جی بی تاذہ ترین



 عارضی ملازمیں کی کم سے کم تنخواہ چودہ ہزار کرنے ،چھوٹے درجے کے بجلی گھروں کی تعمیر کی حکومت اوراے کے آر ایس پی کے درمیاں ایم او یو کرنے کی بھی منظوری دی،مشیر اطلاعات شمس میر کی بریفنگ

گلگت بلتستان کابینہ نے متفقہ طور پر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو 1122،سیف سٹی، بارڈر پاس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے پراجیکٹ ملازمیں کی مدت ملازمت میں توسیع کی پرسپلی منظوری دی ہے، گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار گلگت بلتستان اسمبلی کابینہ کی اجلاس سکردو میں ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ مزکورہ پرجیکٹس کے ملازمیں کی توسیع کیلے ضابطے کیکاروائی فوری مکمل کرنے کیلیچیف سیکٹری گلگت بلتستان متعلقہ اداروں کے وزراء اور سیکٹریز کو کابینہ نے باقاعدہ ہدایت بھ جاری کی ہے۔انہوں نے کہا اجلاس میً عارضی ملازمیں کی کم سے کم تنخواہ چودہ ہزار روپیے کرنے کی بھی منظوری دی ہے، اجلاس میں اسامیوں کی اپ گریڈیشن اور ریزگینیشن میلے کابینہ نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات کی روشنی میں منظوری دینے کے احکامات جاری کی ہیانہون نے کہا اجلاس میں گلگت بلتستان کے تمام ملازمیں کیلے ہیلتھ انشورنس کیلے فائنل سفارشات کو کابینہ نے حتمی شکل دینے کی بھی منظوری دی یے۔اجلاس میں گلگت بلتستان میں چھوٹے درجے کے بجلی گھروں کی تعمیر کیلے حکومت اور اے کے آر ایس پی کے درمیاں ایم او یو کرنے کی بھی منظوری دی ہے اس ایم او یو کے مطابق پبلک پرائیوٹ پارٹنر شب کا باقاعدہ آغاز کیا جائیگا۔اس منصوبے کے تحت ہایڈرو منصوں کے ساتھ سو لر بجلی گھروں کے چھوٹے منصوبے  لگائے جائیں گے انہون نے کہا کہ اجلاس میں اضافی ایجنڈے کے تحت کابینہ نے اس سال سکردو کیلے سردیوں میں لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کیلے فوری اقدامات کرنے کی متعلقہ محکمہ واٹر اینڈپاور کو ہدایت دیں اور ڈیزل جنریٹر مزید سکردو کیلے فراہم کرنے کی منظوری دی ہے، شمس میر نے کہا مائننگ کمیشن رولز 2016میں ترمیم کو کابینہ نے منظوری کرتے ہوئے مائنگ پالیسی کو قابل عمل در آمد بنانیاور آسان بناتے ہوئیسرمایہ کاروں کیلے پر کشش مراعات متعارف کرانے کی متعلقہ محکمہ کو ہدایت کی ہے انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ بنانے اور غیر قانونی کٹاؤ کو روکنے کیلے اقدامت اٹھائی جارہی ہے اور ورکنگ پلان پر عمل در آمد کردینا چاہیے اوع شیڈولینگ کو یقینی بنائی جائیگی اور دیانت کی نئی فارسٹ پالیسی لیگل شورٹی بانڈکو لازمی قرار دیا ہے۔سئی جگلوٹ تعمیراتی لکڑی کی نیلامی کے حوالے سے حکمت عملی قانونی ضابطہ کے تحت طے کی ہے، نئی ٹمبر کیلے ضابطہ کی کاروئی 60دنوں کے اندر مکمل کرنا کرنی ہوگی اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔انہون نے مزید کہا کہ مختلف محکموں میں انجینئیر الؤنس پی اینڈ ڈی کا الاؤنس اور اے پی یو جی ہارڈ الاؤنس کیلے کابینیہ نے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی ہے۔