نقطہ نظر

....دومیل ....

تحریر : عاقب ارشد
پاکستان میں جب خوبصورتی کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے گلگت بلتستان کے علاقے سرفہرست آتے ہیں 
سب سے خوبصورتی قدرتی حسن سے مالا مال ضلع استور کے مضافاتی یونین کونسل قمری منی مرگ میں ایک خطہ و سیاحتی مقام ایسا ہے جو سیوزرلینڈ سے بھی حد درجہ قدرتی خوبصورت ہے۔
دومیل منی مرگ یونین میں واقعی ایک قدرتی سیاحتی ،تفریح کے
 لیے مناسب جگہ ہے ، دو میل کا مطلب ہی دو راستے  دو طرح سے ملنا یا ملاپ ہے ، دومیل میں حسن و جمیل قدرتی مناظر ، پہاڑوں کا سینہ چیرتی جھیلیں ،  لہلہاتے  پھول ،  چمکتے آبشاروں ، و ساتھ رنگی جھیل سیاحوں کو قدرت کے کرشموں کی طرف راغب کرتے ہیں ، دومیل میں رہنے کے لیے ریسٹ ہاوس ، کھانے کے لیے بہترین  سسٹم ، گھوڑ سواری کے لیے گھوڑے ، جھیل کی سواری کے لیے بوٹ و دیگر سہولیات میسر ہیں۔
دومیل کے لئے ابتدائی سفر استور سے باندھنا پڑتا ہے ، چیلم چوکی سے برزل ٹاپ کی طرف سے گریز یعنی منی مرگ کے لیے سفر باندھنا پڑتا ہے۔
منی مرگ پہنچنے کے بعد  ہیڈکوارٹر سے دائیں جانب وادی دومیل کی طرف واقعی ہے ۔
انکی سواری کے لئے مقامی لوگوں نے اپنی گاڑیاں بھی  رکھی ہے جو دور سے آنے والوں کے لیے گائیڈ کا کام بھی کرتے ہیں
دومیل کی دائیں جانب سے آپ شابان ٹاپ سے ہوتے ہوئے دیوسائی باآسانی پہنچ سکتے ہیں 
اور دومیل ہی کی شمال کی طرف سے سکردو آوارد ممکن ہے ۔
بائیں جانب سے قمری پرانا کشمیر روڈ سے متصل وادیاں پڑتی ہے
دومیل ٹاپ کی دائیں جانب سے سرحدی علاقے منسلک ہیں
دومیل سرحدی حصہ ہے یہاں آرمی کی سہولیات لازمی ہے آرمی کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتے، 
پاک آرمی سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرتی  ہیں اور انکے لیے بہترین گیسٹ ہاوس و انفرادی کمرے مہایا کرتی ہے
دومیل کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے گلگت کا ضلع استور  ایک بار ضرور آ ئیے اور اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوجائے 



یشانی کارگاہ بدھ

تحریر: نبیل احمد

پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان صدیوں سے ثقافتوں، مذاہب اور تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ اس خطے میں اسلام کے آمد سے پہلے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے۔گلگت اور اردگرد کے علاقوں میں ثقافتی ورثے کا تعارف اور بدھ مت کا پھیلاؤ قدیم سلک روٹ اور تاریخ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔تاریخی حقائق سے پتا چلتا ہے کہمذہب بدھ مت کے قافلے گلگت سے گزرتے ہوئے کسی خانقاہ میں قیام کرتے تھے۔ کارگاہ بدہ جسے مقامی زبان میں 'یشانی' کہتے ہیں، ساتویں صدی کے ایک منفرد آثارِ قدیمہ کے حامل بدھ فاسفی شخصیات نے تقریباً 9 کلومیٹر کے فاصلے پر گلگت شہر کے چٹان میں گہری کھدی ہوئی تھی۔ مہاتما بدھ کارگاہ نالے میں نقش تصیر کے ساتھ ملحقہ قصبے بسین، کھر اور برمس میں واقع ہے۔تیسری صدی سے گیارہویں صدی تک شہر گلگت بدھ مت کا مرکز تھا، ایک اندازے کے مطابق نقش و نگار ساتویں صدی میں مکمل ہوئی۔ مہاتما بدھ کو 1931 میں  سٹوپا کی دریافت کے بعد  1938 مہاتما بدھ سے ہی  بدھ مت کی ایک خانقاہ اور تین سٹوپا کے بارے میں 400 میٹر کے کھنڈرات کے ساتھ دریافت کیا گیا تھا۔ ہر سال جاپان، کوریا اور دنیا بھر کے ہزاروں بدھ مت کارگاہ بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لیے شہر گلگت آتے ہیں۔محکمہ سیاحت گلگت کے اس سال 50000 سے زائد سیاحوں نے یشانی' دیکھنے کے لیے گلگت کا دورہ کیا۔ چونکہ یشانی آثارِ قدیمہ ہےاس لیے اس کو آئندہ بر قرار رکھنے کے لیے بہتر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کارگاہ بدھا کو تحفظ کے لیے گلگت بلتستان کے سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے شعبہ جات کی توجہ کی ضرورت ہے۔ورثہ کے مقامات خاص طور پر کارگاہ بدھا غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے  اور قومی معیشت کے لیے آمدنی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گلگت شہر سے بدھا جانے وال سڑک خستہ حالت میں ہے اور پر فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ تاریخی مقام سیاحوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی بن سکے۔۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ آثارِ قدیمہ ل تحفظ کے لیے سکیورٹی اہلکار تعینات ہونی چائیے تاکہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

 

ختم شد



\

ضلع غذر کی تاریخ اور جغرافیہ

Umama Kamilتحریر:امامہ کامل 
غذر ضلع پاکستان کے گلگت بلتستان خطے کا سب سے مغربی حصہ ہے۔ اس کا دارالحکومت گاہک ہے۔ غذر گلگت اور چترال کے درمیان ایک سنگم ہے اور چین، تاجکستان کو قرمبر پاس کے ذریعے اشکومان/درقوت یاسین (جو شندور درہ کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں) سے گزرتا ہے۔ غذر ایک کثیر النسل ضلع ہے اور تین بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شینا، کھوار اور بروشاسکی. اشکومان میں وخی بولنے والے اور کچھ تاجک بھی ہیں۔ واخان راہداری کے ذریعے افغانستان سے ملتا ہے، مشرق میں ضلع ہنزہ نگر،ضلع گلگت اور ضلع دیامر سے ملتا ہے جبکہ جنوب اور مغرب میں صوبہ پختونخوا کے کوہستان،سوات اور ضلع چترال سے ملتا ہے۔ یہاں کے باشندے شینا،کھوار اور بروشسکی زبان بولتے ہیں، جغرافیائی طور پر یہ خطہ پہاڑوں میں واقع ہے اور سردی کے موسم پر یہاں برفباری بھی ہوتی ہے۔ گاہکوچ غذر کا ضلعی دار الحکومت ہے۔ غذر میں سب سے بلند ترین پہاڑی چوٹی کویو زوم ہے جس کی بلندی 6871 میٹر ہے

جو ضلع غذر اور ضلع چترال کے درمیان واقع ہے۔
غذر نام ''گہرز'' کی ایک مسخ شدہ شکل ہے جس کا مطلب کھوار میں ''مہاجرین'' ہے۔ ''گھرز'' وادی گولاگمولی کا ایک گاؤں ہے جو اب گولاگمولی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب بھی چترال کے مہتر نے چترال میں اپنے لوگوں کے ساتھ ظلم کیا اور انہیں گوپیوں کی طرف ہجرت پر مجبور کیا۔ وہ چترال اور گوپیوں کے درمیان کے علاقے میں آباد تھے اور اس علاقے کو غرزر کہتے تھے اور لوگ گرزک کہلاتے تھے۔ جب پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے دور اور راجگی نظام کو ختم کر کے تحصیلوں (سیاسی اضلاع) پر مشتمل ایک اور انتظامی ضلع بنایا تو اس کا نام غذر کا نام اتفاق رائے سے رکھا گیا۔ تحصیل گوپس ضلع غذر کا مرکزی حصہ ہے۔ بہت سارے گاؤں کے سرسبز و شاداب اور بہت ہی خوشگوار مقامات ہیں، جیسے شندور، پھندڑ جھیل، کھلتی جھیل؛ خلتی کی سب سے بڑی جھیل ٹراؤٹ مچھلیوں کے لیے بہت مشہور ہے۔ گاہک میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل بھی دستیاب ہے اور کچھ نجی ہوٹل بھی۔دیامر ضلع اس کے جنوب میں ہے جو دوبارہ شمالی علاقوں کا حصہ ہے۔
 گاکوچ ضلع غذر کا دارالحکومت ہے۔ گوپس یاسین اور پھنڈر وادی کے درمیان سنگم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ یہ تمام وادیوں جیسے پھنڈر، یاسین، پونیالٹیک سے مرکزی جگہ ہے۔ یہ وادی دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلوں یعنی ہندوکش اور قراقرم کے درمیان واقع ہے۔
غذر ضلع کی سب سے اونچی چوٹی کویو زوم (6,871 میٹر) (ہندو کش سلسلہ) ہے جو ضلع غذر اور چترال کی حدود میں واقع ہیضلع کے کچھ اہم مقامات کوہ غذر، وادی گولغمولی، اشکومان اور یاسین کی وادیاں ہیں۔ دیگر مقامات پر گوپی اور چتورکھنڈ شامل ہیں۔ضلع غذر پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔
خلتی جھیل ضلع غذر کی تحصیل گوپس سے چند کلومیٹر کی

