Wednesday, October 30, 2019

افغان فورسز کی چترال میں بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری

افغان فورسز کی  چترال میں  بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری  

 Gb updates

 پاک فوج کے 6جوانوں سمیت11 افراد زخمی،، آئی ایس پی آر

افغان فورسز کی جانب سے سرحد پا ر سے چترال کے گاؤں اروندو پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں پاک فوج کے 6جوان اور خاتون سمیت 5شہری زخمی ہوگئے،پاک فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک افغان سرحد پر پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔افغان سیکیورٹی فورسز نے صوبہ کنڑ کے ضلع ناری سے چترال کے گاؤں اروندو کی شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے مارٹر گولے پھینکے اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 6جوان اور ایک خاتون سمیت پانچ شہری زخمی ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے مؤثر جواب دیتے ہوئے افغانستان کی قندقشی اور دلبر چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جہاں سے فائر کیا گیا تھا۔ا س سے افغان سرحدی چیک پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ فوجی حکام کی  سطح پر رابطوں کے بعد فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا

Tuesday, October 22, 2019

سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان



 سیاچن گلیشیئر پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کا یہ بلند ترین اور سرد ترین میدان جنگ ہے

نئی دہلی (ویب ڈیسک / جی بی اپڈیٹس) بھارت نے سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا، یادرہے کہ  بیس ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع سیاچن گلیشیئر پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کا یہ بلند ترین اور سرد ترین میدان جنگ ہے۔جرمن میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چین کے ساتھ ملحق حقیقی کنٹرول لائن کے قریب شیوک ندی پر تعمیر ہونے والے اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم پل 'کرنل چیوانگ رینچین پل‘ کا افتتاح کرنے کے بعد کہا، ”سیاچن گلیشیئر کو اب سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ سیاچن کے بیس کیمپ (12300فٹ کی بلندی) سے کمار پوسٹ (15600فٹ کی بلندی) کے پورے علاقے کو سیاحت کے غرض سے کھول دیا گیا ہے۔ ا س سے لداخ میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا اور عام لوگوں کو یہ اندازہ بھی ہوسکے گا کہ بھارتی فوج کے جوان اور انجینیئر انتہائی خراب موسم اور نامساعد حالات کے باوجود ملک کی کس طرح حفاظت کرتے ہیں۔''رپورٹ کے مطابق 1984ء کے بعد سے پاکستان اور بھارت کی فوج اپنی اپنی پوزیشن پر موجود ہیں۔سیاچن انتہائی مشکل ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ علاقہ سال بھر برف سے ڈھکا رہتا ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔  بھارت کو یہاں اپنے فوجیوں کو رکھنے پر یومیہ چھ کروڑ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، موسم یہاں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سیاچن گلیشیئر کو سیاحت کے لیے کھولنے کے اصل مقصد اسٹریٹیجک پہل ہے کیوں کہ سیاحت کو کسی علاقے پر اپنی دعویداری ثابت کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