اور کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کنٹریکٹ میں تعیناتی کیلے عمر اور ڈومیسائل کی شرط کی رعایت و مالی مراعات کو دیکھتے ہوئے کابینہ نے عارضی نرمی کی منظوری دیتے ہوئے ضابطہ کاروائی مکمل کرنے کیلے اقدامت اٹھائی جائیگی۔کابینہ نے اخوت کیساتھ آئندہ پانچ سال کیلے معاہدے کی منظوری بھی دی اور چھوٹے قرضوں کی فراہمی کیلیمزید علاقوں میں اخوت کی برانچز کھولنے کیلے محکمہ سوشل ویلفئیر کو سفارشات کرنے کی ہدایت کی ہے انہون نے کہا کہ سیپ اساتذہ کے 759ملازمیں کو مستقل کرنے کیلے اگلے اجلاس میں سفارش پیش کرنے کو کہا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک نالائق وزیر یہاں آکر وزیر اعلیٰ ہر انگلی اٹھا رہا ہے جو کہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سکردو میں منعقد ہونے والی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت  بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی کابینہ کا اجلاس  بلتستان میں ہورہاہے۔ آئند ہ صوبائی کابینہ کا اجلاس دیامر میں منعقد کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سیپ اساتذہ کی مستقلی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ اسمبلی اجلاس میں ضروری قانون سازی کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ویدر پالیسی کی منظوری سے تمام سرکاری ملازمین کو ویدر چارجز کی فراہمی یقینی بنائی گئی جس سے اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود اور علاج و معالجے کیلئے ہیلتھ اینڈ لائف انشورنس کرایا جارہاہے تاکہ سرکاری ملازمین کو بہتر علاج و معالجے کی سہولیات میسر آسکیں۔ 2020ء تک آبادی کا بیشتر حصے کا ہیلتھ انشورنس کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے صوبائی حکومت نے ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرایا جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پرائم منسٹر ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کروائی تھی جو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت  بلتستان میں بھی شروع کی گئی تھی جس سے یہاں کے غریب عوام کو ملک کے بڑے ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی سہولت میسرآئی تھی۔وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 56 ہزار سرکاری ملازمین کی ہیلتھ انشورنس سے ان کے خاندان کو ملک کے تمام بڑے ہسپتالوں میں بہتر علاج و معالجے کے سہولیات میسر آئیں گے۔ صوبائی کابینہ اجلاس میں گلگت  بلتستان سول سرونٹس ہیلتھ اینڈ لائف انشورنس ایکٹ 2019ء کی منظوری دی گئی۔صوبائی کابینہ اجلاس میں محکمہ جنگلات کی جانب سے ٹمبر پالیسی کے حوالے سے پیش کئے جانے والے تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی




