Showing posts with label جی بی کے4167 اسا میوں کی منظوری ،لیکن وفاق انکاری. Show all posts
Showing posts with label جی بی کے4167 اسا میوں کی منظوری ،لیکن وفاق انکاری. Show all posts

Wednesday, October 2, 2019

جی بی کے4167 اسا میوں کی منظوری ،لیکن وفاق کی انکاری

گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے


گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے 


اسلام آباد( مانیٹر نگ ڈیسک)وفاقی وزارت خزانہ نے گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ نئی اسامیوں کے لئے صوبے کے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا جائے گا جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے،تفصیلا ت کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے وفاقی وزارت خزانہ کو 4167نئی اسامیوں کی تخلیق کے لئے سمری بھجوائی تھی سمری کئی ماہ وفاقی وزارت خزانہ کے پاس رہی اور اس پر وفاق میں طویل مشاورت کی گئی جس کے بعد وفاقی وزارت خزانہ نے سمری کی منظوری تو دے دی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جی بی حکومت سے کہا گیا ہے کہ اسامیوں کے لئے درکار اضافی فنڈز کا انتظام صوبائی حکو مت اپنے بجٹ سے کرے،ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ کا فیصلہ حیران کن ہے کیونکہ گلگت بلتستان جوکہ وفاق کی جانب سے جاری کردہ گرانٹ پر گزارہ کرتا ہے اور اس کی اپنی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے اسامیوں کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا صوبائی حکومت کے بس میں ہی نہیں ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاق نے فنڈز ہی نہیں دینے تو پھر سمری کی منظوری کا کوئی جواز نہیں بنتاسمری کی منظوری کے لئے اختیارکردہ طریقہ کار اور راستے کوجہاں انوکھا قرار دیا جارہا ہے وہاں اس فیصلے نے گلگت بلتستان حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ اگر اسامیاں تخلیق کی جاتی ہیں تو اس صورت میں ان کے لئے فنڈز کا بندوبست کرنا صوبائی حکومت کے لئے کسی پہاڑ کو سرکرنے سے کم نہیں ہوگا،سمری کے مطابق تخلیق شدہ اسامیوں میں 451نئی اسامیاں،1049پی سی فوراسامیاں،2430اپگریڈیشن یاری ڈیزکنیشن اسامیاں اور 237محکمہ خوراک کی اسامیاں شامل ہیں ،نئی تخلیق ہونے والی اسامیوں میں 431پوسٹیں جی جی سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے رکھی گئی ہیں جن میں پہلی مرتبہ گریڈ 19اور گریڈ 20کی 30اسامیاں بھی شامل کی گئی ہیںجبکہ باقی اسامیاں چھوٹے گریڈ کی ہیں،صوبائی حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ زور سیکرٹریٹ کی پوسٹوں کی منظوری پر رہااور ان پوسٹوں کی منظوری کے لئے اثرورسوخ بھی استعمال کیا گیا،ذرائع کے مطابق گریڈ 19اور 20کی پوسٹیں تخلیق کرنے کے لئے بعض افسران نے صوبائی وزارت خزانہ کے حکام سے بار بار رابطے کئے اور انھیں اسامیوں کی منظوری کے لئے سمری وفاقی وزارت خزانہ کوارسال کرنے پر قائل کیاذرائع کے مطابق صوبائی وزارت خزانہ کے حکام کو رام کرنے کے لئے نہ صرف اثرورسوخ استعمال کیا گیا بلکہ ان کی خاطرمدارات بھی کی گئی جس کی وجہ سے وزارت خزانہ میں ان اسامیوں کی مخالفت کے باوجود غیر ضروری طور پر ایک چھوٹے صوبے جس کی اپنی کوئی آمدن نہیں کے سیکرٹریٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری دے دی گئی،ذرائع کے مطابق ان پوسٹوں کی منظوری میں ان افسروں کا کردار اہم رہا جن کو گریڈ 19اور گریڈ 20میں تعینات کیا جانا ہے اوران ہی افسران نے اسامیوں کی تخلیق کے لئے صوبائی وزارت خزانہ کے حکام کو قائل کیا ہے،ذرائع کے مطابق جب سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے اسامیوں کی سمری تیار ہوئی تو وزارت خزانہ میں اس حوالے سے اعتراضات سامنے آئے تھے کہ جی بی میں اتنے بڑے سیکرٹریٹ کی ضرورت ہی نہیں اس لئے اسامیوں کی تخلیق کے بجائے ڈاکٹرزاور اساتذہ بھرتی کئے جائیں کیونکہ علاقے میں ڈاکٹروں اور اساتذہ کی سخت ضرورت ہے افسروں کی نہیں،تاہم افسران نئی اسامیوں کی تخلیق کی سمری وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوانے میں کامیاب ہوگئے اور کئی ماہ بعد وفاق نے اسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری تو دیدی لیکن فنڈز فراہم کرنے سے انکار کردیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اب سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے ان غیر ضروری پوسٹوں کو تخلیق کرے گی اور اس کا تمام بوجھ صوبائی بجٹ پر پڑے گااور اسامیوں کے اخراجات اور مراعات کے لئے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا جائے گا کیونکہ اس کے سوا صوبائی حکومت کے پاس نئی اسامیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں ہے،ذرائع کے مطابق یہ امر حیران کن ہے کہ جب وفاقی وزارت خزانہ نے نئی پوسٹوں کے لئے فنڈز ہی نہیں دینا تو ان کی منظوری کیوں دی گئی اس لئے سمری کی منظوری نے مختلف شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے کیونکہ سمری کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک موخر بھی کیا جاسکتا تھا،سمری کی مشروط منظوری کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Portable Hand Held Hanging Steam

مشہور اشاعتیں