 مسافت پر گلگت چترال روڈ پر واقع ہے۔ جھیل کا وجود سنہ 1980 کی دہائی میں وقوع پذیر ہونے والی ایک قدرتی آفت کے سبب ہونے والی تباہی کا نتیجہ تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق خلتی گاؤں کے کئی رہائشی مکانات، درخت اور ہزاروں کنال اراضی جھیل کی نذر ہو گئے جس کے باعث علاقہ مکینوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
 خلتی جھیل سطح سمندر سے 7273 فٹ بلندی پر واقع ہے اور اس کی گہرائی اندازاً 80 فٹ ہے۔ یہاں سردیوں میں درج? حرارت منفی 15 درجے تک گر جاتا ہے۔ اس قدر شدید سردی کے باعث دسمبر کے آغاز سے جھیل یخ بستہ ہو جاتی ہے۔ برف سردی کی شدت اضافے کے ساتھ ساتھ سخت اور مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ مقامی لوگ منجمد جھیل کی مضبوطی کا اندازہ لگاتے ہی اسے کھیل کے میدان میں بدل دیتے ہیں۔ پہلے پہل اس جھیل پر منعقدہ کھیلوں سے مقامی لوگ ہی مستفید ہوتے تھے، مگر سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ منجمد جھیل پر میلہ دیکھنے آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں نے خلتی گاؤں کا رُخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس سال یہاں باقاعدہ سرمائی کھیل میلہ منعقد کیا گیا۔  جنوری کی 28 سے 30 تاریخی تک چلنے والے اس سہ روزہ  فیسٹیول میں آئس ہاکی، فٹ بال اور دیگر کھیلوں سمیت میوزیکل پروگرام ترتیب دیے گئے تھے۔ کھیلوں کے مقابلوں میں ضلع غذر کے علاوہ ہنزہ سے بھی مختلف ٹیموں نے حصہ لیا اور میلے کا فائنل میچ بھی ہنزہ کی ایک ٹیم نے ہی اپنے نام کر لیا۔
خلتی جھیل پر منعقدہ یہ سہ روزہ میلہ دیکھنے گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان کے کئی شہروں سے بھی شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ گلگت بلتستان کی حکومت کے اعلیٰ

حکام نے بھی اس میں شرکت کی۔
 خلتی جھیل سردیوں کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ گرمیوں میں جھیل ٹراؤٹ مچھلی کا مسکن ہوتی ہے۔ جہاں پر مچھلیوں کے شکار اور سیر و تفریح کے لیے سیاحوں کی خاصی تعداد موجود رہتی ہے۔ چنانچہ آفت کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یہ جھیل اب عوام کے لیے رحمت کا باعث بن رہی ہے۔
خلتی جھیل ضلع غذر کی تفریحی مقامات کی محض ایک مثال ہے۔ اس کے علاوہ پھنڈر، گوپس، یاسین، پونیال اور اشکومن میں کئی ایسے مقامات ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ مرکوز کرنے سے یہ ضلع سیاحتی اعتبار سے خوب ترقی کر سکتا ہے۔
دنیا کا بلند ترین پولوگراونڈ شندور بھی اسی ضلع کے حدود میں واقع ہونے کے باوجود یہ علاقہ سیاحت کے حوالے سے وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جو ہنزہ، استور یا بلتستان ڈویژن کو حاصل

ہے۔
 اس علاقے کے سیاحت کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجوہات میں گلگت سے غذر کے مابین مرکزی شاہراہ کی خستہ حالی، مقامی سطح پر قیام و طعام کے انتظامات کا فقدان، سیاحتی مقامات کی عدم تشہیر، بین الاقوامی سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے ناکافی اقدامات اور سیاحتی مقامات و تاریخی ورثے کی تزئین و آرائش کے لیے وسائل کی عدم فراہمی شامل ہیں۔
ان تمام مسائل کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق مقامی منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت سے ہے جن سے ان سب کی کوتاہی اور عوامی معاملات میں عدم دلچسپی کی عکاس ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت غذر سمیت گلگت بلتستان کے تمام سیاحتی مقامات کی قومی و بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ہوٹل انڈسٹری، کمیونیکیشن اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مقامی لوگوں کی مشاورت اور مفاد عامہ کے منصوبوں کے اجرا کے لیے اقدامات کرے، تاکہ اس سے علاقے میں سیاحتی شعبے کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ غربت و بیروزگاری کے خاتمے میں بھی مدد مل سکے۔







بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر


Jang
اداریہ13 مئی، 2020
برسوں سے مسلسل تاخیر کے شکار دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فوری آغاز کا حکومتی فیصلہ روز بروز بڑھتی ہوئی پانی کی قلت کے تناظر میں بلاشبہ ایسا اقدام ہے جس میں مزید لیت و لعل کا یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پانی کے تحفظ اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا جو یقینی طور پر وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ پاکستان میں پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت کا اندازہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر عالمی اداروں کی ان رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے جن کی رُو سے 2040تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔ ہمیں ہر سال تقریباً 145ملین ایکڑ فِٹ بارش کا پانی دستیاب ہوتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے 14ملین ایکڑ ف فٹ سے بھی کم پانی بچتا ہے۔ ارسا کے مطابق پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 21ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین مزید ڈیموں کی ضرورت ہے۔ پانی کے قومی تحفظ کی پالیسی اور ڈیموں کی تعمیر سے متعلق اس اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بھاشاڈیم کی تعمیر کے حوالے سے آباد کاری اور مالیاتی وسائل کی فراہمی کے لیے تفصیلی روڈ میپ سمیت تمام مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور یہ منصوبہ اب عملی کام کے آغاز کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں داسو ڈیم‘ نولانگ ڈیم‘ مہمند ڈیم اور سندھ بیراج پر تعمیراتی کام کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پربتایا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے 16ہزار 500ملازمتیں اور 4ہزار 500میگاواٹ پن بجلی کی تیاری کے علاوہ 12لاکھ ایکڑ زرعی اراضی بھی سیراب ہوگی جبکہ تربیلا ڈیم کی زندگی 35برس بڑھ جائے گی۔ وزیراعظم نے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق ملازمتوں میں مقامی آبادی کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے اور کئی حوالوں سے مثبت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈیموں کی تعمیر متعلقہ صنعتوں کی ترقی اور علاقے کی خوشحالی کا ذریعہ بنے گی، اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو زندگی کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور یہ بجائے خود ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کے حصے کے طور پر علاقے کی سماجی ترقی پر 78ارب 50کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ یہ ڈیم سیلاب کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور ہر سال سیلاب سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان سے بچائے گا۔ وزیراعظم نے حال ہی میں شروع ہونے والے مہمند ڈیم کے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اورہدایت کی کہ داسو جیسے اہم منصوبے پر بھی جلد کام شروع کیا جائے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں نولانگ ڈیم کے لیے فنڈز کا انتظام ہو گیا ہے اور اس پر اگلے سال کام شروع ہو جائے گا۔ بھاشا ڈیم کے حوالے سے یہ امر قابل ذکرہے کہ اس کے لیے مختص زمین خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان واقع ہے اوربھارت گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ قرار دیتا ہے جس کی بناء پر عالمی مالیاتی ادارے اس ڈیم کے لیے مالی تعاون سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یہ منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا تھا لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے مزید پیش رفت نہ ہو سکی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈیم کی تعمیر کی لاگت جس کا تخمینہ ابتداء میں 12ارب ڈالر تھا کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت نے اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کی حکمت ِعملی وضع کی ہوگی۔