جی بی کے4167 اسا میوں کی منظوری ،لیکن وفاق کی انکاری



گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے

گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے 

اسلام آباد( مانیٹر نگ ڈیسک)وفاقی وزارت خزانہ نے گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ نئی اسامیوں کے لئے صوبے کے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا جائے گا جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے،تفصیلا ت کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے وفاقی وزارت خزانہ کو 4167نئی اسامیوں کی تخلیق کے لئے سمری بھجوائی تھی سمری کئی ماہ وفاقی وزارت خزانہ کے پاس رہی اور اس پر وفاق میں طویل مشاورت کی گئی جس کے بعد وفاقی وزارت خزانہ نے سمری کی منظوری تو دے دی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جی بی حکومت سے کہا گیا ہے کہ اسامیوں کے لئے درکار اضافی فنڈز کا انتظام صوبائی حکو مت اپنے بجٹ سے کرے،ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ کا فیصلہ حیران کن ہے کیونکہ گلگت بلتستان جوکہ وفاق کی جانب سے جاری کردہ گرانٹ پر گزارہ کرتا ہے اور اس کی اپنی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے اسامیوں کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا صوبائی حکومت کے بس میں ہی نہیں ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاق نے فنڈز ہی نہیں دینے تو پھر سمری کی منظوری کا کوئی جواز نہیں بنتاسمری کی منظوری کے لئے اختیارکردہ طریقہ کار اور راستے کوجہاں انوکھا قرار دیا جارہا ہے وہاں اس فیصلے نے گلگت بلتستان حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ اگر اسامیاں تخلیق کی جاتی ہیں تو اس صورت میں ان کے لئے فنڈز کا بندوبست کرنا صوبائی حکومت کے لئے کسی پہاڑ کو سرکرنے سے کم نہیں ہوگا،سمری کے مطابق تخلیق شدہ اسامیوں میں 451نئی اسامیاں،1049پی سی فوراسامیاں،2430اپگریڈیشن یاری ڈیزکنیشن اسامیاں اور 237محکمہ خوراک کی اسامیاں شامل ہیں ،نئی تخلیق ہونے والی اسامیوں میں 431پوسٹیں جی جی سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے رکھی گئی ہیں جن میں پہلی مرتبہ گریڈ 19اور گریڈ 20کی 30اسامیاں بھی شامل کی گئی ہیںجبکہ باقی اسامیاں چھوٹے گریڈ کی ہیں،صوبائی حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ زور سیکرٹریٹ کی پوسٹوں کی منظوری پر رہااور ان پوسٹوں کی منظوری کے لئے اثرورسوخ بھی استعمال کیا گیا،ذرائع کے مطابق گریڈ 19اور 20کی پوسٹیں تخلیق کرنے کے لئے بعض افسران نے صوبائی وزارت خزانہ کے حکام سے بار بار رابطے کئے اور انھیں اسامیوں کی منظوری کے لئے سمری وفاقی وزارت خزانہ کوارسال کرنے پر قائل کیاذرائع کے مطابق صوبائی وزارت خزانہ کے حکام کو رام کرنے کے لئے نہ صرف اثرورسوخ استعمال کیا گیا بلکہ ان کی خاطرمدارات بھی کی گئی جس کی وجہ سے وزارت خزانہ میں ان اسامیوں کی مخالفت کے باوجود غیر ضروری طور پر ایک چھوٹے صوبے جس کی اپنی کوئی آمدن نہیں کے سیکرٹریٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری دے دی گئی،ذرائع کے مطابق ان پوسٹوں کی منظوری میں ان افسروں کا کردار اہم رہا جن کو گریڈ 19اور گریڈ 20میں تعینات کیا جانا ہے اوران ہی افسران نے اسامیوں کی تخلیق کے لئے صوبائی وزارت خزانہ کے حکام کو قائل کیا ہے،ذرائع کے مطابق جب سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے اسامیوں کی سمری تیار ہوئی تو وزارت خزانہ میں اس حوالے سے اعتراضات سامنے آئے تھے کہ جی بی میں اتنے بڑے سیکرٹریٹ کی ضرورت ہی نہیں اس لئے اسامیوں کی تخلیق کے بجائے ڈاکٹرزاور اساتذہ بھرتی کئے جائیں کیونکہ علاقے میں ڈاکٹروں اور اساتذہ کی سخت ضرورت ہے افسروں کی نہیں،تاہم افسران نئی اسامیوں کی تخلیق کی سمری وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوانے میں کامیاب ہوگئے اور کئی ماہ بعد وفاق نے اسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری تو دیدی لیکن فنڈز فراہم کرنے سے انکار کردیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اب سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے ان غیر ضروری پوسٹوں کو تخلیق کرے گی اور اس کا تمام بوجھ صوبائی بجٹ پر پڑے گااور اسامیوں کے اخراجات اور مراعات کے لئے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا جائے گا کیونکہ اس کے سوا صوبائی حکومت کے پاس نئی اسامیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں ہے،ذرائع کے مطابق یہ امر حیران کن ہے کہ جب وفاقی وزارت خزانہ نے نئی پوسٹوں کے لئے فنڈز ہی نہیں دینا تو ان کی منظوری کیوں دی گئی اس لئے سمری کی منظوری نے مختلف شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے کیونکہ سمری کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک موخر بھی کیا جاسکتا تھا،سمری کی مشروط منظوری کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔






Cm Gilgit Baltistan


 اگلے ماہ اکتوبر کی دس سے بیس تاریخ تک پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اورہماری کوشش ہے کہ گلگت 
شہر کے بعد سکردو میں منصوبے کا آغاز کیا جائے،منیجر 

