Showing posts with label ”روداد محفلِ مسالمہ و یومِ انگور“. Show all posts
Showing posts with label ”روداد محفلِ مسالمہ و یومِ انگور“. Show all posts

Friday, October 4, 2019

”روداد محفلِ مسالمہ و یومِ انگور“


تحریر: جمشیدخان دُکھی  ؔ

حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے تعاون سے30ستمبر 2019کو سوموار کے دن سہ پہر چار بجے ”سالانہ انگورڈے“بمقام خومر گلگت ڈاکٹرانصار الدین مدنی کے گھر میں منعقدہوا۔ جس میں حاذ کے شعراء اور صحافت سے وابستہ احباب شریک ہوئے۔ اس بار انگورڈے کے مہمان خصوصی معروف معیشت دان اور سابق عبوری وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب شیرجہان میر تھے۔ 30ستمبر کومحرم 1441ھ کی بھی 30تاریخ تھی۔اس لئے اس بار یوم انگورکے دوران محفل مشاعرہ کے بجائے  ”محفل مسالمہ“کااہتمام کیاگیاتھا۔ شعراء کرام نے اس موقع پر امام عالی مقام کے حضور منظوم گلہائے عقیدت پیش کئے۔ جو شعراء کرام محفل مسالمہ میں شریک ہوئے ان میں صدر حاذ پروفیسر محمدامین ضیا، سینئرنائب صدر عبدالخالق تاج، غلام عباس نسیم، آصف علی آصف، رحمان آہی، توصیف حسن، ناصرنصیر،شاہ جہان مضطر،رضا عباس تابش، یونس سروش،نوید نگری، عارف شیر الیاٹ اور جمشید دُکھی کے نام شامل ہیں۔ نظامت کے فرائض حاذ کے سیکریٹری مالیات غلام عباس نسیم نے انجام دئیے۔پروگرام کاآغازتلاوت کلام پاک سے کیاگیا۔ تلاوت کی سعادت معروف شاعریونس سروش نے حاصل کی۔ اس دوران مرحوم محمدظفرشاکر اور عبدالواحدگوہر کی ارواح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ معروف صحافی فہیم نے بھی اس محفل میں شرکت کی۔ معروف قلم کار احمدسلیم سلیمی نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ وقت فاسٹ ہے۔ایسے میں چند دیوانے ہیں جوعلاقے کے کلچر اور ادب کوپروان چڑھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ایسی محفلوں سے مقامی پھلوں کی طرف لوگوں کارجحان بڑھے گا۔ جہاں تک درس کربلا کاتعلق ہے تواس سے ایثار کاسبق ملتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نیک مقاصد کے لئے قربانی وایثار سے دریغ نہ کریں۔ مفتی ثناء اللہ صاحب نے بھی اس محفل میں شرکت کی۔ آپ نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ میں پہلی بار حاذ کی کسی محفل میں شرکت کررہاہوں۔ رب کریم نے انسان کوقوت گویائی عطافرمائی ہے۔ اگر انسانی زبان چل جائے تو بشرتکفیر کامرتکب ہوتا ہے۔حاذ کے احباب علم دوست لوگ ہیں۔ مجھے اس محفل میں سورہ فاتحہ کامنظوم مفہوم بھی سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ نے کہاکہ محبت اہل بیت ایمان کاجز ہے۔ آپ نے اپنے خطاب میں اہل بیت کرام اور اصحاب رسولؐ کی شان بیان کی اور حضور کے دور کے مدحت مصطفی کرنے والے شعراء کے مرتبہ ومقام پرروشنی ڈالی۔ ایگریکلچر آفیسرامتیاز نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرمدنی صاحب کو محکمہ زراعت کی رہنمائی حاصل ہے۔ اس سلسلے میں جوبھی مقامی پھلوں کی افزائش اور ترقی کے لئے آگے بڑھے تو ہمارامحکمہ رہنمائی کے لئے حاضر ہے۔ مہمان خصوصی جناب شیرجہان میر نے اپنے خطاب میں کہاکہ حاذ نے ایک ہی وقت میں ”محفل مسالمہ اوریوم انگور“ کاانعقاد کرکے یہ پیغام دیاہے کہ ہمیں اپنی پیداوارکی ترقی  کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گلگت  بلتستان میں لوگ زراعت اور پیدوار پرتوجہ کم دیتے ہیں اور ہرشخص نوکریوں کے حصول کیلئے سرگرداں رہتا ہے۔ اس ترجیح نے نوجوان نسل کومایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔ دوسری طرف بعض نوجوانوں نے ماہی پروری اورزراعت کی طرف توجہ دیکر لاکھوں روپے کمائے ہیں۔ لہٰذا نوجوانوں کواس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آپ نے کہاکہ حاذ ادب کاایک بڑا نام ہے۔ جنہوں نے قیام امن کے لئے بھی مثالی کرداراداکیا۔ علاقے میں ادب کے فروغ کیلئے حاذ کامثالی کردارناقابل فراموش ہے۔ آپ نے ڈاکٹرانصار مدنی کوبھی ”محفل مسالمہ اوریوم انگور“کے انعقاد پرخراج تحسین پیش کیا۔ مہمان خصوصی نے آخرمیں امام عالی مقام کے حضورمنظوم سلام عقیدت بھی پیش کیا۔حاذکی جانب سے ڈاکٹرانصارالدین مدنی کوصدر حاذ پروفیسرمحمدامین ضیاء نے تحفہ بھی پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز مہمان خصوصی اور حاذ کے اکابرین نے مکان کی چھت کے اوپر موجودانگور کی بیل کاٹ کرکی۔ آخرمیں میزبان ڈاکٹرانصارالدین مدنی نے مہمان خصوصی جناب شیرجہان میر، حاذ کے شعراء کرام اور میڈیاکے احباب کا اپنی اور تمام اہل خانہ کی جانب سے اس عزت افزائی پر شکریہ اداکیا۔ آپ نے اس موقع پر اپنا اور اپنے مرحوم والدکا شینامنظوم سلام عقیدت بحضور امام عالی مقام پیش کیا۔ اس کے بعد میزبان کی جانب سے مہمانوں کی خدمت میں تازہ انگورپیش کئے گئے اورچائے سے بھی تواضع کی گئی۔ تناول ماحضر کے بعد یہ محفل شام ہوتے ہی اختتام پذیرہوئی۔ یادرہے کہ یوم انگورپہلی بار 19اگست 2007کو معروف فوٹوگرافر مرحوم کریم جان نے اپنے دولت خانہ واقع کنوداس گلگت میں منعقد کیاتھا۔ جس میں جناب عنایت اللہ شمالی، ڈاکٹرمظفرریلے، عبدالخالق تاج،خوشی محمدطارق، ظفروقارتاج،مشتاق راہی، حفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، مسعود مدرس، جمشید دکھی اور معروف تاریخ دان جناب شیربازعلی برچہ شریک ہوئے تھے۔ اس یوم انگورکی خبر20اگست 2007کے روزنامہ محاسب گلگت بلتستان میں چھپ چکی ہے۔ کریم جان صاحب بعدمیں نومبر 2011کو اللہ کوپیارے ہوگئے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ بعدازاں یہ بیڑہ ڈاکٹرانصارمدنی نے اٹھایا۔ بلاشبہ ان کایہ اقدام قابل تعریف ہے۔کہتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی زندگی کازیادہ ترتوازن پودوں، درختوں اور جنگلوں پرقائم ہے۔ برطانیہ نے چارسوسال قبل درختوں کی کٹائی پر پابندی لگائی تھی اورجرمنی میں کوئی شخص حکومت سے تحریری اجازت لئے بغیر اپنے صحن کے درخت بھی نہیں کاٹ سکتا۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور فرانس وغیرہ میں درخت کاٹنا قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم کو درختوں کی افادیت معلوم ہونے کے باوجود کوئی پرواہ نہیں۔حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق درخت لگاناصدقہ جاریہ ہے۔ ہم اپنی زمینوں پر مکانات کی صورت میں پتھر اُگارہے ہیں اوردرختوں کوبے دریغ کاٹ رہے ہیں۔ ایک سرسبز وشاداب درخت سال میں جتنی آکسیجن پیداکرتا ہے وہ اگر لیبارٹری میں تیارکی جائے تو اس پرہزاروں ڈالرخرچ ہونگے۔ ایک ایکڑپرپھیلاہوا درختوں کاذخیرہ سال میں جتنی بارش کاموجب بنتاہے اگراتنی بارش مصنوعی طریقے سے پیداکی جائے تواس پر لاکھوں ڈالرخرچ ہونگے۔ ایک میل پر محیط جنگل زمین میں جتناپانی جمع کرتا ہے اگراتنا پانی انسانی کوشش سے جمع کیاجائے تواس پرایک چھوٹے سائز کے ڈیم کے برابرخرچ آئے گا۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم پھلداراور غیرپھلدار درختوں کی شجرکاری کرکے نہ صرف ایک صحت مندمعاشرے کے قیام کی راہ ہموارکرسکتے ہیں بلکہ علاقائی اور ملکی معیشت کوبھی مستحکم کرسکتے ہیں۔ ہماری سرزمین کی پیداوار چاہے پھلدار درخت ہوں یافصلیں ہماری صحت کے ضامن ہیں۔ فطرت نے ہماری صحت کی ضروریات ہماری زمین کی پیداوار میں رکھی ہیں۔ لیکن ہم اپنے علاقے میں بیٹھ کر مغرب کے منرل واٹرمیں صحت ڈھونڈرہے ہیں جوممکن نہیں۔درختوں سے انسانوں اور تمام ذی روح مخلوقات کوملنے والے آکسیجن اور مضرصحت گیس جذب کرنے کے دم سے ہی معاشرہ صحت مندرہتا ہے۔چنانچہ درخت لگانے والے کو اس کااجر بدستورملتا رہے گا۔حکومت کوبھی چاہیے کہ اب بھی علاقے میں موجود غیرآباد اور بنجرزمینوں میں باغات اگانے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک صحت مندمعاشرے کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیرہوسکے۔ ڈاکٹرمدنی کویہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مقامی پھلوں کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے ”سالانہ یومِ انگور“ منانے کااہتمام کرتے ہیں۔خداوندقدوس انہیں اس کااجر عطا کرے۔محفل مسالمہ کااختتام مہمان خصوصی کے خطاب کے ساتھ ہی ہوا۔اس حوالے سے صرف اتناکہوں گا کہ پرانے یزیدنے امام عالی مقام اوراس کی آل کو بھوک وپیاس سے اذیت دیکر شہیدکیا جبکہ عصرحاضر کے یزید نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور وہ جس قوم کو گھیرناچاہے تواسے امداددیناشروع کردیتا ہے۔ لہٰذا عصرِ حاضر کے مسلمانوں کوبھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظرمیں لکھاگیا اپنے اس قطعہ کے ساتھ اجازت چاہوں گا:۔

اُس دور کے یزیدنے پانی دئیے بغیر
مظلوم کربلا میں بہتر(72) کئے شہید
اِ س دور میں ستم کے طریقے بدل گئے
مارے کھلا پلا کے نئے عہد کا یزید

Portable Hand Held Hanging Steam

مشہور اشاعتیں