”روداد محفلِ مسالمہ و یومِ انگور“




تحریر: جمشیدخان دُکھی  ؔ

حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے تعاون سے30ستمبر 2019کو سوموار کے دن سہ پہر چار بجے ”سالانہ انگورڈے“بمقام خومر گلگت ڈاکٹرانصار الدین مدنی کے گھر میں منعقدہوا۔ جس میں حاذ کے شعراء اور صحافت سے وابستہ احباب شریک ہوئے۔ اس بار انگورڈے کے مہمان خصوصی معروف معیشت دان اور سابق عبوری وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب شیرجہان میر تھے۔ 30ستمبر کومحرم 1441ھ کی بھی 30تاریخ تھی۔اس لئے اس بار یوم انگورکے دوران محفل مشاعرہ کے بجائے  ”محفل مسالمہ“کااہتمام کیاگیاتھا۔ شعراء کرام نے اس موقع پر امام عالی مقام کے حضور منظوم گلہائے عقیدت پیش کئے۔ جو شعراء کرام محفل مسالمہ میں شریک ہوئے ان میں صدر حاذ پروفیسر محمدامین ضیا، سینئرنائب صدر عبدالخالق تاج، غلام عباس نسیم، آصف علی آصف، رحمان آہی، توصیف حسن، ناصرنصیر،شاہ جہان مضطر،رضا عباس تابش، یونس سروش،نوید نگری، عارف شیر الیاٹ اور جمشید دُکھی کے نام شامل ہیں۔ نظامت کے فرائض حاذ کے سیکریٹری مالیات غلام عباس نسیم نے انجام دئیے۔پروگرام کاآغازتلاوت کلام پاک سے کیاگیا۔ تلاوت کی سعادت معروف شاعریونس سروش نے حاصل کی۔ اس دوران مرحوم محمدظفرشاکر اور عبدالواحدگوہر کی ارواح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ معروف صحافی فہیم نے بھی اس محفل میں شرکت کی۔ معروف قلم کار احمدسلیم سلیمی نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ وقت فاسٹ ہے۔ایسے میں چند دیوانے ہیں جوعلاقے کے کلچر اور ادب کوپروان چڑھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ایسی محفلوں سے مقامی پھلوں کی طرف لوگوں کارجحان بڑھے گا۔ جہاں تک درس کربلا کاتعلق ہے تواس سے ایثار کاسبق ملتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نیک مقاصد کے لئے قربانی وایثار سے دریغ نہ کریں۔ مفتی ثناء اللہ صاحب نے بھی اس محفل میں شرکت کی۔ آپ نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ میں پہلی بار حاذ کی کسی محفل میں شرکت کررہاہوں۔ رب کریم نے انسان کوقوت گویائی عطافرمائی ہے۔ اگر انسانی زبان چل جائے تو بشرتکفیر کامرتکب ہوتا ہے۔حاذ کے احباب علم دوست لوگ ہیں۔ مجھے اس محفل میں سورہ فاتحہ کامنظوم مفہوم بھی سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ نے کہاکہ محبت اہل بیت ایمان کاجز ہے۔ آپ نے اپنے خطاب میں اہل بیت کرام اور اصحاب رسولؐ کی شان بیان کی اور حضور کے دور کے مدحت مصطفی کرنے والے شعراء کے مرتبہ ومقام پرروشنی ڈالی۔ ایگریکلچر آفیسرامتیاز نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرمدنی صاحب کو محکمہ زراعت کی رہنمائی حاصل ہے۔ اس سلسلے میں جوبھی مقامی پھلوں کی افزائش اور ترقی کے لئے آگے بڑھے تو ہمارامحکمہ رہنمائی کے لئے حاضر ہے۔ مہمان خصوصی جناب شیرجہان میر نے اپنے خطاب میں کہاکہ حاذ نے ایک ہی وقت میں ”محفل مسالمہ اوریوم انگور“ کاانعقاد کرکے یہ پیغام دیاہے کہ ہمیں اپنی پیداوارکی ترقی  کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گلگت  بلتستان میں لوگ زراعت اور پیدوار پرتوجہ کم دیتے ہیں اور ہرشخص نوکریوں کے حصول کیلئے سرگرداں رہتا ہے۔ اس ترجیح نے نوجوان نسل کومایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔ دوسری طرف بعض نوجوانوں نے ماہی پروری اورزراعت کی طرف توجہ دیکر لاکھوں روپے کمائے ہیں۔ لہٰذا نوجوانوں کواس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آپ نے کہاکہ حاذ ادب کاایک بڑا نام ہے۔ جنہوں نے قیام امن کے لئے بھی مثالی کرداراداکیا۔ علاقے میں ادب کے فروغ کیلئے حاذ کامثالی کردارناقابل فراموش ہے۔ آپ نے ڈاکٹرانصار مدنی کوبھی ”محفل مسالمہ اوریوم انگور“کے انعقاد پرخراج تحسین پیش کیا۔ مہمان خصوصی نے آخرمیں امام عالی مقام کے حضورمنظوم سلام عقیدت بھی پیش کیا۔حاذکی جانب سے ڈاکٹرانصارالدین مدنی کوصدر حاذ پروفیسرمحمدامین ضیاء نے تحفہ بھی پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز مہمان خصوصی اور حاذ کے اکابرین نے مکان کی چھت کے اوپر موجودانگور کی بیل کاٹ کرکی۔ آخرمیں میزبان ڈاکٹرانصارالدین مدنی نے مہمان خصوصی جناب شیرجہان میر، حاذ کے شعراء کرام اور میڈیاکے احباب کا اپنی اور تمام اہل خانہ کی جانب سے اس عزت افزائی پر شکریہ اداکیا۔ آپ نے اس موقع پر اپنا اور اپنے مرحوم والدکا شینامنظوم سلام عقیدت بحضور امام عالی مقام پیش کیا۔ اس کے بعد میزبان کی جانب سے مہمانوں کی خدمت میں تازہ انگورپیش کئے گئے اورچائے سے بھی تواضع کی گئی۔ تناول ماحضر کے بعد یہ محفل شام ہوتے ہی اختتام پذیرہوئی۔ یادرہے کہ یوم انگورپہلی بار 19اگست 2007کو معروف فوٹوگرافر مرحوم کریم جان نے اپنے دولت خانہ واقع کنوداس گلگت میں منعقد کیاتھا۔ جس میں جناب عنایت اللہ شمالی، ڈاکٹرمظفرریلے، عبدالخالق تاج،خوشی محمدطارق، ظفروقارتاج،مشتاق راہی، حفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، مسعود مدرس، جمشید دکھی اور معروف تاریخ دان جناب شیربازعلی برچہ شریک ہوئے تھے۔ اس یوم انگورکی خبر20اگست 2007کے روزنامہ محاسب گلگت بلتستان میں چھپ چکی ہے۔ کریم جان صاحب بعدمیں نومبر 2011کو اللہ کوپیارے ہوگئے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ بعدازاں یہ بیڑہ ڈاکٹرانصارمدنی نے اٹھایا۔ بلاشبہ ان کایہ اقدام قابل تعریف ہے۔کہتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی زندگی کازیادہ ترتوازن پودوں، درختوں اور جنگلوں پرقائم ہے۔ برطانیہ نے چارسوسال قبل درختوں کی کٹائی پر پابندی لگائی تھی اورجرمنی میں کوئی شخص حکومت سے تحریری اجازت لئے بغیر اپنے صحن کے درخت بھی نہیں کاٹ سکتا۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور فرانس وغیرہ میں درخت کاٹنا قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم کو درختوں کی افادیت معلوم ہونے کے باوجود کوئی پرواہ نہیں۔حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق درخت لگاناصدقہ جاریہ ہے۔ ہم اپنی زمینوں پر مکانات کی صورت میں پتھر اُگارہے ہیں اوردرختوں کوبے دریغ کاٹ رہے ہیں۔ ایک سرسبز وشاداب درخت سال میں جتنی آکسیجن پیداکرتا ہے وہ اگر لیبارٹری میں تیارکی جائے تو اس پرہزاروں ڈالرخرچ ہونگے۔ ایک ایکڑپرپھیلاہوا درختوں کاذخیرہ سال میں جتنی بارش کاموجب بنتاہے اگراتنی بارش مصنوعی طریقے سے پیداکی جائے تواس پر لاکھوں ڈالرخرچ ہونگے۔ ایک میل پر محیط جنگل زمین میں جتناپانی جمع کرتا ہے اگراتنا پانی انسانی کوشش سے جمع کیاجائے تواس پرایک چھوٹے سائز کے ڈیم کے برابرخرچ آئے گا۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم پھلداراور غیرپھلدار درختوں کی شجرکاری کرکے نہ صرف ایک صحت مندمعاشرے کے قیام کی راہ ہموارکرسکتے ہیں بلکہ علاقائی اور ملکی معیشت کوبھی مستحکم کرسکتے ہیں۔ ہماری سرزمین کی پیداوار چاہے پھلدار درخت ہوں یافصلیں ہماری صحت کے ضامن ہیں۔ فطرت نے ہماری صحت کی ضروریات ہماری زمین کی پیداوار میں رکھی ہیں۔ لیکن ہم اپنے علاقے میں بیٹھ کر مغرب کے منرل واٹرمیں صحت ڈھونڈرہے ہیں جوممکن نہیں۔درختوں سے انسانوں اور تمام ذی روح مخلوقات کوملنے والے آکسیجن اور مضرصحت گیس جذب کرنے کے دم سے ہی معاشرہ صحت مندرہتا ہے۔چنانچہ درخت لگانے والے کو اس کااجر بدستورملتا رہے گا۔حکومت کوبھی چاہیے کہ اب بھی علاقے میں موجود غیرآباد اور بنجرزمینوں میں باغات اگانے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک صحت مندمعاشرے کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیرہوسکے۔ ڈاکٹرمدنی کویہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مقامی پھلوں کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے ”سالانہ یومِ انگور“ منانے کااہتمام کرتے ہیں۔خداوندقدوس انہیں اس کااجر عطا کرے۔محفل مسالمہ کااختتام مہمان خصوصی کے خطاب کے ساتھ ہی ہوا۔اس حوالے سے صرف اتناکہوں گا کہ پرانے یزیدنے امام عالی مقام اوراس کی آل کو بھوک وپیاس سے اذیت دیکر شہیدکیا جبکہ عصرحاضر کے یزید نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور وہ جس قوم کو گھیرناچاہے تواسے امداددیناشروع کردیتا ہے۔ لہٰذا عصرِ حاضر کے مسلمانوں کوبھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظرمیں لکھاگیا اپنے اس قطعہ کے ساتھ اجازت چاہوں گا:۔

اُس دور کے یزیدنے پانی دئیے بغیر
مظلوم کربلا میں بہتر(72) کئے شہید
اِ س دور میں ستم کے طریقے بدل گئے
مارے کھلا پلا کے نئے عہد کا یزید






VC KIU Dr Atta Ullah Shah

گلگت بلتستان انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی تعلیم اوراس کا فروغ