اسلام آباد (جی بی این  یو)جنرل منیجر ایس این جی پی یل آصف اکبر کی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سے
 ملاقات،آصف اکبر نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کو گلگت شہر میں گیس منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اس موقعہ پر کہا کہ ہماری حکومت نے گلگت کی عوام سے گیس کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے ہماری خواہش ہے کہ یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو،یہ اہم منصوبہ ابھی تک مکمل ہو چکا ہوتا اگر گلگت میں زمین  فراہمی میں رکاوٹیں نہ ڈالی جاتیں تو،بد قسمتی سے گیس منصوبے کے لئے مقرر کردہ زمین کو متنازعہ بنا کر منصوبے کو التوا کا شکار کیا گیا،لیکن اب جبکہ زمین کی لوکیشن تبدیل کر کے نئی زمین فراہم کر دی گئی ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ یہ اہم منصوبہ جلد سے جلد مکمل ہو جائے تا کہ گلگت شہر سے ایندھن کا مسلہ ختم ہو جائے اور عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہو جائے،وزیر اعلی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف  سے درخواست کی  تھی کہ گلگت بلتستان کے بڑے شہروں گلگت،سکردو،چلاس،ہنزہ و دیگر شہروں کے لئے گیس منصوبہ منظور کیا جائے سابق وزیر اعظم نے منصوبہ منظور کیا،اب ابتدائی طور پر گلگت شہر میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے اگلے مرحلے میں سکردو،چلاس،ہنزہ اور دیگر شہروں میں بھی گیس منصوبے کا آغاز ہوگا تا کہ گلگت بلتستان کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر بھی قابو پایا جا سکے اور دوسری طرف ایندھن کے مسائل بھی حل ہوں،وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کا سوئی ناردرن گیس کمپنی سے معاہدہ ہو چکا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے لئے گیس کے جو نرخ ہیں وہی نرخ گلگت بلتستان کے لئے ہوں گے،گیس سلنڈر کے مقابلے میں کئی گناہ ریٹ کم ہوں گے جس سے جہاں عوام کو اربوں کی بچت ہوگی وہاں گلگت بلتستان کے جنگلات اور قدرتی وسائل کا بھی تحفظ ہوگا۔وزیراعلی نے کہا کہ ہم نے گلگت شہر کے ساتھ ساتھ سکردو  اور دیگر شہروں میں بھی گیس فراہمی عزم کیا ہے،آصف اکبر نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کی ہدایات کے مطابق منصوبے کو مکمل کریں اور اس کیلئے ہم نے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے اور اگلے ماہ اکتوبر کی دس سے بیس تاریخ تک پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا جبکہ ہماری کوشش ہے کہ گلگت شہر کے بعد سکردو میں منصوبے کا آغاز کیا جائے جس کے لئے سروے مکمل ہو چکاہے اب صرف زمین کی الاٹ منٹ رہ گئی ہے جیسے ہی گلگت بلتستان حکومت زمین فراہم کرے گی سکردو میں بھی گیس فراہمی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا،ہماری کوشش ہے کہ سکردو میں بھی اکتوبر کی آخری تاریخوں میں گیس منصوبے کے کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے،وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے جنرل منیجر ایس این جی ایل آصف اکبر سے کہا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کام کی رفتار کو معمول سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ کیا جائے اور یہ بھی کوشش کی جائے کہ پائپ لائن بچھانے کے دوران ٹریفک کے نظام میں خلل  اور لوگوں کے نظام زندگی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔




Showing posts with label ایل پی جی آئیر مکس منصوبہ متنازعہ، پراجیکٹ کو التوا کا شکارکروایا گیا(وزیراعلیٰShow all posts

Indian Army's terrorist in occupied Kashmir warns, 3 young 

martyrs

INDIAN ARMY'S TERRORIST  IN OCCUPIED KASHMIR WARNS, 3 YOUNG MARTYRS

Indian Army warns of state terror market in occupied Kashmir


 Srinagar: Occupied Indian Army shot dead three Kashmiri youths during a so-called search operation.


According to the Kashmir Media Service, clouds of sanctions and repression on the Paradise Valley are deepening, with the state government of Modi not bashing Kashmiris. Three Kashmiri youths were martyred in Ganderbal district today.



The occupied Indian army closed the entry and exit routes during the so-called search operation in Ganderbal District and violated the sanctity of the sheet and the four walls, violating the basic human rights of the house.

Read this news: Kashmir should be resolved in accordance with UN resolutions, China



On the other hand, in the district of Ramban, a local BJP leader is also being searched as an excuse for kidnapping and kidnapping a passenger bus for a search operation conducted in Ganderbal.



It is to be noted that since the end of the special status in occupied Kashmir, the curfew has been in force since August 5, due to lack of food and livelihoods. Is.