https://gbnewsupdates.blogspot.com


Friday, October 4, 2019

”روداد محفلِ مسالمہ و یومِ انگور“


تحریر: جمشیدخان دُکھی  ؔ

حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے تعاون سے30ستمبر 2019کو سوموار کے دن سہ پہر چار بجے ”سالانہ انگورڈے“بمقام خومر گلگت ڈاکٹرانصار الدین مدنی کے گھر میں منعقدہوا۔ جس میں حاذ کے شعراء اور صحافت سے وابستہ احباب شریک ہوئے۔ اس بار انگورڈے کے مہمان خصوصی معروف معیشت دان اور سابق عبوری وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب شیرجہان میر تھے۔ 30ستمبر کومحرم 1441ھ کی بھی 30تاریخ تھی۔اس لئے اس بار یوم انگورکے دوران محفل مشاعرہ کے بجائے  ”محفل مسالمہ“کااہتمام کیاگیاتھا۔ شعراء کرام نے اس موقع پر امام عالی مقام کے حضور منظوم گلہائے عقیدت پیش کئے۔ جو شعراء کرام محفل مسالمہ میں شریک ہوئے ان میں صدر حاذ پروفیسر محمدامین ضیا، سینئرنائب صدر عبدالخالق تاج، غلام عباس نسیم، آصف علی آصف، رحمان آہی، توصیف حسن، ناصرنصیر،شاہ جہان مضطر،رضا عباس تابش، یونس سروش،نوید نگری، عارف شیر الیاٹ اور جمشید دُکھی کے نام شامل ہیں۔ نظامت کے فرائض حاذ کے سیکریٹری مالیات غلام عباس نسیم نے انجام دئیے۔پروگرام کاآغازتلاوت کلام پاک سے کیاگیا۔ تلاوت کی سعادت معروف شاعریونس سروش نے حاصل کی۔ اس دوران مرحوم محمدظفرشاکر اور عبدالواحدگوہر کی ارواح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ معروف صحافی فہیم نے بھی اس محفل میں شرکت کی۔ معروف قلم کار احمدسلیم سلیمی نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ وقت فاسٹ ہے۔ایسے میں چند دیوانے ہیں جوعلاقے کے کلچر اور ادب کوپروان چڑھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ایسی محفلوں سے مقامی پھلوں کی طرف لوگوں کارجحان بڑھے گا۔ جہاں تک درس کربلا کاتعلق ہے تواس سے ایثار کاسبق ملتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نیک مقاصد کے لئے قربانی وایثار سے دریغ نہ کریں۔ مفتی ثناء اللہ صاحب نے بھی اس محفل میں شرکت کی۔ آپ نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ میں پہلی بار حاذ کی کسی محفل میں شرکت کررہاہوں۔ رب کریم نے انسان کوقوت گویائی عطافرمائی ہے۔ اگر انسانی زبان چل جائے تو بشرتکفیر کامرتکب ہوتا ہے۔حاذ کے احباب علم دوست لوگ ہیں۔ مجھے اس محفل میں سورہ فاتحہ کامنظوم مفہوم بھی سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ نے کہاکہ محبت اہل بیت ایمان کاجز ہے۔ آپ نے اپنے خطاب میں اہل بیت کرام اور اصحاب رسولؐ کی شان بیان کی اور حضور کے دور کے مدحت مصطفی کرنے والے شعراء کے مرتبہ ومقام پرروشنی ڈالی۔ ایگریکلچر آفیسرامتیاز نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرمدنی صاحب کو محکمہ زراعت کی رہنمائی حاصل ہے۔ اس سلسلے میں جوبھی مقامی پھلوں کی افزائش اور ترقی کے لئے آگے بڑھے تو ہمارامحکمہ رہنمائی کے لئے حاضر ہے۔ مہمان خصوصی جناب شیرجہان میر نے اپنے خطاب میں کہاکہ حاذ نے ایک ہی وقت میں ”محفل مسالمہ اوریوم انگور“ کاانعقاد کرکے یہ پیغام دیاہے کہ ہمیں اپنی پیداوارکی ترقی  کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گلگت  بلتستان میں لوگ زراعت اور پیدوار پرتوجہ کم دیتے ہیں اور ہرشخص نوکریوں کے حصول کیلئے سرگرداں رہتا ہے۔ اس ترجیح نے نوجوان نسل کومایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔ دوسری طرف بعض نوجوانوں نے ماہی پروری اورزراعت کی طرف توجہ دیکر لاکھوں روپے کمائے ہیں۔ لہٰذا نوجوانوں کواس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آپ نے کہاکہ حاذ ادب کاایک بڑا نام ہے۔ جنہوں نے قیام امن کے لئے بھی مثالی کرداراداکیا۔ علاقے میں ادب کے فروغ کیلئے حاذ کامثالی کردارناقابل فراموش ہے۔ آپ نے ڈاکٹرانصار مدنی کوبھی ”محفل مسالمہ اوریوم انگور“کے انعقاد پرخراج تحسین پیش کیا۔ مہمان خصوصی نے آخرمیں امام عالی مقام کے حضورمنظوم سلام عقیدت بھی پیش کیا۔حاذکی جانب سے ڈاکٹرانصارالدین مدنی کوصدر حاذ پروفیسرمحمدامین ضیاء نے تحفہ بھی پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز مہمان خصوصی اور حاذ کے اکابرین نے مکان کی چھت کے اوپر موجودانگور کی بیل کاٹ کرکی۔ آخرمیں میزبان ڈاکٹرانصارالدین مدنی نے مہمان خصوصی جناب شیرجہان میر، حاذ کے شعراء کرام اور میڈیاکے احباب کا اپنی اور تمام اہل خانہ کی جانب سے اس عزت افزائی پر شکریہ اداکیا۔ آپ نے اس موقع پر اپنا اور اپنے مرحوم والدکا شینامنظوم سلام عقیدت بحضور امام عالی مقام پیش کیا۔ اس کے بعد میزبان کی جانب سے مہمانوں کی خدمت میں تازہ انگورپیش کئے گئے اورچائے سے بھی تواضع کی گئی۔ تناول ماحضر کے بعد یہ محفل شام ہوتے ہی اختتام پذیرہوئی۔ یادرہے کہ یوم انگورپہلی بار 19اگست 2007کو معروف فوٹوگرافر مرحوم کریم جان نے اپنے دولت خانہ واقع کنوداس گلگت میں منعقد کیاتھا۔ جس میں جناب عنایت اللہ شمالی، ڈاکٹرمظفرریلے، عبدالخالق تاج،خوشی محمدطارق، ظفروقارتاج،مشتاق راہی، حفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، مسعود مدرس، جمشید دکھی اور معروف تاریخ دان جناب شیربازعلی برچہ شریک ہوئے تھے۔ اس یوم انگورکی خبر20اگست 2007کے روزنامہ محاسب گلگت بلتستان میں چھپ چکی ہے۔ کریم جان صاحب بعدمیں نومبر 2011کو اللہ کوپیارے ہوگئے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ بعدازاں یہ بیڑہ ڈاکٹرانصارمدنی نے اٹھایا۔ بلاشبہ ان کایہ اقدام قابل تعریف ہے۔کہتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی زندگی کازیادہ ترتوازن پودوں، درختوں اور جنگلوں پرقائم ہے۔ برطانیہ نے چارسوسال قبل درختوں کی کٹائی پر پابندی لگائی تھی اورجرمنی میں کوئی شخص حکومت سے تحریری اجازت لئے بغیر اپنے صحن کے درخت بھی نہیں کاٹ سکتا۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور فرانس وغیرہ میں درخت کاٹنا قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم کو درختوں کی افادیت معلوم ہونے کے باوجود کوئی پرواہ نہیں۔حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق درخت لگاناصدقہ جاریہ ہے۔ ہم اپنی زمینوں پر مکانات کی صورت میں پتھر اُگارہے ہیں اوردرختوں کوبے دریغ کاٹ رہے ہیں۔ ایک سرسبز وشاداب درخت سال میں جتنی آکسیجن پیداکرتا ہے وہ اگر لیبارٹری میں تیارکی جائے تو اس پرہزاروں ڈالرخرچ ہونگے۔ ایک ایکڑپرپھیلاہوا درختوں کاذخیرہ سال میں جتنی بارش کاموجب بنتاہے اگراتنی بارش مصنوعی طریقے سے پیداکی جائے تواس پر لاکھوں ڈالرخرچ ہونگے۔ ایک میل پر محیط جنگل زمین میں جتناپانی جمع کرتا ہے اگراتنا پانی انسانی کوشش سے جمع کیاجائے تواس پرایک چھوٹے سائز کے ڈیم کے برابرخرچ آئے گا۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم پھلداراور غیرپھلدار درختوں کی شجرکاری کرکے نہ صرف ایک صحت مندمعاشرے کے قیام کی راہ ہموارکرسکتے ہیں بلکہ علاقائی اور ملکی معیشت کوبھی مستحکم کرسکتے ہیں۔ ہماری سرزمین کی پیداوار چاہے پھلدار درخت ہوں یافصلیں ہماری صحت کے ضامن ہیں۔ فطرت نے ہماری صحت کی ضروریات ہماری زمین کی پیداوار میں رکھی ہیں۔ لیکن ہم اپنے علاقے میں بیٹھ کر مغرب کے منرل واٹرمیں صحت ڈھونڈرہے ہیں جوممکن نہیں۔درختوں سے انسانوں اور تمام ذی روح مخلوقات کوملنے والے آکسیجن اور مضرصحت گیس جذب کرنے کے دم سے ہی معاشرہ صحت مندرہتا ہے۔چنانچہ درخت لگانے والے کو اس کااجر بدستورملتا رہے گا۔حکومت کوبھی چاہیے کہ اب بھی علاقے میں موجود غیرآباد اور بنجرزمینوں میں باغات اگانے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک صحت مندمعاشرے کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیرہوسکے۔ ڈاکٹرمدنی کویہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مقامی پھلوں کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے ”سالانہ یومِ انگور“ منانے کااہتمام کرتے ہیں۔خداوندقدوس انہیں اس کااجر عطا کرے۔محفل مسالمہ کااختتام مہمان خصوصی کے خطاب کے ساتھ ہی ہوا۔اس حوالے سے صرف اتناکہوں گا کہ پرانے یزیدنے امام عالی مقام اوراس کی آل کو بھوک وپیاس سے اذیت دیکر شہیدکیا جبکہ عصرحاضر کے یزید نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور وہ جس قوم کو گھیرناچاہے تواسے امداددیناشروع کردیتا ہے۔ لہٰذا عصرِ حاضر کے مسلمانوں کوبھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظرمیں لکھاگیا اپنے اس قطعہ کے ساتھ اجازت چاہوں گا:۔