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج کا دُور جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی روز افزاء ترقی کا مرہون منت ہے۔اس جدید دور میں نت نئی ایجادات انسانی زندگی کے لئے مزید آسائش پیدا کررہی ہیں۔کسی بھی معاشر ے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہاں علوم وفنون،سائنس،انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی ایک متوازن علمی اور تحقیقی نظام موجود ہوں تاکہ معاشرہ ترقی کے تمام مراحل کامیابی سے طے کرتے ہوئے مُلکی اور بین الاقوامی سطح پر دیگر معاشروں کے ساتھ ایک متحمند مسابقت کے ذریعے بہتری کی طرف گامزن ہو۔گلگت بلتستان میں جامعہ قراقرم کا قیام تاریخی،علمی اور فکری لحاظ سے ایک بڑا کارنامہ سمجھا جاتاہے۔کیونکہ اس دانشگاہ کے قیا م سے ہزاروں طلبہ وطالبات کی علمی اور فکری تشنگی کی آبیاری کے لئے ایک نادر موقع فراہم ہوسکا۔پچھلے 15,16سالوں کے دوران اس مادرعلمی سے تقریباً12ہزار سے زائد طلباء فارغ اتحصیل ہوچکے ہیں۔آج جامعہ قراقرم اپنی نئی کُلیات اور 20شعبہ جات کے ذریعے بیک وقت 5ہزار سے زائد طلباء کی ذہنی اور فکری بالیدگی میں اپنا ایک فعال کردار ادا کررہاہے۔اس عرصہ کے دوران جامعہ قراقرم نے تقریباًتمام شعبوں میں سینکڑوں گریجویٹ پیدا کئے ہیں جواس وقت پورے مُلک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس ضمن میں انجینئرنگ اور میڈیکل کے میدان میں جامعہ قراقرم نے ابتدائی طور پر زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ ابتدائی طور پر یونیورسٹی کے ساتھ محدود وسائل کی پیش نظر یہاں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی تعلیم کا آغاز یقیناایک مشکل کام تھا۔تاہم یونیورسٹی نے اپنے محدود وسائل کے باوجود کمپیوٹر سائنس،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوفٹ ویئر انجینئرنگ میں شعبہ کمپیوٹر سائنس میں شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیر نگرانی کامیاب BSپروگرام شروع کئے جن میں سینکڑوں طلباء اس وقت ڈگریاں حاصل کرچُکے ہیں اور مختلف اداروں میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
انجینئرنگ تعلیم کے حوالے سے ابتدائی طورپر کاوش بھی ہوئی اور مائننگ انجینئرنگ کا پروگرام 13/2012میں شروع بھی کیاگیاتاہم وسائل کی کمی کی وجہ سے انجینئرنگ ایجوکیشن کے لئے درکار وسائل جن میں فیکلٹی،لیب اور لیبارٹری کے آلات وغیر ہ شامل ہیں کی کمی کی وجہ سے اس میں کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔بلکہ اس ضمن میں قراقرم یونیورسٹی کو ابتدائی طورپر پاکستان اُنجینئرنگ کونسل کی جانب سے کافی مشکلات کا سامنا بھی کرناپڑا کیونکہ اس پہلے پروگرام کی اجراء کے لئے در کار ذرائع اور وسائل کی کمی کی وجہ PEC نے اس کو باقاعدہ منظورنہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس میں کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔بلکہ اس ضمن میں قراقرم یونیورسٹی کو ابتدائی طور پر پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا کیونکہ اس پہلے پروگرام کی اجراء کے لئے درکار ذرائع اور وسائل کی کمی کی وجہ PECنے اس کو باقاعدہ منظور نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی 14طلباء کی مائنگ انجینئرنگ کی ڈگری کی منظوری پاکستان انجینئرنگ کونسل سے حاصل نہیں ہوسکی۔2014-15میں انجینئرنگ ایجوکیشن کو مربُوط طریقے سے پاکستان انجینئرنگ کے زیر سایہ شروع کرانے کے لئے ایک میگا پراجیکٹ کی منظوری دی گئی۔جس کے دو حصے تھے۔ایک میں گلگت میں انجینئرنگ فیکلٹی کا قیام اور دُوسرے حصے میں سکردو کیمپس میں تعلیمی اور تحقیقی ضروریات پُوری کرنے کے لئے نئی عمارات اور لیبارٹری کا قیام تھا۔تاہم 2017ء میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے کے آئی یو سکردُو کیمپس کو باقاعدہ یونیورسٹی آف بلتستان کا درجہ دیاگیااور گلگت میں انجینئرنگ فیکلٹی کے قیام کا منصوبہ بدستور جاری رکھا گیا۔راقم نے پچھلے سال شیخ الجامعہ کا قلمدان سنبھالنے کے فوراًبعد پاکستان انجینئرنگ کونسل کی اجازت سے باقاعدہ بی ایس مائینگ انجینئرنگ پروگرام کا اجراء کیاجوگلگت بلتستان میں انجینئرنگ ایجوکیشن کا قانونی آغاز سمجھاجاتاہے۔
    گلگت بلتستان میں انجینئرنگ فیکلٹی کے قیام کے حوالے سے 5سالہ منصوبہ بندی کی گئی جس کے رُو سے سال 2018-19کے دوران مائننگ انجینئرنگ کاباقاعدہ آغاز کیاگیا۔اس شعبے میں ابتدائی طور پر 16طلباء نے داخلہ لیاجس کو پروگرام کے لئے ایک کامیاب آغاز تصور کیاجاتاہے۔اس شعبے میں ابتدائی طور پر دوPhDکے علاوہ چار MSفیکلٹی لیئے  گئے تاکہ تعلیم کے لئے درکار معیار کو روز اول سے قائم رکھ سکے۔اس شعبے کے سامنے چند اہم سیپشلائزیشن میں مائینگ انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔یہاں قیمتی پتھروں کو زیادہ فعال طریقے سے کٹنگ،بالسٹنگ وغیرہ کراکے ان کو سرٹیفیکیشن کے ذریعے بین الاقوامی منڈیاں خصوصاًچین تک پہنچایاجاسکتاہے۔گلگت بلتستان کے معدنی ذخائر کی دریافت کرکے اُن کو یہاں کی تعمیرو ترقی میں استعمال کرانااور قدرتی آفات کے حوالے سے سیلائیڈنگ اور زلزلوں وغیرہ پر دوسرے شعبہ جات اور حکومتی اداروں کے ساتھ کام کرکے مائینگ انڈسٹری کویہاں کی معاشی اور سماجی ترقی میں مؤثر طریقے سے استعمال کرنا شامل ہیں۔مائنگ انجینئرنگ اور اس کی فیکلٹی اور سٹاف کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان فیلڈز میں جدید رُجحانات کو سمجھتے ہوئے اپنے طلباء میں وہ صلاحتیں پیدا کریں جواُن کو مستقبل میں گلگت بلتستان اور پاکستان میں مائننگ انڈسٹری کے حوالے سے درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے اور اُن کے لئے دیر پا قابل عمل حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جدید طریقہ کار کے مطابق پاکستان واشنگٹن معاہدے کا رُکن بن گیاہے۔لہذا انجینئرنگ تعلیم کی منظوری کے لئے نتائج پر ممبنی نظام تعلیم Out Come Based Educationانجینئرنگ تعلیم کا ایک لازمی جزو ہے۔چنانچہ اس پروگرام میں شریک طلباء کی ایگریڈیشن واشنگٹن معاہدے کی رُو سے کی جائے گی۔جس کے لئے طلباء،فیکلٹی اور ستاف کو مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔
    انجینئرنگ فیکلٹی کے اگلے مرحلے میں سول انجینئرنگ کی اجراء کا پلان ہے۔جس میں سول انجینئرنگ کا قیام عمل میں لایاگیاہے اور اس سال بی ٹیک سول انجینئرنگ کے پروگرام کی تجویز ہے۔سول انجینئرنگ بی ایس پروگرام کے اجراء کے لئے بنیادی طورپراہم ضروریات فیکلٹی،لیبارٹریز اور دفاتر کے لئے درکار جگہ اور لیبارٹریز کے مشین اور آلات،انجینئرنگ فیکلٹی کے ابتدائی منصوبے میں دو شعبہ جات یعنی مائننگ انجینئرنگ اور سول انجینئرنگ تجویز کی گئی ہے۔ان کے لئے ابتدائی طورپر ایک بامقصد عمارت تعمیر کرنے کا آغاز بھی کیاگیاتاہم اراضی کے تنازعے کی وجہ سے منصوبہ تقریباًایک سال تاخیر کا شکار بھی ہوا۔تاہم علاقے کے اکابرین،حکومت کے آئی یو سٹاف اور سول اور ملٹری لیڈر شپ کے تعاون سے یہ تنازعہ احسن وبخوبی حل ہوگیااور فیکلٹی عمارت کی تعمیر دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔توقع کی جاتی ہے کہ اگلے سال سول انجینئرنگ پروگرام کے آغاز تک بی ایس پروگرام کے لئے درکار جگہ اور لیبارٹریز اور سٹاف مہیا ہوسکے گا۔سول انجینئرنگ پروگرام کے سامنے چند اہم چیلنجز میں گلگت بلتستان میں اربن پلاننگ،لینڈیوز پلاننگ،سیوریج سسٹم ڈئزائن،سالیڈویسٹ منیجمنٹ،سلائیڈنگ کے روک تھام کے لئے حکمت عملی،زلزلوں سے محافظ انفراسٹرکچر کا ڈیزائن اور تعمیر وغیر ہ شامل ہیں۔چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC)رُو سے مستقبل میں ہونے والی تعمیرات کے لئے درکار انسانی وسائل کی فراہمی میں بھی یہ شعبہ انتہائی اہم کردار ادا کرسکتاہے۔
 انجینئرنگ فیکلٹی کے قیام کے تیسرے مرحلے میں ہائیڈروپاور انجینئرنگ کا شعبہ قائم کرنے کا پلان ہے۔گلگت بلتستان میں آبی وسائل کی فراوانی،دریاؤں اور نالوں کی موجودگی یہاں پن بجلی کی پیدوار کے بے تحاشا مواقع فراہم کررہے ہیں۔اس وقت اس خطے میں کم از کم 50ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن بدقسمتی سے قانونی مشکلات اور درکار انسانی وسائل کی کمی کی وجہ سے محض 150میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے۔اس ضمن میں پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں اور دریاؤں پر پن بجلی کی پیداوار کے لئے منصوبے بنانے کی ضرورت ہے۔گلگت بلتستان فی الحال ملکی گرڈ سے بھی منسلک نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں فاضل بجلی کو ملک کے دیگر علاقون تک بھجوانا بھی ایک بڑا چینلج ہے۔اگر گلگت بلتستان کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیاجائے اوریہاں پن بجلی کی پیدوار ی صلاحیت کو کُلی طورپر استعمال کیاجائے تو یقینی طور پر اس خطے سے غربت اور افلاس کو ختم کیاجاسکتاہے۔ان منصوبوں سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں ہائیڈرو پاور انجینئرنگ کے شعبے کوقائم کراکے اس کے لئے درکار انسانی وسائل کو فراہم کیاجائے۔چنانچہ 2020ء میں سول انجینئرنگ کے قیام کے بعد 2021ء میں ہائیڈرو پاور انجینئرنگ کا شعبہ قائم کرانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔اس شعبے کے سامنے جو چیلنجز رکھے جائیں گے اُن میں بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ فعال بنانا،سمالی ہائیڈلی پراجیکٹس کے لئے فزیبلٹی سٹڈیزکراکے اس خطے میں پن بجلی کے مواقع تلاش کرانا،چھوٹے ٹربائن کی ڈئزائننگ اور مینوفیکچرنگ،پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کے لئے درکار درپانی کی تلاش اور فراہمی۔متبادل اور قابل تجدید توانائی کے میدان میں جدید مواقع فراہم کرانااور مستقبل میں توانائی کے میدان میں گلگت بلتستان اور پورے ملک میں درپیش مسائل کوحل کرانا شامل ہیں۔
  گلگت بلتستان چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری کے دروازے کی حیثیت رکھتاہے اور مستقبل میں اس عظیم منصوبے کے ذریعے یہاں کے عوام کو زیادہ ترقی کے مواقع فراہم ہونے کا امکان بھی سب سے زیادہ ہے۔تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مواقع سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لئے درکار انسانی وسائل بروقت فراہم کی جائے۔اس ضمن میں جامعہ قراقرم کا کردار انتہائی اہم ہے اور انجینئرنگ فیکلٹی اس مقصد کے حصول میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گی۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی فیکلٹی کے قیام کے اس منصوبے اور اس کے ذریعے گلگت بلتستان میں صنعتی اور انجینئرنگ ٹیکنالوجی کا انقلاب لانے میں ہمارا حامی وناصر ہوں۔آمین آمین۔

