شگر، ڈی ایچ کیوں ہسپتال ڈاکٹر کی مبینہ غفلت،شگر تسر کی جواں سالہ بیٹی چل بسی

تسر ہسپتال کے انتظامیہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں وہ تسر ہسپتال کے انچارچ نثار علی کا کہنا بھی نہیں مانتے،احسان علی 

سکردو    ڈی ایچ او شگر صادق شاہ کی مُبینہ غفلت اور لاپرواہی سے شگر تسر سے تعلق جواں سال بیٹی موت کے منہ میں چلی گئی ہے ہسپتال میں ایمبولینس ہونے کے باوجود غریبوں کے کام نہیں آتے ان خیالات کا اظہار احسان علی تسر انچارچ میڈیا سیل مسلم لیگ ن ضلع شگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اُنہوں نے کہا کہ تسر ہسپتال کے انتظامیہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں وہ تسر ہسپتال کے انچارچ نثار علی کا کہنا بھی نہیں مانتے ہسپتال کے کچھ ملازمین کہتے ہیں کہ ڈی ایچ او میرے جیب میں ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ ڈی ایچ او حیدر میرے جیب میں ہے اس طرح کی ذاتی رنجشوں اور سیاسی چکر بازی نے تسر ہسپتال کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے اُنہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں تسر سے تعلق ایک ڈیلیوری کیس خاتون کو تسر ہسپتال میں ایمبولینس ہونے کے باوجود سکردو نہیں لایا جاسکا جس کی وجہ سے وہ زندگی کی بازی ہار گئی ہے اس کی تمام تر ذمہ داری ڈی ایچ او شگرسید صادق شاہ پر عائد ہوتی ہے اعلیٰ ذمہ دار حکام نوٹس لیں اور ان کی لاپرواہی اور غفلت کی تحقیقات کرکے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے ۔



گوپس تھا نہ کے پولیس اہلکاروں کی کامیا ب کارروائی
گاو ں سمال میں قتل ہونے والا بہادر آباد نامی شخص کے قاتل کو بے نقاب کردیا

قاتل کوئی اور بلکہ حقیقی بھائی نکلے ،زمین  اور راستے کے تنازعے پر قتل کیا ، ملزم کا اعتراف جرم۔

   
گلگت( نمائندہ خصوصی )گوپس کے نواحی گاؤں سمال میں قتل ہونے والا بہادر آباد کے قاتل کا سوراخ لگانے پر گو پس پولیس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، ایس ایچ او محمد ولی اور ان کے ٹیم نے اندھا قتل کے ملزم کو کم مدت میں گرفتار کرکے ورثہ کو انصاف فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، ان خیالات کا اظہار ریٹائرڈ سولجر ایسو سی ایشن غذرکے جنرل سیکر یٹری حسین علی شا ہ نے روزنامہ صدائے گلگت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایس ایس پی غذر اور ان کے ٹیم کو متقو ل بہادر آباد کے قاتل کو بے نقاب کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ اس واقعے کے حوالے سے SHO گوپس تھانہ ولی محمد نے روز نامہ صدائے گلگت کو تفصیلات سے اگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مورخہ 17 جنوری 2019 کو قتل ہونے والا بہادر آباد کا قاتل کوئی اور نہیں بلکہ ان کے حقیقی بھا ئی نکلا، زمینوں کے تنازعات ، ایک راستے کے تنازعہ اور سن 2012 میں بیوی کے قتل پر بہادر آباد نے بڑے بھائی آباد خان کے خلاف گواہی دیا تھا جس پر آباد خان نے بھا ئی کوگولی مارکر قتل کردیا۔SHO نے مزید کہا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر جاعہ واردات کے مکمل محاصرہ کیا اور اکھٹے شدیہ شواہد اور نقوش واردات کی مدد سے مقتول کے بھائی آباد خان کو حراست میں لیا گیا تھا جنہوں نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کرتے ہوئے آلہ قتل 32 بور پستول بھی پولیس کے حوالے کر دیا ۔ ملزم کے اوپرجرم ثابت ہونے پر دفعہ 302 اور بر آمدگی اسلحہ پر 13 اسلحہ آرڈیننس لگاتے ہوئے جوڈیشل کر کے حوالات منتقل کر دیا گیا۔

 

 

چترال میں دھماکا، لیویز اہلکار شہید

علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، فوٹو: فائل

چترال: خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک لیویز اہلکار شہید ہوگیا۔
حکام کے مطابق دھماکا دوپہر ایک بجے کے قریب ارندو گاؤں میں اولڈ پاورہاوس کے قریب ہوا جہاں آئی ای ڈی کے ذریعے لیویز اہلکار کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکار کی شناخت جاوید ولد عبدالحکیم کے نام سے ہوئی ہے، جائے وقوعہ کو سیل کرکے ابتدائی شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں اور علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہمند ایجنسی میں خودکش دھماکا
واضح رہے کہ  گزشتہ دسمبر میں پاک افغان سرحدی علاقے مہمند میں آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے 2 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