اُس دور کے یزیدنے پانی دئیے بغیر
مظلوم کربلا میں بہتر(72) کئے شہید
اِ س دور میں ستم کے طریقے بدل گئے
مارے کھلا پلا کے نئے عہد کا یزید

جی بی کابینہ اجلاس،سیف سٹی،ریسکیو1122، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مددت ملازمت میں توسیع کی منظوری



 عارضی ملازمیں کی کم سے کم تنخواہ چودہ ہزار کرنے ،چھوٹے درجے کے بجلی گھروں کی تعمیر کی حکومت اوراے کے آر ایس پی کے درمیاں ایم او یو کرنے کی بھی منظوری دی،مشیر اطلاعات شمس میر کی بریفنگ

گلگت بلتستان کابینہ نے متفقہ طور پر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو 1122،سیف سٹی، بارڈر پاس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے پراجیکٹ ملازمیں کی مدت ملازمت میں توسیع کی پرسپلی منظوری دی ہے، گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار گلگت بلتستان اسمبلی کابینہ کی اجلاس سکردو میں ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ مزکورہ پرجیکٹس کے ملازمیں کی توسیع کیلے ضابطے کیکاروائی فوری مکمل کرنے کیلیچیف سیکٹری گلگت بلتستان متعلقہ اداروں کے وزراء اور سیکٹریز کو کابینہ نے باقاعدہ ہدایت بھ جاری کی ہے۔انہوں نے کہا اجلاس میً عارضی ملازمیں کی کم سے کم تنخواہ چودہ ہزار روپیے کرنے کی بھی منظوری دی ہے، اجلاس میں اسامیوں کی اپ گریڈیشن اور ریزگینیشن میلے کابینہ نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات کی روشنی میں منظوری دینے کے احکامات جاری کی ہیانہون نے کہا اجلاس میں گلگت بلتستان کے تمام ملازمیں کیلے ہیلتھ انشورنس کیلے فائنل سفارشات کو کابینہ نے حتمی شکل دینے کی بھی منظوری دی یے۔اجلاس میں گلگت بلتستان میں چھوٹے درجے کے بجلی گھروں کی تعمیر کیلے حکومت اور اے کے آر ایس پی کے درمیاں ایم او یو کرنے کی بھی منظوری دی ہے اس ایم او یو کے مطابق پبلک پرائیوٹ پارٹنر شب کا باقاعدہ آغاز کیا جائیگا۔اس منصوبے کے تحت ہایڈرو منصوں کے ساتھ سو لر بجلی گھروں کے چھوٹے منصوبے  لگائے جائیں گے انہون نے کہا کہ اجلاس میں اضافی ایجنڈے کے تحت کابینہ نے اس سال سکردو کیلے سردیوں میں لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کیلے فوری اقدامات کرنے کی متعلقہ محکمہ واٹر اینڈپاور کو ہدایت دیں اور ڈیزل جنریٹر مزید سکردو کیلے فراہم کرنے کی منظوری دی ہے، شمس میر نے کہا مائننگ کمیشن رولز 2016میں ترمیم کو کابینہ نے منظوری کرتے ہوئے مائنگ پالیسی کو قابل عمل در آمد بنانیاور آسان بناتے ہوئیسرمایہ کاروں کیلے پر کشش مراعات متعارف کرانے کی متعلقہ محکمہ کو ہدایت کی ہے انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ بنانے اور غیر قانونی کٹاؤ کو روکنے کیلے اقدامت اٹھائی جارہی ہے اور ورکنگ پلان پر عمل در آمد کردینا چاہیے اوع شیڈولینگ کو یقینی بنائی جائیگی اور دیانت کی نئی فارسٹ پالیسی لیگل شورٹی بانڈکو لازمی قرار دیا ہے۔سئی جگلوٹ تعمیراتی لکڑی کی نیلامی کے حوالے سے حکمت عملی قانونی ضابطہ کے تحت طے کی ہے، نئی ٹمبر کیلے ضابطہ کی کاروئی 60دنوں کے اندر مکمل کرنا کرنی ہوگی اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔انہون نے مزید کہا کہ مختلف محکموں میں انجینئیر الؤنس پی اینڈ ڈی کا الاؤنس اور اے پی یو جی ہارڈ الاؤنس کیلے کابینیہ نے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی ہے۔اور کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کنٹریکٹ میں تعیناتی کیلے عمر اور ڈومیسائل کی شرط کی رعایت و مالی مراعات کو دیکھتے ہوئے کابینہ نے عارضی نرمی کی منظوری دیتے ہوئے ضابطہ کاروائی مکمل کرنے کیلے اقدامت اٹھائی جائیگی۔کابینہ نے اخوت کیساتھ آئندہ پانچ سال کیلے معاہدے کی منظوری بھی دی اور چھوٹے قرضوں کی فراہمی کیلیمزید علاقوں میں اخوت کی برانچز کھولنے کیلے محکمہ سوشل ویلفئیر کو سفارشات کرنے کی ہدایت کی ہے انہون نے کہا کہ سیپ اساتذہ کے 759ملازمیں کو مستقل کرنے کیلے اگلے اجلاس میں سفارش پیش کرنے کو کہا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک نالائق وزیر یہاں آکر وزیر اعلیٰ ہر انگلی اٹھا رہا ہے جو کہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سکردو میں منعقد ہونے والی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت  بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی کابینہ کا اجلاس  بلتستان میں ہورہاہے۔ آئند ہ صوبائی کابینہ کا اجلاس دیامر میں منعقد کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سیپ اساتذہ کی مستقلی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ اسمبلی اجلاس میں ضروری قانون سازی کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ویدر پالیسی کی منظوری سے تمام سرکاری ملازمین کو ویدر چارجز کی فراہمی یقینی بنائی گئی جس سے اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود اور علاج و معالجے کیلئے ہیلتھ اینڈ لائف انشورنس کرایا جارہاہے تاکہ سرکاری ملازمین کو بہتر علاج و معالجے کی سہولیات میسر آسکیں۔ 2020ء تک آبادی کا بیشتر حصے کا ہیلتھ انشورنس کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے صوبائی حکومت نے ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کرایا جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پرائم منسٹر ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کروائی تھی جو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت  بلتستان میں بھی شروع کی گئی تھی جس سے یہاں کے غریب عوام کو ملک کے بڑے ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی سہولت میسرآئی تھی۔وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 56 ہزار سرکاری ملازمین کی ہیلتھ انشورنس سے ان کے خاندان کو ملک کے تمام بڑے ہسپتالوں میں بہتر علاج و معالجے کے سہولیات میسر آئیں گے۔ صوبائی کابینہ اجلاس میں گلگت  بلتستان سول سرونٹس ہیلتھ اینڈ لائف انشورنس ایکٹ 2019ء کی منظوری دی گئی۔صوبائی کابینہ اجلاس میں محکمہ جنگلات کی جانب سے ٹمبر پالیسی کے حوالے سے پیش کئے جانے والے تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی

Wednesday, October 2, 2019

جی بی کے4167 اسا میوں کی منظوری ،لیکن وفاق کی انکاری

گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے


گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے 


اسلام آباد( مانیٹر نگ ڈیسک)وفاقی وزارت خزانہ نے گلگت بلتستان میں گریڈ19اور 20کی 431اسامیوں سمیت 4167نئی اسامیاں تخلیق کرنے کی سمری کی منظوری دے دی ہے تاہم اسامیوں کیلئے فنڈزفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ نئی اسامیوں کے لئے صوبے کے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا جائے گا جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے،تفصیلا ت کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے وفاقی وزارت خزانہ کو 4167نئی اسامیوں کی تخلیق کے لئے سمری بھجوائی تھی سمری کئی ماہ وفاقی وزارت خزانہ کے پاس رہی اور اس پر وفاق میں طویل مشاورت کی گئی جس کے بعد وفاقی وزارت خزانہ نے سمری کی منظوری تو دے دی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جی بی حکومت سے کہا گیا ہے کہ اسامیوں کے لئے درکار اضافی فنڈز کا انتظام صوبائی حکو مت اپنے بجٹ سے کرے،ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ کا فیصلہ حیران کن ہے کیونکہ گلگت بلتستان جوکہ وفاق کی جانب سے جاری کردہ گرانٹ پر گزارہ کرتا ہے اور اس کی اپنی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے اسامیوں کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا صوبائی حکومت کے بس میں ہی نہیں ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاق نے فنڈز ہی نہیں دینے تو پھر سمری کی منظوری کا کوئی جواز نہیں بنتاسمری کی منظوری کے لئے اختیارکردہ طریقہ کار اور راستے کوجہاں انوکھا قرار دیا جارہا ہے وہاں اس فیصلے نے گلگت بلتستان حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ اگر اسامیاں تخلیق کی جاتی ہیں تو اس صورت میں ان کے لئے فنڈز کا بندوبست کرنا صوبائی حکومت کے لئے کسی پہاڑ کو سرکرنے سے کم نہیں ہوگا،سمری کے مطابق تخلیق شدہ اسامیوں میں 451نئی اسامیاں،1049پی سی فوراسامیاں،2430اپگریڈیشن یاری ڈیزکنیشن اسامیاں اور 237محکمہ خوراک کی اسامیاں شامل ہیں ،نئی تخلیق ہونے والی اسامیوں میں 431پوسٹیں جی جی سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے رکھی گئی ہیں جن میں پہلی مرتبہ گریڈ 19اور گریڈ 20کی 30اسامیاں بھی شامل کی گئی ہیںجبکہ باقی اسامیاں چھوٹے گریڈ کی ہیں،صوبائی حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ زور سیکرٹریٹ کی پوسٹوں کی منظوری پر رہااور ان پوسٹوں کی منظوری کے لئے اثرورسوخ بھی استعمال کیا گیا،ذرائع کے مطابق گریڈ 19اور 20کی پوسٹیں تخلیق کرنے کے لئے بعض افسران نے صوبائی وزارت خزانہ کے حکام سے بار بار رابطے کئے اور انھیں اسامیوں کی منظوری کے لئے سمری وفاقی وزارت خزانہ کوارسال کرنے پر قائل کیاذرائع کے مطابق صوبائی وزارت خزانہ کے حکام کو رام کرنے کے لئے نہ صرف اثرورسوخ استعمال کیا گیا بلکہ ان کی خاطرمدارات بھی کی گئی جس کی وجہ سے وزارت خزانہ میں ان اسامیوں کی مخالفت کے باوجود غیر ضروری طور پر ایک چھوٹے صوبے جس کی اپنی کوئی آمدن نہیں کے سیکرٹریٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری دے دی گئی،ذرائع کے مطابق ان پوسٹوں کی منظوری میں ان افسروں کا کردار اہم رہا جن کو گریڈ 19اور گریڈ 20میں تعینات کیا جانا ہے اوران ہی افسران نے اسامیوں کی تخلیق کے لئے صوبائی وزارت خزانہ کے حکام کو قائل کیا ہے،ذرائع کے مطابق جب سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے اسامیوں کی سمری تیار ہوئی تو وزارت خزانہ میں اس حوالے سے اعتراضات سامنے آئے تھے کہ جی بی میں اتنے بڑے سیکرٹریٹ کی ضرورت ہی نہیں اس لئے اسامیوں کی تخلیق کے بجائے ڈاکٹرزاور اساتذہ بھرتی کئے جائیں کیونکہ علاقے میں ڈاکٹروں اور اساتذہ کی سخت ضرورت ہے افسروں کی نہیں،تاہم افسران نئی اسامیوں کی تخلیق کی سمری وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوانے میں کامیاب ہوگئے اور کئی ماہ بعد وفاق نے اسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری تو دیدی لیکن فنڈز فراہم کرنے سے انکار کردیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اب سیکرٹریٹ میں توسیع کے لئے ان غیر ضروری پوسٹوں کو تخلیق کرے گی اور اس کا تمام بوجھ صوبائی بجٹ پر پڑے گااور اسامیوں کے اخراجات اور مراعات کے لئے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا جائے گا کیونکہ اس کے سوا صوبائی حکومت کے پاس نئی اسامیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں ہے،ذرائع کے مطابق یہ امر حیران کن ہے کہ جب وفاقی وزارت خزانہ نے نئی پوسٹوں کے لئے فنڈز ہی نہیں دینا تو ان کی منظوری کیوں دی گئی اس لئے سمری کی منظوری نے مختلف شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے کیونکہ سمری کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک موخر بھی کیا جاسکتا تھا،سمری کی مشروط منظوری کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ہنزہ،پیراگلائیڈنگ گالہ اختتام پذیر، فرانس اور روس کی پہلی پوزیشن

 انٹرنیشنل پیراگلائیڈنگ https://gbnewsupdates.blogspot.com/ہ

ہنزہ،پیراگلائیڈنگ گالہ اختتام پذیر، فرانس اور روس کی پہلی پوزیشن 

ہنزہ میں ہونے والی انٹرنیشنل پیراگلا ئٹنگ مردوں میں فرانس کے  سٹیپن ڈورین  نے  پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ خواتین  میں روس کے مارینہ اولیکسینہ نے پہلی پوزتیشن حاصل کی 