   ”شنا کے نامور شعرا ء غلام نبی وفا اور عبداللہ ملنگ کے ساتھ ایک محفل شعر 

و سخن“





حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے زیراہتمام ماہانہ مشاعرہ 31مارچ 2019کو اتوار کے دن 2بجے ریویریاہوٹل گلگت میں انعقاد کیاگیا۔ جس میں مہمان خصوصی اور میر محفل کے علاوہ صدر حاذ پرو فیسر محمد امین ضیاء، سینئر نائب صدر عبد الخالق تاج ، نائب صدر خوشی محمدطارق،محمدنظیم دیا،غلام عباس نسیم،،یونس سروش، فاروق قیصر، آصف علی آصف، عزیز احمد، حور شاہ حر، شاہ جہان مضطر، ناصر نصیر، رضا عباس تابش، نزیر حسین نزیر، اور جمشیدخان دُکھی کے نام شامل ہیں۔ نظامت کے فرائض حاذ کے سیکریٹری مالیات غلام عباس نسیم نے انجام دیئے۔ الحاج حواس خان، جناب احمد سلیم سلیمی، جناب جہانگیر، لکچرر کریم مدد کے علا وہ پرنٹ میڈیا کے احباب جناب شبیر میر،تنویر احمد، طاہر رانا، عبدالستار،فرمان کریم اور میڈیا تھاٹس ریکارڈر کے احباب نے شرکت کی۔ اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شینا کے معروف شعراء ماسٹر غلام نبی وفا اور جناب عبداللہ ملنگ با لترتیب مہمان خصوصی اور میر محفل تھے۔ مہمان خصوصی اور میر محفل کی آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور صد ر حاذ اور سینئر نائب صدر نے معزز مہمانوں کو ہار پہنایا۔1970کی دہائی کے شینا شاعروں میں ان شعراء کی ممتاز حیثیت رہی ہے۔جناب غلام نبی وفا مجھ سمیت حاذ کے صدر، سینئر نائب صدر اور غلام عباس نسیم کے تاریخی ہائی سکول گلگت میں استاد رہے ہیں۔ آپ کے مطابق 29جنوری1933کو پیدا ہوئے۔ بی اے۔ بی ایڈ تک تعلیم حاصل کی۔ ہیڈماسٹر کی حیثیت سے محکمہ تعلیم جی بی سے آپ 1993میں ریٹائر ہوئے۔آپ کا آبائی تعلق بگروٹ سے ہے اور آج کل جلال آباد میں رہا ئش پزیر ہیں۔1956-57یعنی تقریبا 24سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ آپ کے مطابق آپ کی شینا شاعری کا مسودہ 1988کے فرقہ ورانہ فسادات کے دوران نذر آتش کیا گیا جس سے میر ا شعری میلان بے حد متاثر ہوا۔ اس موقع پر معروف شاعر جناب عبدالخالق تاج نے غلام نبی وفا کا شینا کلام گا کر خوب داد حاصل کی۔ ماہرین کے مطابق جو خصوصیت کلام اسے دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے وہ محبت کا اظہار عورت کی زبان سے ہے جس میں وہ محبوب کے ہجر میں اپنے دلی جذبات کو بیان کرتی ہے۔ شینا شاعری میں فارسی اور عربی شاعری کے بر عکس اظہار محبت مرد اور عورت دونوں کی زبان سے کرایا جاتا ہے۔ وفا نے اپنے علاقے یعنی گلگت سے محبت اور عقیدت کا اظہار شینا شاعری میں خوب کیا ہے۔ ان کی ایک شینا رباعی کا ترجمہ کچھ

یو ں ہے

” اے میرے پیارے وطن تیرے گلشن کے کانٹے بھی مجھے پھول لگتے ہیں اور تیری ندی کا پانی میرے لیئے زم زم کی طرح متبرک ہے۔ میرا گلگت تو بے مثال ہے ہی میرے ہرالی کے پہاڑی ڈھلوان بھی لندن اور پیرس سے کسی طرح کم نہیں“

اس موقع پر مہمان خصوصی جناب غلام نبی وفا نے اپنا منتخب شینا کلام سنایا اور اپنے نثری خطاب میں حاذ کا اس محفل کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ خوبصورت محفل بہت پسند آئی۔ انشاء اللہ اگلے مشاعرے میں تازہ کلام لے کر حاضر ہو جاوٗں گا۔

تقریب کے میر محفل جناب عبداللہ کا تعلق حراموش سے ہے اور جن کا تخلص ملنگ ہے۔ ملنگ کے مطابق آپ 1935میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ باقا عدگی سے کہیں سے تعلیم حاصل نہیں کی البتہ ابتدائی طور پر اسلامی تعلیم حاصل کرنے کی ضرور کو شش کی جس کے نتیجے میں اب بھی تھوڑا بہت لکھ پڑھ سکتا ہوں۔ ملنگ کی اپنی مخصوص آہنگ ہے اور آپ اسی میں شینا شاعری کر تے ہیں۔ آپ نے اس موقع پر امن اور محبت پر مبنی پیغام شینا کلام کی صورت سنا کر سامعین کو محظوظ کیا۔انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے اس محفل میں شرکت کر کے بہت خوشی ہوئی۔معاشرے میں ہمارے شعراء کی آواز مقبول عام ہے اور عزم وزن دار ہے اس لیئے میری دعا ہے کہ یہ پر عزم قافلہ رواں دواں رہے۔ اس بات کی انتہائی خوشی ہوئی کہ شعراء نے شینا کو نہیں چھوڑا ہے اور تمام شعراء نے معیاری شینا کلام سنایا۔ انشاء اللہ آئندہ بھی حاذ کی محفلوں میں شر کت کی کو شش کرینگے۔

آخر میں حاذ کے صدر پرو فیسر محمد امین ضیاء نے اپنے خطاب میں مہمان خصوصی اور میر محفل کا اس پروگرام میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غلام نبی وفا ان شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے شینا زبان کو جدید شعری حسن اور غزل کا روپ بخشا۔ آپ نے کہا کہ عبد اللہ ملنگ کسی خصوصی بحر میں شاعری نہیں کرتے بلکہ ان کی اپنی منفرد دھن اور آہنگ ہے۔ ان کا مخصوص شعری مزاج ہے۔آپ اپنی شاعری میں ٹھیٹھ شینا الفاظ آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ان کا یہ عمل نئی نسل کے لئے مردہ الفاظ کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شینا کے ان عظیم شعراء کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پرقائم رہے۔ نزیر حسین نزیر،رضا عباس تابش،حور شاہ حر، عزیز احمد اورفاروق قیصر نے اپنا غیر طرحی کلام سنا کر خوب داد حاصل کی۔ اس مو قع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کی ان شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ان میں ہنزہ کی انیتہ کریم جس نے مکس مارشل آرٹس میں عالمی ٹائٹل جیت لیا،اوشی کھنڈ داس کی خاتون سلیمہ بیگم نے بین الاقوامی مقابلے میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ حاصل کیا، خصوصی افراد کے لئے منعقد ہو نے والے اولمپکس میں جی بی کے کئی افراد نے مختلف اعزازات حاصل کئے، انٹرنیشنل گلوبل ولیج آرگنائزیشن کی جانب سے مزاح کے شعبے میں خومر گلگت کی معروف شخصیت جناب محمد انور خان کو ایوارڈ ملا، مرحوم اشرف علی لائبر یرین اور ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کو خصوصی ایوارڈ دیئے گئے، شامل ہیں۔ بعد ازاں بلتستان یونیورسٹی کے پرو فیسر ڈاکٹر ارشاد کی علمی خدمات کو سراہا گیا اور ان کی اچانک موت پر دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ اس کے علاوہ معروف عالم دین مولانا حبیب اللہ اور نگرل کے محمد امین کی وفات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کی ارواح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ گزشتہ مشاعرہ میں درج ذیل مصرع بطور طرح دیا گیا تھا:
                                    ”ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے “

  جن شعراء نے طرحی کلام سنایاان کا نمونہ باذوق قارئین کی نذر ہے:۔

پروفیسرمحمدامین ضیاء
پیارے اللہ کو ہونے سے پہلے بہتر تھا
ہم گنہگار بھی اللہ کو پیارے ہو تے
۔۔۔

عبدالخالق تاج
جہاں کے واسطے جنت سے نکالا ہے ہمیں
یہی ہو نا تھا ہمیں،خاک ستارے ہوتے

خوشی محمدطارق
یہ جو بیٹھے ہیں ابھی ساتھ ہمارے یہ لوگ
یہ کہیں اور جو ہوتے تو ستارے ہوتے

محمد نظیم دیا
تیرے کو چے میں مرا، یار اگر گھر ہوتا
کتنا اچھا تھا سدا وارے نیارے  ہوتے


بات بنتی جو ہمارے ہوتے
مندروں میں رام اب بکنے لگے

غلام عباس نسیم
باب رحمت پہ جبیں رکھ کے میں اتنا  روتا
دل مضطر  سے بھی اشکوں کے فوارے ہوتے

یونس سروش
بیج تفریق و تعصب کے نہ بوتے تو سروش
کتنے دلکش مری دھرتی کے نظارے ہوتے

آصف علی آصف
ہوتا حا صل جو کبھی  تیری زیارت کا شرف
پھر مرے سامنے جنت کے نظارے ہوتے

عرفان اللہ عرفان
ناتواں دوش پہ یہ بار گراں کیا معنی
کاش ہم خلدبریں سے نہ اتارے ہوتے

شاہ جہان مضطر
کوچہ یار سے اک بار ہمیں بھی مضطر
یوسف مصر کی مانند گزارے ہوتے

جمشیدخان دکھیؔ
کیا نہ بہتر تھا کہ ہو جانے سے مرکر پیارا
زندگی میں ہی جو اللہ کو پیارے ہوتے