 

 

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر تحریری فیصلہ جاری کردیا 

گلگت بلتستان میں آرٹیکل 124 کے برعکس کوئی حکم نافذ نہیں ہوسکتا،سپر یم کو رٹRelated image

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘ استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا پابند ہے‘ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ معاملے میں غیر معمولی کام کیا اس لئے سمری جاری کی جارہی ہے، گلگت بلتستان میں آرٹیکل 124 کے برعکس کوئی حکم نافذ نہیں ہوسکتا،گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کوئی شق ختم یا تبدیل نہیں ہوسکتی،گلگت بلتستان آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی نہیں ہوگی، ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائے، بھارت اور پاکستان زیر انتظام علاقوں کو حقوق دینے کے پابند ہیں۔ استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا پابند ہے۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں






لگت چترال روڈ کی تعمیر کاکام رواں سال میں شروع کرنے کا فیصلہ روڈ کے سروے کا کام تقریبا مکمل ہوگیا
گلگت چترال روڈ کی تعمیر کاکام رواں سال میں شروع کرنے کا فیصلہ روڈ کے سروے کا کام تقریبا مکمل ہوگیا جبکہ اس اہم شاہراہ کی تعمیر اورپھنڈر اور چعلمس داس میں پاور پراجکیٹ کے تعمیر کے لئے چین کی حکومت نے تین سو ملین ڈالر دینے کا اعلان کر دیا ہے دوسری طرف دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈشندور کی از سر نوتعمیر اور اس خوبصورت مقام میں سیاحت کے فروغ کے لئے پونے دو ارب روپے خرچ کئے جائینگے
Image result for gilgit to chitral road
 جہاں پر پولو گراونڈ کے علاوہ سیاحوں کے لئے ہوٹل بھی تعمیر ہونگے تاکہ گلگت بلتستان اور چترال میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکے گلگت چترال روڈ کی تعمیر پر34 ارب کی لاگت ائے گی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور خطے کے عوام کی امدورفت کوبہتر بنانے کے لئے مزید دو اہم شاہراہوں کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ بابوسر میں ٹینل کی تعمیر بھی بہت جلد شروع ہوگی دو اہم شاہراہوں کی تعمیر سے گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا استور سے مظفر آباد اور گلگت سے سکردو تک ان اہم شاہراہوں کی تعمیرپر اربوں روپے کی لاگت ائے گی جبکہ چترال سے گلگت تک کی شاہراہ کو سی پیک میں رکھا گیا ہے اس اہم منصوبے کی تعمیر کا کام اس سال شروع ہوگا جس کے لئے چین کی حکومت نے رقم بھی مختص کر دی ہے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے کے لئے دو اہم شاہراہوں کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا ہے ان دونوں اہم شاہراہوں کی تعمیر سے گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف امدورفت میں آسانی ہوگی بلکہ سفر کے دورانیہ میں بھی کئی گھنٹوں کی کمی ائے گی جبکہ بابوسر روڈ کو بھی ال ویڈر بنانے کے لئے ٹینل کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اس ٹینل کی تعمیر کے سے گلگت سے روالپنڈی کا مسافت صرف اٹھ گھنٹے ہونے کا امکان ہے جس سے ایک طرف گلگت بلتستان میں لاکھوں سیاح اینگے بلکہ گلگت بلتستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا گلگت بلتستان میں گزشتہ تین سالوں میں پچاس لاکھ سے زائد سیاح ان خوبصورت علاقوں میں ائے ہیں جبکہ دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور کی از سر نو تعمیر اور اس پرفضا مقام پر سیاحت کے فروغ کے لئے عالیشان ہوٹل بھی تعمیر ہونگے رواں سال گلگت بلتستان میں تیس لاکھ سے زائد سیاح آنے کا امکان ہے اور گلگت بلتستان کو دنیا کے خوبصورت علاقوں میں شامل ہونے پر اس سال لاکھوں کی تعداد میں ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی گلگت بلتستان آمد متوقع ہے








 گلگت بلتستان میں ٹورزم یونیورسٹی کے قیام پر بھی غور کیا جارہا ہے ، علی امین خان گنڈا پور

Image result for Ali ameen Gandapur

آئینی حقوق کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام کی 70 سالہ محرومیاں دور کی جائیں گی


اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیر اُمورکشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پورنے کہا ہے کہ آئینی حقوق کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام کی 70 سالہ محرومیاں دور کی جائیں گی اور قومی سلامتی اور گلگت بلتستان کے عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق آئینی حقوق دیے جائیں گے،سیاحت اور معدنیات کے شعبے میں گلگت بلتستان میں خطیر بیرونی سرمایہ کاری کی اُمید ہے جس پر پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔ وہ جمعہ کو گلگت بلتستان کونسل کے ممبران سے بات چیت کر رہے تھے جنہوں نے وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان سے اسلام میں ملاقات کی۔ملاقات میں گلگت بلتستان کی مجموعی سیکورٹی صورت حال ،ترقیاتی منصوبوں اور آئینی حقوق کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہاکہ گلگت بلتستان کے لیے آئینی پیکج آخری مراحل میں ہے اور اس ضمن میں جلد پیش رفت متوقع ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ گلگت بلتستان کو قدرت نے بے پناہ خوبصورتی دے رکھی ہے اور گلگت بلتستان سیاحت اور معدنیات کے شعبے میں گلگت بلتستان میں خطیر بیرونی سرمایہ کاری کی اُمید ہے جس پر پیش رفت تیزی سے جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک ٹورزم یونیورسٹی کے قیام پر بھی غور کیا جارہا ہے جس سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں اس شعبے کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت پیدا ہو گی۔ اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے چھوٹے پیمانے پر عام عوام کو قرضے دینے کے لیے بھی حکمت عملی بنائی جارہی ہے ۔ وفاقی وزیر نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں معدنیات کو خا م صورت میں برآمد کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ایسی مننرل پالیسی کی اشد ضرورت ہے جس کے تحت گلگت بلتستان کے معدنی وسائل کو خام صورت میں برآمد کرنے کی بجائے ان کو value added products/ finished goods کی صورت میں بیرون ملک برآمد کیا جائے جس سے ایک طرف ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہو گا تو دوسری جانب گلگت بلتستان میں اس شعبے سے متعلق انڈسٹری کے قیام سے روزگار کے بھی بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت گلگت بلتستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھرپور کام کرے گی اور کونسل ممبران سے بھی درخواست کی کہ وہ گلگت بلتستان میں تعلیم و صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے کرداراداکریں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ گلگت بلتستان میں بلین ٹری پروگرام کے تحت ایسے درخت لگائے جائیں گے جو پھل دار ہوں اور گلگت بلتستان کے موسمی حالات کے مطابق ہوں۔کونسل ممبران نے گلگت بلتستان کی ترقی وخوشحالی کے ضمن میں وفاقی وزیر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے ۔کونسل ممبران نے وفاقی وزیر کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ اس سے قبل کونسل ممبران نے وفاقی وزیر کو گلگت بلتستان کے دورے کی بھی دعوت دی۔ گلگت بلتستان کونسل ممبرا ن میں اشرف صدا، ارمان شاہ، سلطان علی خان، سعید افضل،وزیر اخلاق اور سید محمد عباس رضوی شامل تھے۔اس سے قبل گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کیپٹن (ریٹائرڈ)حاجی محمد شفیع نے بھی وفاقی وزیر سے ملاقات کی ۔ملاقات میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی عمل سے متعلق بات چیت کی گئی اس موقع پر کیپٹن(ریٹائرڈ) محمد شفیع نے وفاقی وزیر کو گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش مسائل سے بھی اگاہ کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے کیپٹن(ریٹائرڈ)محمد شفیع کو گلگت بلتستان کے عوام کو در پیش مسائل حل کرنے اورآئینی حقوق جلد دینے کا یقین دلایا۔



گلگت بلتستان  آئینی حیثیت  کا فیصلہ محفوظ ،جو بھی فیصلہ ہو گا جی بی عوام کو اس پر خوش ہونا چاہئے۔(چیف جسٹس
 جی بی تاذہ ترین

جی بی کو مکمل صوبہ بنانے سے پاکستان کا کشمیر پر موقف کمزور ہو جائے گا،اعتزاز حسن، ابھی فی الحال تو ان سفارشات کو تو کریں یہ آئینی حقوق کی پہلی سیڑھی ہے آہستہ آہستہ سب کچھ مل جائے گا،ثاقب نثار