 ہنزہ میں ہونے وا لی انٹرنیشنل پیراگلائیڈنگ مردوں میں فرانس کے سٹیپن ڈورین نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ خواتین میں روس کے  مارینہ اولیکسینہ  نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔جبکہ دیگر مردوں میں دوسری نمبر پرڈومینہ روہنرر جن کا تعلق  صی ایچ ای اور تیسرے پر نیوزلینڈ کے  نیک نینیس رہے جبکہ خواتین میں دوسری پوزیشن اسٹریلیا کے   کارلے اوکرونل اور تیسری پوزیشن بھی اسٹریلیا کے خاتون پیرگلائیڈر  حلینہ کوفمان نے اپنا نام کر لی۔ پہلی دفعہ پیرا گلائیڈنگ گلگت  بلتستان ضلع ہنزہ میں ہونے والی نٹر نیشنل سطح کے پیرا گلائیڈنگ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر جعفرا للہ نے بحیثیت مہان خصوصی کہا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملکی ہو یا غیر ملکی سیاحت گلگت بلتستان کیلئے امن کا گہوارہ بن چکا ہے ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہے کہ پہلی دفعہ گلگت بلتستان میں پیراگلائیڈنگ گالا کا انعقاد کر دیا۔ اور ہم آپ سب کو یقین دلاتے ہے کہ اس سال 42ملکوں سے پیراگلائیڈنگ کیلئے آئے ہے تو آئندہ سال 80سے زائد ملکوں کے کھیلاڑی گلگت بلتستان آئینگے اور آئندہ اس ایونٹ کو کلنڈر ایونٹ میں شامل کرئینگے جس کے لئے صوبائی حکومت بھرپور تعاون کرئیگی۔اس موقع پر وزیر تعمیرات گلگت بلتستان ڈاکٹر اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کاتاثر دُنیا میں غلط اندا میں اجاگر کیا تھا مگر جب سے پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو پورا پاکستان امن کا گہورا بن چکا ہے اور مملکت پاکستان ہر وہ سیاح کے لئے کھلا ہے جو نیک نیتی کے ساتھ پاکستان آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں انٹرنیشنل سطح کے دیگر کھیلوں کے لئے موزوں ترین علاقہ ہے اور ہم دُنیا کے ممالک کو دعوت دیتے ہے کہ پاکستان بلخوص گلگت بلتستان میں میگا ایونٹس کا انعقاد کریں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیر عالم اسماعیلی ریجنل کونسل نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہے جنہوں نے ہنزہ کو اس قابل سمجھا کر بین الاقوامی سطح کے کھیلوں کا انعقاد کیا اور امید کرتے ہے کہ آئندہ بھی ضلع ہنزہ میں دیگر کھیلوں کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرئینگے اور عوام ہنزہ سے جس قدر تعاون درکار ہو خوش آمدید کہیں گے۔ اس موقع پر غیر ملکی پیرا گلائیڈر نے گلگت بلتستان بلخصوص ہنزہ میں ہو نے والی پیراگلائیڈنگ کو ایک یاد گار لمحہ قرار دیا انہوں نے یہاں کہ ضلعی انتظامیہ ور عوام نے ہمیں انتہائی عزت دی جس کے لئے ہم سب کا شکر گزار ہے انہوں نے کہا کہ یہ گالہ کشمیر مظفر آباد میں ہونا تھا تاہم مختلف وجوہات کے بنا پر ضلع ہنزہ میں منعقد ہوا اور یہاں کی مہمان نوازنی سے ہم نہایت متاثر ہو گئے ہے اور آئندہ بھی ایسے تقریبات اور ایونٹس کے لئے گلگت بلتستان کی طرف رُوخ کرئینگے۔تقریب کے اختتام پر اسپیکر گلگت بلتستان جعفر االلہ، صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد، کمشنر گلگت عثمان آحمد، ایس پی ہنزہ کے علاوہ ڈی سی ہنزہ بابر صاحب الدین نے پوزیشن حاصل کرنے والے مرد اور خواتین اتھلیٹسکو نقد انعامات کے ساتھ شیلٖڈ بھی دیا گیاجبکہ اس گالے میں شریک ملکی و غیر ملکی کھیلاڑیوں کو روایاتی ٹوپیاں بھی پہنائے گئے۔

Monday, September 30, 2019

ایل پی جی آئیر مکس منصوبہ متنازعہ، پراجیکٹ کو التوا کا شکارکروایا گیا(وزیراعلیٰ

Cm Gilgit Baltistan


 اگلے ماہ اکتوبر کی دس سے بیس تاریخ تک پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اورہماری کوشش ہے کہ گلگت 
شہر کے بعد سکردو میں منصوبے کا آغاز کیا جائے،منیجر 

اسلام آباد (جی بی این  یو)جنرل منیجر ایس این جی پی یل آصف اکبر کی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سے
 ملاقات،آصف اکبر نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کو گلگت شہر میں گیس منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اس موقعہ پر کہا کہ ہماری حکومت نے گلگت کی عوام سے گیس کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے ہماری خواہش ہے کہ یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو،یہ اہم منصوبہ ابھی تک مکمل ہو چکا ہوتا اگر گلگت میں زمین  فراہمی میں رکاوٹیں نہ ڈالی جاتیں تو،بد قسمتی سے گیس منصوبے کے لئے مقرر کردہ زمین کو متنازعہ بنا کر منصوبے کو التوا کا شکار کیا گیا،لیکن اب جبکہ زمین کی لوکیشن تبدیل کر کے نئی زمین فراہم کر دی گئی ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ یہ اہم منصوبہ جلد سے جلد مکمل ہو جائے تا کہ گلگت شہر سے ایندھن کا مسلہ ختم ہو جائے اور عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہو جائے،وزیر اعلی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف  سے درخواست کی  تھی کہ گلگت بلتستان کے بڑے شہروں گلگت،سکردو،چلاس،ہنزہ و دیگر شہروں کے لئے گیس منصوبہ منظور کیا جائے سابق وزیر اعظم نے منصوبہ منظور کیا،اب ابتدائی طور پر گلگت شہر میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے اگلے مرحلے میں سکردو،چلاس،ہنزہ اور دیگر شہروں میں بھی گیس منصوبے کا آغاز ہوگا تا کہ گلگت بلتستان کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر بھی قابو پایا جا سکے اور دوسری طرف ایندھن کے مسائل بھی حل ہوں،وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کا سوئی ناردرن گیس کمپنی سے معاہدہ ہو چکا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے لئے گیس کے جو نرخ ہیں وہی نرخ گلگت بلتستان کے لئے ہوں گے،گیس سلنڈر کے مقابلے میں کئی گناہ ریٹ کم ہوں گے جس سے جہاں عوام کو اربوں کی بچت ہوگی وہاں گلگت بلتستان کے جنگلات اور قدرتی وسائل کا بھی تحفظ ہوگا۔وزیراعلی نے کہا کہ ہم نے گلگت شہر کے ساتھ ساتھ سکردو  اور دیگر شہروں میں بھی گیس فراہمی عزم کیا ہے،آصف اکبر نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کی ہدایات کے مطابق منصوبے کو مکمل کریں اور اس کیلئے ہم نے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے اور اگلے ماہ اکتوبر کی دس سے بیس تاریخ تک پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا جبکہ ہماری کوشش ہے کہ گلگت شہر کے بعد سکردو میں منصوبے کا آغاز کیا جائے جس کے لئے سروے مکمل ہو چکاہے اب صرف زمین کی الاٹ منٹ رہ گئی ہے جیسے ہی گلگت بلتستان حکومت زمین فراہم کرے گی سکردو میں بھی گیس فراہمی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا،ہماری کوشش ہے کہ سکردو میں بھی اکتوبر کی آخری تاریخوں میں گیس منصوبے کے کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے،وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے جنرل منیجر ایس این جی ایل آصف اکبر سے کہا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کام کی رفتار کو معمول سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ کیا جائے اور یہ بھی کوشش کی جائے کہ پائپ لائن بچھانے کے دوران ٹریفک کے نظام میں خلل  اور لوگوں کے نظام زندگی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