”اتنی خوشیاں کہاں سے لاتے ہو“









https://gbnewsupdates.blogspot.com/p/blog-page_91.html

تالیاں بجاتی لڑکیاں


2012ء میں ایک وڈیو کلپ منظر عام پر آیا، یہ وڈیو کوہستان کے ایک دور افتادہ گاؤں سرتائی میں ہونے والی کسی شادی کی تقریب کی تھی، اس کلپ میں پانچ لڑکیاں نظر آرہی تھیں جنہوں نے سروں پر چادریں اوڑھ رکھی تھیں جبکہ دو لڑکے روایتی موسیقی پر رقص کر رہے تھے اور یہ لڑکیاں انہیں دیکھ کر تالیاں بجا رہی تھیں۔ آٹھواں شخص ایک لڑکا تھا جس نے یہ وڈیو بنائی۔ سرتائی گاؤں قراقرم ہائی وے سے دو دن کی ’’واک‘‘ پر واقع ہے اور شادی کی ’’تقریب‘‘ کی وڈیو دیکھ کر اس کی پسماندگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ کلپ اُس گاؤں میں پھیل گیا جس کے فوری بعد جرگہ بلایا گیا جس میں چالیس سے پچاس افراد شریک ہوئے، قبیلے کی غیرت پر ماتم وغیرہ کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ لڑکیوں کو تالیاں بجانے کی بے غیرتی کی سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ 30مئی 2012ء کو پانچوں لڑکیوں کو قتل کرکے دفنا دیا گیا۔ یہ بات مزید پھیل کر میڈیا میں آ گئی، اُس وقت کی عدالت عظمیٰ نے اِس واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور کے پی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی، جواب میں پوری صوبائی انتظامیہ بشمول چیف سیکریٹری، ڈی آئی جی، کمشنر سب طرم خان، عدالت میں پیش ہوئے اور یک زبان ہوکر بیان دیا کہ انہیں لڑکیوں کے قتل ہونے کے کوئی ’’شواہد نہیں ملے‘‘۔ معزز ججوں نے بار بار اُن سے پوچھا کہ کیا اُن کی لڑکیوں سے بات ہوئی، کیا اِس بات کا ثبوت موجود ہے کہ لڑکیاں زندہ ہیں مگر جواب میں سب خاموش کھڑے رہے، ڈی آئی جی صاحب نے ایک بیورو کریٹک قسم کا جواب دیا کہ ہم نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کیں، مقامی افراد سے ملاقات کی، قبرستان بھی گئے مگر کوئی بندہ بھی سامنے نہیں آیا جو یہ کہہ سکے کہ قتل کا کوئی واقعہ ہوا ہے، ہم اُس مذہبی عالم سے بھی ملے جس نے مبینہ طور پر لڑکیوں کے قتل کا فتویٰ دیا مگر اُس نے ایسے کسی بھی فتوے کی تردید کی۔ ایسے میں جب یہ تمام پھنے خان افسر عدالت میں کھڑے ہو کر ہومیو پیتھک بیان دے رہے تھے، قتل ہونے والے لڑکوں میں سے ایک کا بھائی افضل کوہستانی سامنے آیا اور عدالت کو بتایا کہ پانچوں لڑکیاں قتل ہو چکی ہیں، اُس نے تمام کے نام بھی بتائے اور یہ بھی بتایا کہ کن چار گواہوں کی موجودگی میں انہیں قتل کیا گیا۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے افضل کوہستانی نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ اور جرگے کے لوگ اس معاملے پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں، اُن کے خاندان کے سو کے قریب لوگ اپنی زمین چھوڑ کر جا چکے ہیں کیونکہ اُن کی جان کو خطرہ ہے اور خود وہ بھی اسلام آباد اسی لئے آئے ہیں کہ جرگے کے لوگ اُنہیں بھی قتل کرنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد کیس داخل دفتر کر دیا۔ افضل کوہستانی نے مگر ہمت نہیں ہاری، اُس نے جرگے کے بے رحم فیصلے اور قبیلے کی فرسودہ روایات کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی اور https://gbnewsupdates.blogspot.com/جنوری 2013میں سپریم کورٹ میں ایک تازہ درخواست ڈال دی کہ کیس کو دوبارہ کھولا جائے، اس جرم کی پاداش میں اُس کے تین بھائیوں کو، جن میں سے دو اُس وڈیو میں شامل تھے، قتل کر دیا گیا۔ اس پورے عرصے میں پولیس یہی موقف اختیار کرتی رہی کہ لڑکیاں زندہ ہیں مگر اپنی روایات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں، ایک موقع پر دو لڑکیوں کو پیش بھی کیا گیا مگر پتا چلا کہ یہ اور ہیں، وہ نہیں جو وڈیو میں تھیں، خیر یہ ڈرامہ یونہی چلتا رہا اور بالآخر اگست 2018میں کوہستانی پولیس نے رو پیٹ کر اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی، تین ملزمان کو اس بہیمانہ قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا جنہوں نے اقرارِ جرم بھی کر لیا۔ افضل کوہستانی کو تمام عرصے میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں، اُس نے پولیس اور انتظامیہ کو اس سے آگاہ بھی کیا مگر اپنی جدوجہد نہ چھوڑی، اُس کا عزم تھا کہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، کوہستانی نے یہ بھی کہا کہ اگر اُس کی جان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار ہزاہ پولیس ہو گی، اس بیچارے کا خیال تھا کہ اکیس کروڑ کے ملک میں جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، اُس کی فریاد شاید کوئی اللہ لوک افسر سُن لے، مگر اس غریب کو شاید علم نہ تھا کہ افسر لوگ صرف ریٹائرمنٹ کے بعد ہی اللہ لوک بنتے ہیں اُس سے پہلے وہ صرف افسر ہوتے ہیں۔ سو، گزشتہ جمعرات 7مارچ 2019ء کو افضل کوہستانی کو ایبٹ آباد میں ’’نامعلوم افراد‘‘ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
سات برس پر پھیلی ظلم کی یہ داستان شاید ہی ہم میں سے کسی کا دل دہلائے، ایک ایسے ملک میں جہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو کہ لیڈر کس زبان میں تقریر کرے، وہاں کسی افضل کوہستانی کے قتل کی خبر کیا معنی رکھتی ہے! اس قتل کی سنگل کالمی خبر اردو اخبار میں شائع ہوئی اور ماسوائے ایک انگریزی اخبار کے کسی نے اس پر اداریہ لکھنے کی زحمت نہیں کی۔ ضرورت بھی کیا تھی، افضل کوہستانی کیا بیچتا تھا جو اُس پر اداریے لکھے جاتے۔ وہ انسانی حقوق اور انصاف مانگتا تھا ایک ایسے معاشرے میں جہاں اچھے خاصے پڑھے لکھے اور بظاہر مہذب نظر آنے والے بھی اندر سے اسی طرح ’’غیرت مند‘‘ ہیں جیسے وہ جرگہ جس نے اُن پانچ لڑکیوں کے قتل کا فیصلہ سنایا۔ افضل کوہستانی نے اُن قتل ہونے والی لڑکیوں کا مقدمہ لڑنے کا غلط فیصلہ کیا، اُس کا یہی انجام ہونا تھا۔ اس کے بجائے اگر وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد وہ سیدھا کسی مغربی ملک کے سفارت خانے کا در کھٹکھٹاتا اور کہتا کہ اُس کے خاندان کی جان کو خطرہ ہے، اپنے ملک میں پناہ دیدو، تو آج وہ اپنے بھائیوں سمیت زندہ سلامت یورپ کی آزاد فضا میں سانس لے رہا ہوتا، وہاں اسے کسی جرگے کی پروا ہوتی اور نہ قبیلے کی فرسودہ روایات کا خوف۔ افسوس کہ اُس نے اپنے ملک کے اداروں کو آزمانے کا فیصلہ کیا، اس کے قتل کے ساتھ اُس کی اپنی خوش فہمی بھی دفن ہو گئی اور ساتھ ہی اُن لوگوں کی بھی جو اسی کی طرح خوش گمانی رکھتے تھے۔
یہ ہم لوگ جو ایک دوسرے سے اٹھے بیٹھے پوچھتے رہتے ہیں کہ اس ملک کا مسئلہ کیا ہے تو آج ایسے تمام لوگ نوٹ فرما لیں کہ اس ملک کا مسئلہ آئین میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں ناکامی ہے، یہ آئین ہی ہے جو تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابر کہتا ہے، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرنے کا یقین دلاتا ہے، آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، اپنے مذہب اور مسلک کے مطابق زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کی آزادی دیتا ہے، انصاف کی فراہمی کا وعدہ کرتا ہے اور اس ملک میں بسنے والی عورتوں کو بھی اتنے ہی حقوق دیتا ہے جتنے کسی مرد کو۔ آئین تو یہ تمام حقوق دیتا ہے مگر ہم ایک دوسرے کو یہ حقوق دینے کے لئے تیار نہیں، کچھ مرد عورت کو آج بھی ناقص العقل سمجھتے ہیں جبکہ بعض مردوں کے خیال میں عورت محض گھر گرہستی کرے تو ٹھیک، اس سے زیادہ اُس کا کوئی مصرف نہیں۔ جس روز افضل کوہستانی قتل ہوا اُس سے اگلے روز قوم نے ٹویٹر پر عورتوں کا عالمی دن منایا، کیا ہی اچھا ہو اگر کے پی حکومت قتل ہونے والی پانچ لڑکیوں، تین لڑکوں اور افضل کوہستانی کے نام ایک ایک سکول کر دے، انہیں انصاف تو ہم نہیں دلا سکے، کم ازکم یہ کام تو کر ہی سکتے ہیں۔
بشکریہ جنگ۔۔۔۔۔)






