کی مارکیٹیں اور وہاں کی سڑکیں ہیں جہاں آپ کو ہر
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیر اعلی سندھ کو فون پر خوشبخت کے واقعہ سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ خوشبخت کے معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے۔ خبروں کے مطابق وزیراعلی سندھ نے حفیظ الرحمن کو بھرپور کروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کوئی مثبت پیش رفت کب تک سامنے آتی ہے۔ یقیناًیہ ایک بہت مثبت پیش رفت ضرورہے کہ کم از کم اس سنگیں مسئلہ کو حکومتی سطح پر اٹھا تو لیا گیاوگرنہ انفرادی طور پر اس گنجان اباد شہر میں کسی کو ڈھونڈنکالنا کسی بہت بڑے معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی کا اقدام قابل ستائش لیکن انسانی ہمدردی کے ناطے اس مسئلہ کے حل کے لئے ان کی مسلسل ذاتی دلچسپی کی اشد ضرورت ہے بصورت دیگر کراچی جیسے مصروف شہر میں’’ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘کے مصداق اور بھی بہت سے انتہائی اہم مسئلے حکومت وقت کو درپیش ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگروزیر اعلی اپنے کسی سٹاف کی زمہ داری لگا دے کہ وہ سندھ کے وزیر اعلی کے سٹاف کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہیں اور انہیں ہونے والی پراگس سے اپ ڈیٹ رکھیں۔اس طرح شاید کوئی اچھی خبر سنے کو ملے۔اسی طرح پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کو بھی اپنا اثرو سوخ استعمال کرنا چاہیے لیکن ان کیجانب سے تا حال خاموشی پریشان کن ہے کیونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور امجدایڈووکیٹ، جمیل احمد اور سعدیہ دانش کا بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ سے قریبی تعلق بھی،پھر گلہ تو بنتا ہے۔










No comments:
Post a Comment