Saturday, September 28, 2019

Indian Army's terrorist in occupied Kashmir warns, 3 young martyrs


Indian Army's terrorist  in occupied Kashmir warns, 3 young martyrs

Indian Army warns of state terror market in occupied Kashmir


 Srinagar: Occupied Indian Army shot dead three Kashmiri youths during a so-called search operation.

According to the Kashmir Media Service, clouds of sanctions and repression on the Paradise Valley are deepening, with the state government of Modi not bashing Kashmiris. Three Kashmiri youths were martyred in Ganderbal district today.

The occupied Indian army closed the entry and exit routes during the so-called search operation in Ganderbal District and violated the sanctity of the sheet and the four walls, violating the basic human rights of the house.
Read this news: Kashmir should be resolved in accordance with UN resolutions, China

On the other hand, in the district of Ramban, a local BJP leader is also being searched as an excuse for kidnapping and kidnapping a passenger bus for a search operation conducted in Ganderbal.

It is to be noted that since the end of the special status in occupied Kashmir, the curfew has been in force since August 5, due to lack of food and livelihoods. Is.

Monday, September 23, 2019

چلاس حادثہ

افراد جاں بحق


چلاس: شاہراہ کاغان پر مسافر کوچ کے چٹان کے ٹکرانے کے سبب 10 فوجیوں سمیت 26 افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔
 اسکردو سے راولپنڈی جانے والی مسافر کوچ چلاس کے قریب بابوسر ٹاپ اور گیتی داس کے درمیان سڑک کنارے موجود چٹان سے ٹکرا گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام فوری طور پر پہنچ گئے۔
دیامر پولیس کنٹرو ل روم کے مطابق حادثے کے وقت کوچ میں 37 افراد سوار تھے جن میں سے 26 جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ دیگر زخمی ہیں، جن میں سے کچھ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
— Express News (@ExpressNesPK) Septembr 22, 201پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بابوسر ٹاپ حادثے کے بعد پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے زخمیوں کو چلاس سے گلگت پہنچایا، بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے26 افراد کی نعشیں سی ایم ایچ گلگت پہنچا دی گئیں جب کہ بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے دس فوجی جوانوں کی نعشیں بھی گلگت منتقل کی گئیں۔

Friday, January 18, 2019


سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر تحریری فیصلہ جاری کردیا

گلگت بلتستان میں آرٹیکل 124 کے برعکس کوئی حکم نافذ نہیں ہوسکتا،سپر یم کو رٹRelated image

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘ استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا پابند ہے‘ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ معاملے میں غیر معمولی کام کیا اس لئے سمری جاری کی جارہی ہے، گلگت بلتستان میں آرٹیکل 124 کے برعکس کوئی حکم نافذ نہیں ہوسکتا،گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کوئی شق ختم یا تبدیل نہیں ہوسکتی،گلگت بلتستان آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی نہیں ہوگی، ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائے، بھارت اور پاکستان زیر انتظام علاقوں کو حقوق دینے کے پابند ہیں۔ استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا پابند ہے۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں




Information , features, culture events and interesting stories

Saturday, January 12, 2019


 گلگت بلتستان میں ٹورزم یونیورسٹی کے قیام پر بھی غور کیا جارہا ہے ، علی امین خان گنڈا پور

Image result for Ali ameen Gandapur

آئینی حقوق کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام کی 70 سالہ محرومیاں دور کی جائیں گی


اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیر اُمورکشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پورنے کہا ہے کہ آئینی حقوق کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام کی 70 سالہ محرومیاں دور کی جائیں گی اور قومی سلامتی اور گلگت بلتستان کے عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق آئینی حقوق دیے جائیں گے،سیاحت اور معدنیات کے شعبے میں گلگت بلتستان میں خطیر بیرونی سرمایہ کاری کی اُمید ہے جس پر پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔ وہ جمعہ کو گلگت بلتستان کونسل کے ممبران سے بات چیت کر رہے تھے جنہوں نے وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان سے اسلام میں ملاقات کی۔ملاقات میں گلگت بلتستان کی مجموعی سیکورٹی صورت حال ،ترقیاتی منصوبوں اور آئینی حقوق کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہاکہ گلگت بلتستان کے لیے آئینی پیکج آخری مراحل میں ہے اور اس ضمن میں جلد پیش رفت متوقع ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ گلگت بلتستان کو قدرت نے بے پناہ خوبصورتی دے رکھی ہے اور گلگت بلتستان سیاحت اور معدنیات کے شعبے میں گلگت بلتستان میں خطیر بیرونی سرمایہ کاری کی اُمید ہے جس پر پیش رفت تیزی سے جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک ٹورزم یونیورسٹی کے قیام پر بھی غور کیا جارہا ہے جس سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں اس شعبے کے حوالے سے بے پناہ صلاحیت پیدا ہو گی۔ اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے چھوٹے پیمانے پر عام عوام کو قرضے دینے کے لیے بھی حکمت عملی بنائی جارہی ہے ۔ وفاقی وزیر نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں معدنیات کو خا م صورت میں برآمد کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ایسی مننرل پالیسی کی اشد ضرورت ہے جس کے تحت گلگت بلتستان کے معدنی وسائل کو خام صورت میں برآمد کرنے کی بجائے ان کو value added products/ finished goods کی صورت میں بیرون ملک برآمد کیا جائے جس سے ایک طرف ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہو گا تو دوسری جانب گلگت بلتستان میں اس شعبے سے متعلق انڈسٹری کے قیام سے روزگار کے بھی بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت گلگت بلتستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھرپور کام کرے گی اور کونسل ممبران سے بھی درخواست کی کہ وہ گلگت بلتستان میں تعلیم و صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے کرداراداکریں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ گلگت بلتستان میں بلین ٹری پروگرام کے تحت ایسے درخت لگائے جائیں گے جو پھل دار ہوں اور گلگت بلتستان کے موسمی حالات کے مطابق ہوں۔کونسل ممبران نے گلگت بلتستان کی ترقی وخوشحالی کے ضمن میں وفاقی وزیر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے ۔کونسل ممبران نے وفاقی وزیر کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ اس سے قبل کونسل ممبران نے وفاقی وزیر کو گلگت بلتستان کے دورے کی بھی دعوت دی۔ گلگت بلتستان کونسل ممبرا ن میں اشرف صدا، ارمان شاہ، سلطان علی خان، سعید افضل،وزیر اخلاق اور سید محمد عباس رضوی شامل تھے۔اس سے قبل گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کیپٹن (ریٹائرڈ)حاجی محمد شفیع نے بھی وفاقی وزیر سے ملاقات کی ۔ملاقات میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی عمل سے متعلق بات چیت کی گئی اس موقع پر کیپٹن(ریٹائرڈ) محمد شفیع نے وفاقی وزیر کو گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش مسائل سے بھی اگاہ کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے کیپٹن(ریٹائرڈ)محمد شفیع کو گلگت بلتستان کے عوام کو در پیش مسائل حل کرنے اورآئینی حقوق جلد دینے کا یقین دلایا۔
Information , features, culture events and interesting stories