  از قلم:- پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ
پہلی قسط میں ایک جامعہ یا اعلیٰ تعلیمی ادارے کے کسی معاشرے میں عمومی کردار کی تشریح پرقلم آزمائی کی تھی۔ اس قسط میں ”جامعہ قراقرم“ کے حوالے سے اس کے خصوصی کردار، درپیش مسائل و چیلنجز اور ان کا ممکنہ حل کے حوالے سے تحریر کا قصد کیا ہے۔ اس ضمن میں شیخ الجامعہ کی ترجیحات کا اجمالی جائزہ حاضر خدمت ہے۔ کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کیلئے کوالٹی یا معیارکا ہونا اس کے وجود کی ضامن ہے۔ چنانچہ اعلیٰ تعلیم و تربیت کے بغیر کسی تعلیمی ادارے کا قیام و بقا ناممکن ہے۔ بحیثیت وائس چانسلرراقم کی پہلی اور اولین ترجیح یقیناًیونیورسٹی کے اندر تمام تعلیم و تدریس کے عمل اور متعلقہ امور کے اندر ایک واضح معیارلانا مقصود ہے۔ تحصیل علم محض کاغذ کے ایک ٹکڑے یعنی ڈگری کے حصول کا نام نہیں بلکہ اس سے وابستہ ان تمام درکار علم و ہنر اور انسانی رویوں کا نام بھی ہے جو اس ڈگری سے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ڈگری کے حصول کے ساتھ معاشرے کے توقعات بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سول انجینئر نگ کے فارغ التحصیل طالب علم سے سول انجینئرنگ کی بنیادی علوم، ہنر اور اس شعبہ سے وابستہ اہم مسائل کے حل سے متعلق آگاہی اور ادراک کاتوقع رکھنا ایک فطری تقاضا ہے۔
انسان کی شخصیت کے عمومی طور پر تین پہلو ہیں۔ علم، ہنراور رویے (اقدار)۔ کسی بھی کامیاب انسان کیلئے ان تینوں لازمی عناصر میں کامیابی درکار ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ایک طلائی تمغے کے حصول کے باوجود ایک طالب علم بات کرنے اور ٹیم ورک کی بنیادی صلاحیتوں سے عاری ہے تو عملی زندگی میں اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ٹوٹل کوالٹی مینجمنٹ (انصرام کلی معیار) بنیادی طور پر معیار یعنی کوالٹی کو تمام امور کے اندر تفویض کرنے کا عمل ہے۔ جامعات کی عالمی درجہ بندی کے حوالے سے دنیا میں مختلف نظام کار فرما ہیں۔ جن میں اکیڈیمک رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹی (ARWU) جس کو شنگھائی رینکنگ بھی کہا جا تا ہے، QSورلڈ یونیورسٹی رینکنگ اور U-Multi Rankخصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ جامعات کی اس عالمی درجہ بندی میں معیاری تعلیم، تحقیق، ادارے کی بین الاقوامی ساکھ اور فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی عالمی منڈی میں علمی، تحقیقی اور کاروباری کردار وغیرہ پر منحصر ہوتی ہے۔ پاکستان میں ملکی سطح پر بھی جامعات کی قومی درجہ بندی کا سلسلہ رائج تھا لیکن کم و بیش 2سال قبل HECکی جانب سے اس کو موخر کر دیا گیا۔ جس کی بنیادی وجہ HECکے ارباب اختیار سے ہی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کے اندر کچھ خامیاں ضرور تھیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ جامعات کے معیار کی خود پیمائی اور مسلسل بہتری کیلئے ایک مناسب نظام ضرور تھا۔ بد قسمتی سے اس کو مزید بہتر بنانے کی بجائے اس کو اچانک معدوم کیا گیا۔ اس قومی رینکنگ نظام کا دارومدار بھی معیار تعلیم، تحقیق اور یونیورسٹی کے گورننس پہ تھا۔ اس کے ساتھ HECکے زیر نگرانی کوالٹی ایشورنس ایجنسی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جس کی مدد سے کم و بیش تمام جامعات میں QECکوالٹی انہاسمنٹ سیل قائم کئے گئے۔ جن کے ذریعے جامعات میں تعلیم و تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ QAAاور QECنے کوالٹی اور ریسرچ کے ضمن میں قابل قدر خدمات بھی انجام دیں۔ تاہم HECکیلئے ایک ریگولیٹری باڈی کی حیثیت سے جامعات میں مائیکرو لیول پر معیار کو بہتر بنانا ہرگز ممکن نہیں کیونکہ اس وقت وطن عزیز میں تقریباً 200جامعات ظہور پذیر ہوچکی ہیں اور اگر اوسطاً فی یونیورسٹی 100پروگرام پیش کریں تو کم وبیش 20ہزار پروگرامز بن جاتے ہیں۔ چنانچہ HECکیلئے ان تمام پروگرامز کی جانچ پڑتال کرانا ہرگز ممکن نہیں۔ بلکہ یہ شاید ان جامعات کی خود مختاری کے بھی خلاف ہے۔ اس ضمن میں HECنے بنیادی قوائد و ضوابط، نصاب مقرر کرنے کے ساتھ کم وبیش 15ادارے ایسے تشکیل دیئے ہیں جو ان پروگرامز کی باقاعدہ ریویو کراکے ان کی درجہ بندی یا منظوری دیتے ہیں۔ جن میں پاکستان انجینئرنگ کونسل، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پاکستان فارمیسی کونسل، کمپیوٹر ایجوکیشن کونسل، آرکیٹکچر اینڈ ٹاؤن پلاننگ کونسل، بزنس کونسل، ٹیچر ایجوکیشن کونسل وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام کونسلز عمومی طور پر جامعات کے اندر انڈر گریجویٹ (BS) پروگرامز کو معیاری بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کونسلز میں ماہرین نصاب، ٹیچنگ فیکلٹی،سہولیات، بجٹ، تحقیقاتی اور ہم نصابی سرگرمیاں، ریسرچ مقالہ جات و کتب کی اشاعت، لائبریری اور لیبارٹریز وغیرہ کی بنیاد پر پروگرامز کی منظوری دیتے ہیں۔ جن کو عمومی طور پر ایکریڈٹیشن کیا جا تا ہے۔ ان تمام کاوشوں کے باوجود جامعات میں جدید معیاری تعلیم و تحقیق کیلئے مطلوبہ معیار کا حصول ایک صبر آزما امر رہا۔
گریجویٹ پروگرامز (ایم فل /ایم ایس یا پی ایچ ڈی) کے حوالے سے 2014/2013میں HECکی جانب سے باقاعدہ NOCکے حصول کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے تحت ہر پروگرام کے لئے درکار PhDفیکلٹی کی موجودگی، داخلے کے ٹیسٹ کا طریقہ کار، ریسرچ، طلبہ و طالبات کیلئے درکار وسائل وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد NOCکااجراء کیا جاتا ہے۔ جو یقیناًایک خوش آئند امر ہے۔ ان اصولوں کی بنیا د پر HECنے مختلف جامعات میں کم و بیش ایک ہزار ایم ایس، پی ایچ ڈی پروگرامزبھی بند کرائے جہاں مطلوبہ سہولیات موجود نہیں تھیں۔ اس سے ہزاروں طلبہ وطالبات کے وقت اورو سائل کا ضیاع بھی ہوگیا تاہم اس میں HECکے ساتھ ان جامعات کی غیر معیاریت کو بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
معیاری تعلیم و تدریس کا حصول محض HECکی کاوشوں سے ہر گز ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے ایک اندرونی مربوط نظام برائے اصلاح معیار (Integrated Quality Improvement System) کی ہمیشہ سے ضرورت ہے۔ اس ضمن میں کوالٹی انہاسمنٹ سیل کا تمام جامعات میں قیام یقیناًایک احسن قدم ہے۔ KIUمیں کوالٹی تعلیم و تدریس کیلئے ایک مضبوط اور مربوط QECکا قیام ناگزیر ہے۔ چنانچہ ان اہداف کے حصول کیلئے QECکی تنظیم نو اور تقویت شیخ الجامعہ کی حیثیت سے میری اولین ترجیح ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل اہم امور کے ذریعے تعلیم و تدریس کے معیارکو بلند کیا جائے گا۔
۱) معیار یعنی کوالٹی کو یونیورسٹی کلچر کا لازمی جزو بنایا جائے گا جس کیلئے ضروری ہے کہ فیکلٹی اور سٹاف کو زیادہ سے زیادہ تربیت دی جائے اس کیلئے فیکلٹی اینڈ سٹاف ڈیویلپمنٹ سنٹر کو از سر نو ترتیب دیا گیا ہے اور تمام فیکلٹی سٹاف کیلئے لازمی کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں ہونے والی تربیتی کورسز میں باقاعدہ شمولیت اختیار کریں۔ اس ضمن میں تمام فیکلٹی اور سٹاف کیلئے ایک تربیتی کیلنڈر بھی مرتب کر دیا گیا ہے تاکہ تمام سٹاف یونیورسٹی کے اندر اور ملکی / بین الاقوامی سطح پر میسر ماہرین سے استفادہ کر سکے۔ حقیقی معنوں میں KIUکے اندر سیکھنے اور سکھانے کا ایک ایسا ماحول پیدا کرنا مقصود ہے جو یونیورسٹی کے اندر تمام طلبہ و طالبات، فیکلٹی اور سٹاف کو اپنی استعداد بڑھانے کی طرف مائل کریں۔
۲) دوسرا اہم کام اس ضمن میں کوالٹی ایشورنس کیلئے بنیادی نظام کا وضع کر نا ہے۔ جس کے ذریعے مختلف تعلیمی و تدریسی عوامل کا تقابلی جائزہ لیا جاسکے اور نہ صرف یہ کہ غیر معیاری اجزاء کا روک تھام کیا جا سکے بلکہ فوری طور پر تصحیح کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکے اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے تو کوالٹی اور معیار کے بنیادی اصول اور معیاری نظام کی بنیاد ڈالی جائے اور اس کے بعد ان بنیادی اصولوں پر کار بند رہنے کیلئے معیار کی ضمانت دی جاسکے جس کو بسا اوقات ”کوالٹی ایشورنس“ کا نام بھی دیا جا ہے اور جہاں ضروری ہو اس عمل کو مزید بہتر بنایا جائے جس کو کوالٹی کنٹرول بھی کیا جاتا ہے۔ ان تمام امور کیلئے مسلسل بہتری معیار (Continuous Quality Improvement)یعنی(CQI) کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معیارکا حصول کسی منزل کانام نہیں بلکہ حقیقتاً یہ عظمت و بلندی کی طرف ایک مسلسل اور صبر آزما سفر ہے۔جس کے لئے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
۳) طلبہ و طالبات کی استعداد و صلاحیت بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی مشاورت کے عمل کو بھی مستحکم کیا جائے۔ اس ضمن میں مربوط نظامِ مشاورت برائے طلبہ (Integrated Students Counselling System)یعنی ISCSکا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ جس کے ذریعے طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں اور نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں اور پیشرفت کا مسلسل جائزہ لیا جائے گااور طلبہ کی مشاورت کے مرکز کے ذریعے آن لائن ریویو سسٹم کا اجراء کیا جائے گا۔ اس نظام کو آئی ٹی اور ایم آئی ایس کے ذریعے طلبہ کے پراگریس کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیمی و تدریسی پراگریس کا بروقت جائزہ لیتے ہوئے ان کیلئے درکار مشاورت اور تعلیم و تدریس کاانتظام کیا جائے۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے طلبہ و طالبات کے والدین اور دیگر متعلقہ اہل خانہ کو اس نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تدریس اور ان کی ذہنی و اخلاقی بالیدگی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ (جاری ہے)