اسلام آباد(علی احمد جان سے) سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق ڈاکٹر عباس اور بار کونسل کی دائر درخواست پر کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔عدالت نے اٹارنی جنرل انور منصور کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی سے گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق، قانون سازی اور عدالتی خودمختاری پر دوبارہ مشاورت کے بعد تفصیلات دو سے تین دن کے اندر جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گلگت بلتستان کے بھائیوں کو سارے حقوق دیں لیکن قانونی الجھنیں پیدا نہیں ہونی چاہیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی لاجر بنچ نے گلگت بلتستان کے آئینی اور بنیادی حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار ڈاکٹر عباس اور گلگت بلتستان بار کونسل کے نمائندے، وزیر قانون گلگت بلتستان اورنگزیب ایڈوکیٹ،رہنما تحریک انصاف آمنہ انصاری سمیت گلگت بلتستان کے وکلاء اور سیاسی رہنماوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل انوار منصور نے وفاقی حکومت اور عدالتی معاون کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ مسودہ پیش کیا۔اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ مسودے کے مطابق گلگت بلتستان کے حقوق کے لیئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے، ترمیم سے پہلے ایک عبوری انتظام چاہیے جس کے ذریعے بنیادی حقوق محفوظ کئے جا سکیں، گلگت بلتستان کے لوگوں کو دیگر صوبوں کے برابر حقوق حاصل ہونگے.اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان اعلیٰ عدالتوں کے فنڈز گلگت بلتستان حکومت سے گلگت بلتستان کونسل کو منتقل کر دیئے گئے ہیں، وہاں ججوں کی تعداد بھی حکومت پاکستان بڑھا سکتی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اسمیں کو کمی ہے وہ ہے آرٹیکل 171 کی ہے۔گلگت بلتستان کے لوگوں کو حالات کے مطابق جتنا اچھا سیٹ اپ دے سکیں دیں۔گلگت بلتستان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں کہ اتنے عرصے تک ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ ضائع جائے گا۔چیف جسٹس نے بار کونسل کے نمائندے کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہے آپ یہ کیا پاس کرا رہے ہیں. چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتا دیں جو تین پوائینٹ آپ نے نوٹ کر لئے ہیں اس سے متفق ہیں. عدالتی معاون اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا مشورہ ہے کہ اسکو پارلیمنٹ سے ترمیم کر کے پاس کیا جائے.گلگت بلتستان عارضی پھر مستقل صوبہ بنانے کی بات کی گئی ہے، اس وقت گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بنانے سے پاکستان کا کشمیر پر موقف کمزور ہو جائے گا.جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی فی الحال تو ان سفارشات کو تو کریں یہ آئینی حقوق کی پہلی سیڑھی ہے آہستہ آہستہ سب کچھ مل جائے گا.چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہوگا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ گلگت بلتستان کونسل کو قانون سازی کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان سعید احمد نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ نے گزشتہ سماعت میں وزیر قانون گلگت بلتستان کا پوچھا تھا تو وہ آج یہاں موجود ہیں اور کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے وزیر قانون گلگت بلتستان اورنگزیب ایڈوکیٹ کو روسٹرم پر آنے کی اجازت دی۔وزیر قانون نے کہا کہ اس کمیٹی کا میں بھی حصہ رہا ہوں گلگت بلتستان اسمبلی کی جو ابزرویشنز تھی وہ ہم نے کمیٹی کو دی ہیں۔سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو عملدرآمد کرایا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت یہ ممکن نہیں ہم نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو بنیادی حقوق دینے ہیں اور ہم ان سفارشات کے قریب ہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت اور خود اختیاری ملنا چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات اس تصور کے بہت قریب ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر جی بی سپریم اپیلٹ کورٹ اپنے اختیارات سے تجاوز کرے، اگر دو صوبوں کا مسئلہ ہو تو پھر کیا کیا جانا چاہیے، گلگت بلتستان کے بھائیوں کو سارے حقوق دیں لیکن قانونی الجھنیں پیدا نہیں ہونی چاہیں، عدالت نے فریقین اور اٹارنی عدالتی معاون کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ کمیٹی سے بنیادی حقوق، قانون سازی اور عدالتی خودمختاری پر دوبارہ مشاورت کر کے تفصیلات دو سے تین دن کے اندر جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔

No comments:

Portable Hand Held Hanging Steam

مشہور اشاعتیں