Saturday, January 5, 2019

ہمنگ برڈ چونچ کوتلواربازی کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں

birds
ہ
برکلے، کیلیفورنیا: فطرت میں پائے جانے والے خوبصورت اورانوکھے پرندے ہمنگ برڈ کی چونچ اورزبان خاص طور پر پھلوں اورپھولوں کا رس اور شیرا چاٹنے کے لیے بنائی گئی لیکن وہ اس سے شمشیر زنی اور دشمنوں کو بھگانے کا کام بھی کرتے ہیں۔
اس دلچسپ تحقیق کی روداد جرنل آف انٹی گریٹو آرگینزمل بائیلوجی میں شائع ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے کے ماہرین نے ہمنگ برڈ کی تصاویر اور ویڈیو کو دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی امریکا کے کچھ نر ہمنگ برڈ اپنی چونچ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں تاکہ دوسروں کو ان کے کھانے کے ذخیرے یا ان کی ممکنہ مادہ سے دور رکھ سکیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی نے بہت دلچسپ ویڈیو بھی تیار کی ہے۔
https://gbnewsupdates.blogspot.com/
ہمنگ برڈ اپنی مخصوص نوک دار چونچ دوسروں کو چبھوتے ہیں جس سے وہ انہیں پرے دھکیلنے اور عین تلواربازی کی طرح بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اتنا تیزی سے ہوتا ہے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوپاتا اور اسی وجہ سے سائنس دانوں نے ان کی تفصیلی ویڈیو کو سلوموشن کرکے دیکھا ہے جس سے ہمنگ برڈ جیسے پرندے کی یہ نئی ادا بھی سامنے آئی ہے۔
اس طرح پہلی مرتبہ ہمنگ برڈ کی اس جنگجو صلاحیت سے ہم واقف ہوسکے ہیں۔ انہی ویڈیو کی بدولت ماہرین نے ہمنگ برڈ کی چونچ کے اندر آری یا دانتوں جیسے ابھار بھی دیکھے ہیں جو رس چوسنے کے کام نہیں آتے بلکہ انہیں بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
اگرچہ اس سے قبل ہم الوؤں، عقابوں اور چیلوں کو آپس میں لڑتا دیکھ چکے تھے لیکن سلوموشن ویڈیو سے پہلی مرتبہ جھگڑالو ہمنگ برڈ دیکھنے کو ملی ہیں۔

Information , features, culture events and interesting stories

Friday, January 4, 2019

  چلاس میں لڑکیوں کے سکول جلانے والے اور گلگت میں انجینئرنگ فیکلٹی کے سنگ بنیاد کی تختی توڑنے والے ایک ہی مائنڈ سیٹ سے تعلق رکھتے ہیں

https://gbnewsupdates.blogspot.com


گلگت ( جی بی نیوز اپڈ یٹ ) قراقرم انٹر نیشنل یورنیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ  کے لیکچرر شمس پارس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چلاس میں لڑکیوں کے سکول جلانے والے اور گلگت میں انجینئرنگ فیکلٹی کے سنگ بنیاد کی تختی توڑنے والے ایک ہی مائنڈ سیٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیلاس کی طرز پر گلگت کے شرپسندوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگاکے فوجی آپریشن ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں مزید کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک اس لئے بام عروج کو چھو رہے ہیں کہ وہاں معاشرے کے متمول افراد نے اپنی ذاتی جائیدادیں یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لئےوقف کر دئیے اور انہی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلباء نے علم اور آگہی کے ذریعے یورپ اور امریکہ کو متمدن اور جدید تہذیبوں میں ڈھالا اور آج یہی قومیں سیاسی، سماجی اورمعاشی ترقی کے لحاظ سے باقی دنیا کے لئے باعث رشک اور تقلید ہیں اور ہم اپنی علمی درسگاہوں کو آگ لگا کر اور عمارتوں کی بنیادیں ڈھا کےجہالت کی عمیق گہرائیوں کی جانب گامزن ہیں۔
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

Information , features, culture events and interesting stories

آصف زرداری اور پرویز مشرف کے خلاف این آر او کیس ختم


فائل فو ٹو

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری، پرویز مشرف اور سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک قیوم کے خلاف این آر او کیس ختم کر دیا۔ 
چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے این آر او کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے، آصف زرداری، پرویز مشرف، ملک قیوم کے اثاثوں کی تفصیل آچکی ہے، اومنی گروپ کیس میں بھی بہت پیش رفت ہو چکی ہے،اب قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔سپریم کورٹ نے فیروز شاہ گیلانی کی درخواست نمٹاتے ہوئے آصف زرداری، پرویز مشرف اور ملک قیوم کے خلاف این آر او کیس ختم کر دیا۔




 Information , features, culture events and interesting stories

Thursday, January 3, 2019


  نصاب ساز کمیٹی کے ممبران1921 ء میں شہزادہ ناصرالملک کے مرتب کردہ قاعدہ پر من و عن عمل کریں گے
گلگت ،کھوار زبان کے حوالے سے ایک اہم اجلس زیر صدارت وزیر سیاحت فدا خان فدا گلگت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں غذر سے سابق ممبر اسمبلی رائے سرفراز شاہ، پروفیسر زرنذیر، پروڈیوسر ریڈیو گلگت واجد علی، نمبردار ولی شاہ، ایڈوکیٹ نادر خان، شاہد اقبال، خان اکبر خان اشکومن سے سابق صدر احبابِ سخن کھوار سید عاشق حسین شاکر، مراد خان، تحصیل گوپس کے شیر افضل، تحصیل یاسین سے راجہ کرامت اللہ، ٹیرو سے حمید علی شاہ اور شمس الحق نوازش نے شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ نصاب سازی کیلئے کھوار کے نصاب سازی کمیٹی کے ممبران1921 ؁ء میں شہزادہ ناصرالملک کے مرتب کردہ قاعدہ پر مِن و عن عمل کریں گے البتہ غذر کے کھوار لہجے کو مقدم رکھنے کے پابند ہوں گے اور 1921 ؁ء میں مرتب کردہ کھوار قاعدے میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔آخر میں شرکائے اجلاس نے مقامی زبانوں کو نصاب میں شامل کرنے پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا




Information , features, culture events and interesting stories

Wednesday, January 2, 2019

جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان نامزد

جسٹس آصف سعید کھوسہ 20 دسمبر 2019 تک چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر فائز رہیں گے. فوٹو:فائل
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار 17 جنوری کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ ہوں گے، وزارت قانون نے چیف جسٹس نامزدگی کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی تھی، جس کی منظوری صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے دے دی ہے۔
جسٹس آصف سعید چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے عہدے  کا حلف 18 جنوری 2019 کو اٹھائیں گے، حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوگی، اور جسٹس آصف سعید کھوسہ 20 دسمبر 2019 تک بحثیت چیف جسٹس آف پاکستان منصب پر فائز رہیں گے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے ہی حاصل کی، بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا، اور جامعہ پنجاب سے انگریزی میں ایم اے کیا، جب کہ برطانیہ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1976 میں وکیل بنے۔
جسٹس آصف سعید نے لاہور ہائیکورٹ میں ہزاروں آئینی، مجرمانہ، سول، سروس اور آمدنی کے کیسز کی سماعت کی، تاہم انہیں  سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے توہین عدالت کے مقدمے سے شہرت ملی، انہوں نے صرف 4 سال میں جرائم کے 11 ہزار کیسز نمٹا کر تاریخ رقم کی،  جب کہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کیس پانامہ کیس کا فیصلہ سنا یا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو نااہل قرا ر دینے کی سفارش کی تھی

Information , features, culture events and interesting stories

Saturday, February 3, 2018

ویدر چارجز کی سمر ی | گلگت بلتستا ن کے سرکاری ملازمین کے لئے خوشخبر ی

وزیراعلیٰ نے ویدر چارجز کی سمر ی پر دستخط کر دیئے

 



ویدر چارجز کے تحت سرکاری ملازمین کو 75کروڑ کی رقم مختص کی گئی ہے وزیر اعلی کی جانب سے سمری پر دستخط کے بعد ماہ فروری کی تنخوا میں سرکاری ملازمین کو ویدر پالیسی کے تحت رقم ملے گی

وزیر اعلی گلگت بلتستان نے ویدر چارجز کی سمر ی پر دستخط کر دیئے،سمری کے تحت گلگت بلتستان کے لگ بھگ45000ہزار ملازمین کو ویدر چارجز کی رقم ملے گی ،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے گزشتہ روز ویدر چارجز کی سمری پر دستخط کر دیے اس پالیسی کے تحت گلگت بلتستان کے تمام سرکاری ملازمین مستفید ہوں گے ،سابقہ حکومتوں کے ادوار میں سرکاری ملازمین کی ویدر چارجز کی پالیسی کے تحت بڑی تعداد میں ملازمین اس سہولت سے محروم تھے ،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے از سر نو پالیسی ترتیب دی جس کے تحت چھوٹے سرکاری ملازمین کے الاونس میں اضافہ کیا اور جن ملازمین کو اس سہولت سے محروم رکھا جا رہا تھا انہیں بھی اس پالیسی میں شامل کیا گیا ،ویدر چارجز کے تحت سرکاری ملازمین کو 75کروڑ کی رقم مختص کی گئی ہے وزیر اعلی کی جانب سے سمری پر دستخط کے بعد ماہ فروری کی تنخوا میں سرکاری ملازمین کو ویدر پالیسی کے تحت رقم ملے گی ۔وزیر اعلی کے اس اقدام پر گلگت بلتستان کے سر کاری ملازمین نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پالیسی سے تمام سرکاری ملازمین اور بالخصوص چھوٹے سرکاری ملازمین کو معاشی فائدہ ہوگا

Information , features, culture events and interesting stories

Monday, January 29, 2018

District Head Quater Gahkuch |Singul Power projects

غذر،گلمتی اور سینگل میں کروڑوں کی لاگت کے پاور منصوبے التوا کا شکار

 

دونوں منصوبوں کے چینل کے پائپ بھی جگہ جگہ پڑے ہیں مگر تاحال چینل کی تعمیر کا کام بھی شروع نہ ہوسک

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ 


غذرگلمتی اور سینگل میں بجلی کے کروڑوں روپے کے منصوبے التوا کا شکار دونوں منصوبوں کے لئے خریدی گئی کروڑوں می مشنری گلمتی کے قریب مین روڈ پر زنگ الود ہورہی ہے دونوں منصوبوں کے چینل کے پائپ بھی جگہ جگہ پڑے ہیں مگر تاحال چینل کی تعمیر کا کام بھی شروع نہ ہوسکا علاقے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کو ذہینی مریض بنا دیا اشکومن پاور ہاوس کے ایک مشین نے بھی جواب دیدیا غذر میں اس سے قبل بجلی کی اتنی لوڈ شیڈنگ کبھی نہیں ہوئی تھی جو اس سال ہے حالانکہ 2017میں سہلی ہرنگ اور تھوتی پاور پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کے باوجود اس سال تاریخ کا طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے اور جو بجلی آتی ہے اس کی وولٹیج بھی اتنی کم ہوتی ہے کہ بجلی کے ساتھ ساتھ عوام نے زمانہ قدیم کے لائٹین استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے اورفوٹو سٹیٹ اور موبائل شاپس کا کاروبار کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثرہیں دوسری طرف محکمہ برقیات نے اپنے من پسند افراد کو سپیشل بجلی کی لائینوں سے نوازا ہے اوربعض سرکاری آفسیران کو بھی سپشیل بجلی کی لائینیں فراہم کر دی گئی ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ گاہکوچ اور پونیال میں ہوتی ہے عوام نے گندم کی پسائی کے لئے ایک بار پھر پن چکیوں کارخ کر دیا ہے
 گاہکوچ شہر میں کروڑوں روپے کی لاگت سے سٹرک کے کنارے فلک پوش قسم کے صرف بجلی کے پول لگتے نظر آتے ہیں مگر بجلی کئی نظر نہیں آتی ان بجلی کے پول لگنے سے گاہکوچ مین بازار کی سڑک مزید تنگ ہوگئی ہے اور اگر گلگت گاہکوچ سڑک کی تعمیر شروع ہوئی تو کروڑوں کی لاگت سے لگائے گئے یہ پول پھر سے اکھاڑنے پڑینگے غذر میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے ہر شہری پریشان ہیں مگرزمہ داران مکمل طور پر خاموش ۔ حالانکہ غذر میں بجلی کے اہم منصوبوں پر کام کچھوے کی رفتا ر سے جاری ہے


By Atiullah
atiullah315@gmail.com
Information , features, culture events and interesting stories

Portable Hand Held Hanging Steam

مشہور اشاعتیں