                                                                                                                                                                                                                                                                   

حکومت، پیپلز پارٹی اور خوش بخت
ہم واقعی حیران ہیں

گلگت   بلتستان میں آج کل جس تیزی سے منصوبوں کا افتتاح ہورہا ہے اس سے میرے جیسے کافی لوگوں کو حیرت ہو رہی ہے۔ یعنی پہلے امراض کلب کے ہسپتال کا افتتاح اور بھر نلتر ہائی وے کا۔ دونوں جی بی کے تناظر میں بہت پڑے اور اہم منصوبے ہیں۔ اگر میں اس کو کرکٹ کی زبان میں بیا ن کروں تو کچھ یوں ہوگا کہ ساڑھے تین سال حکومت چلانے کے بعد حفیظ الرحمان ایک مستند بلے باز کی طرح پیچ پر موجود ہیں اور چاروں طرف شاندار سٹروکس کھیل کر اپنی اننگز کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ لگتا ہے وہ مقررہ اوورز میں اپنی سنچری مکمل کرلیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حفیظ الرحمن نے عمران خان کی پچ پر ہی میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ خود عمران خان تماشائیوں کے بیچ کہیں بیٹھ کے کسی اور میچ کی حکمت عملی طے کر نے میں مصروف ہیں جبکہ ان کے کھلاڑی گراؤنڈ کے اندر پورا زور لگانے کے باوجود بھی کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ اور امپائرز بھی معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔ یقیناًمخالف ٹیم کے لیے مشکلات ہیں بلکہ مشکلات اور بڑھ رہی ہے کیونکہ جس طرح وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن چھکے چوکے لگا رہے ہیں اس سے ان کے لئے ٹارگٹ کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ بہ الفاظ دیگر کل الیکشن تک نون لیگ اتنا کام کرواچکی ہوگی کہ مخالفین کے لئے ان کے ووٹر کو توڑنا یا روکنا مشکل ہو جائگا۔ خیر جی بی کی سیاست میں ترقیاتی کام ہی ووٹ کا واحد معیا ر نہیں اور بھی ہیں۔
خیر کرکٹ کی ٹرمینالوجی اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت یہ ہے ان تمام بڑے منصوبوں کا سہرا حفیظ الرحمن حکومت کے سر جاتا ہے۔ نلتر روڈ منصوبے اور عارضہ قلب کے ہسپتال جیسے منصوبوں کے بعد میرے اپنے کئی اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں میرا خیال تھا کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو کام کرنے نہیں دیا جائے گا اس لئے وزیراعلی کو جتنا کام کرنا تھا وہ وفاق میں نون لیگ کی حکومت کے ختم ہونے تک ہو چکا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا عمران خان حکومت کچھ اور طرح کے مسائل میں گھری ہوئی ہے جس کے سبب ان کو گلگت بلتستان کی طرف بھرپور توجہ دینے کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہ ہوئی۔حتی کہ تحریک انصاف کی مقامی قیادت شدید مایوسی کا شکار ہے کیونکہ وزیر اعظم نے حفیظالرحمان سے دو دفعہ ملاقات کی لیکن اپنے لوگوں سے ایک بار بھی نہیں۔ حتیٰ کہ راجہ جلال کے گورنر بننے کے بعد سے اب تک گلگت بلتستان کے لئے کنوینر کا نام تک فائنل نہیں ہو سکا۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر اعلی نے شاہدآفریدی کی بیٹنگ کی طرح دھڑادھڑ منصوبوں کا آغاز کیا۔ کوئی شک نہیں حفیظ الرحمان نے حکومت سنبھالنے کے بعد بہت بڑا رسک لیا تھا۔ اور وہ رسک یہ تھا کہ بڑے منصوبوں کو آخری سالوں کے لئے چھوڑنا۔ وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ تاہم ان منصوبوں کو اگر ہم ایک اور زاویہ سے دیکھیں تو یقیناًاین ایل سی کو دینے سے یہ منصوبے بروقت بھی مکمل ہونگے اور شا ید کام کا معیار بھی بہتر ہو گا جس کا سیاسی فائدہ نون کو ہوگا لیکن دوسری طرف اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوگا کہ مقامی ٹھیکدار برادری متاثر ہوگی۔ ایک سبق ہمارے مقامی ٹھیکداروں کے لئے بھی ہے کہ اگر وہ بھی اپنے کئے ہوئے کاموں میں معیار کا خیال رکھتے تو آج ان کا کام ان کی وکالت کرتا۔ گلگت شہر کے اندر کی سڑکیں خود چیخ چیخ کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا واویلا کرتی ہیں۔


                                                                                                                                                                           



 حکومت، پیپلز پارٹی اور خوش بخت
تحریر شبیر میر۔۔۔
حکومت، پیپلز پارٹی اور خوش بخت

کراچی میں مجھے جو چیز سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے وہ ہے وہاں کی مارکیٹیں اور وہاں کی سڑکیں ہیں جہاں آپ کو ہر 
طرح کے لوگ اورنظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔آپ کسی ایک چیز پر زیادہ غوروخوض کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ نظارے بہت اور زندگی تیز رفتار۔ بمبئی تو میں کبھی نہیں گیا لیکن نہ جانے کیوں لگتا ہے کہکراچی ہی اصل بمبئی ہے جہاں شہر کبھی نہیں سوتا، اج کل چونکہ امن بحال ہے تو روشیاں لوٹ آئی ہیں۔ ساحل سمندر، بڑے بڑے شاپنگ مال، ہر قسم کے کھانے، ہر قسم کے لوگ، اور نہ جانے کیا کیا۔ لیکن بڑے شہروں کے مسائل بھی بڑے ہی ہوتے ہیں۔ میں کراچی سے واپس آنے کے بعد بھی کراچی کی زندگی کے پیچ و خم سے نہیں نکلا تھا کہ سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نرس کی کراچی میں گمشدگی کے حوالے سے ایک تکلیف دہ خبر پڑھنے کو ملی۔دکھ اور تکلیف ہوئی کہ روشیناں تو بحال ہوئیں لیکن اس بیچاری نرس کے ساتھ کیا ہوا۔ خدا کرے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی غریب خاتون خوشبخت خیریت سے ہوں اور جلد اپنے گھر پہنچ جائے،لیکن آج خوشبخت کو لاپتہ ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تاہم کوئی خبر نہیں کہ اس جوان خاتون کو زمین کھا گئی یا آسمان۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق خوشبخت جمعے کے روز اپنے گھر سے نارتھ ناظم آباد میں واقعہ سیفی ہسپتال جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئیں۔ ہسپتال عملے کے مطابق خوشبخت جمعہ کے روز ہسپتال ہی نہیں پہنچیں۔ سوشل میڈیا کی خبروں کے مطابق والدین اور رشتہ داروں نے جب ہسپتال انتظامیہ سے اس دن کے حوالہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگی تو انہوں نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ ظاہری بات ہے کہ کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں ایک غریب اور نسبتا کم پڑھے لکھے اور شہر سے ناواقف لوگوں کا کون ہمدرد اور پرسان حال ہوگا۔اپنے نام کے برعکس غریب خوشبخت یقیناًانتہائی بد بخت ثابت ہوئیں۔ پتہ نہیں وہ کس حال میں اور کہاں پر ہیں آیا زندہ بھی ہیں یا نہیں بہت سے سوالات ہیں جن کا ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ لیکن دوسری طرف انتہائی حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ اس معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھا لیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیر اعلی سندھ کو فون پر خوشبخت کے واقعہ سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ خوشبخت کے معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے۔ خبروں کے مطابق وزیراعلی سندھ نے حفیظ الرحمن کو بھرپور کروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کوئی مثبت پیش رفت کب تک سامنے آتی ہے۔ یقیناًیہ ایک بہت مثبت پیش رفت ضرورہے کہ کم از کم اس سنگیں مسئلہ کو حکومتی سطح پر اٹھا تو لیا گیاوگرنہ انفرادی طور پر اس گنجان اباد شہر میں کسی کو ڈھونڈنکالنا کسی بہت بڑے معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی کا اقدام قابل ستائش لیکن انسانی ہمدردی کے ناطے اس مسئلہ کے حل کے لئے ان کی مسلسل ذاتی دلچسپی کی اشد ضرورت ہے بصورت دیگر کراچی جیسے مصروف شہر میں’’ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘کے مصداق اور بھی بہت سے انتہائی اہم مسئلے حکومت وقت کو درپیش ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگروزیر اعلی اپنے کسی سٹاف کی زمہ داری لگا دے کہ وہ سندھ کے وزیر اعلی کے سٹاف کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہیں اور انہیں ہونے والی پراگس سے اپ ڈیٹ رکھیں۔اس طرح شاید کوئی اچھی خبر سنے کو ملے۔اسی طرح پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کو بھی اپنا اثرو سوخ استعمال کرنا چاہیے لیکن ان کیجانب سے تا حال خاموشی پریشان کن ہے کیونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور امجدایڈووکیٹ، جمیل احمد اور سعدیہ دانش کا بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ سے قریبی تعلق بھی،پھر گلہ تو بنتا ہے۔

No comments:

Portable Hand Held Hanging Steam

مشہور اشاعتیں